Showing posts with label عبد المعید ازہری. Show all posts
Showing posts with label عبد المعید ازہری. Show all posts

Tuesday, February 13, 2018

आतंकवाद पर लगेगी लगामA Decision Countering Terrorism دہشت گردیپر کسے گا شنکنجہ


انسداد دہشت گردی کے باب میں ایک نیا فیصلہ
عبد المعید ازہری

مکرمی!
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام کے نام پر ہو رہی دہشت گردی کا شکار سب سے زیادہ خود مسلم قوم ہے۔عرب ممالک کے علاقہ خود پاکستان و بنگلا دیش اس کے واضح ثبوت ہیں۔جہاد کے نام پر ہونے والے انسانی خون کی سیاست کے خلاف یوں تو مسلم تنظیمیں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، لیکن بنگلا دیش کی دہشت گردی کی روک تھام کی قومی کمیٹی کی اگوائی میں بنگلا دیش مدرسہ تعلیمی بورڈ نے اس بابت ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ جو انسداد دہشت گردی کے باب میں مشعل اور رہنما اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔اسلامی مدارس میں برسوں سے رائج نصاب سے ’جہاد‘کے موضوع کو سرے سے خارج کرنے کا یہ فیصلہ بنگلا دیش کے مسلم نوجوانوں کو انتہا پسندی کا شکارہونے سے بچانے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اور لائحہ عمل کی طرح سامنے آیا ہے۔حالانکہ اس پر ملا جلا رد عمل ہے۔ لیکن اس پر غور بھی کیا جانے کا محل ہے۔تعلیمی بورڈ مزید ،جہاد سے متعلق الفاظ، جملوں اور ان ترجموں پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ہے جس سے اسلام ایک انتہا پسندی اورتشدد کا مذہب تصور کیا جائے۔

Abdul Moid Azhari

(Journalist, Translator, Motivational Speaker/Writer)
                          +919582859385

@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Saturday, June 3, 2017

دعوت وتبلیغ کے چند فراموش پہلو Few skipped ways of Dawat दीन के प्रचार के कुछ भूले हुए सबक़


دعوت وتبلیغ کے چند فراموش پہلو

عبد المعید ازہری


تاریخ انسانی میں جب کبھی بھی حق و باطل کی بات ہوتی ہے اس میں چند نام بطور مثال پیش کئے جاتے ہیں۔ جیسے ابراہیمؑ کے ساتھ نمرود کا اور موسیٰؑ کے ساتھ فرعون کا۔ یوں ہی حسین ؑ کے ساتھ یزید کا۔ مشہور کہاوت ہے ’لکل فرعون موسیٰ‘۔ایسے اشعار بھی ہیں۔ ’ہر دور میں اٹھتے ہیں یزیدی فتنے، ہر دور میں شبیر جنم لیتے ہیں‘ ،’ فرعون کا سر جب اٹھتا ہے کوئی موسیٰ پیدا ہوتا ہے‘۔ان کہاوتوں اور مثالوں کے پیچھے کچھ مثالی روایتیں ہیں۔ در اصل وہی سب کودعوت فکر دیتی ہیں۔قرآن ان افکار و روایات کا امین ہے۔قرآن اور اس کی دعوت ہر دور میں، از ازل خدائی فرمان اور اس کا محبوب عمل رہا ہے اور تا ابد یہ رہے گا۔ جب تک قرآن کی بقا ہے، اس وقت تک اس کی دعوت کا تسلسل ہے۔ خدا کریم قرآنی آیات و نبوی ارشادات کے ذریعہ اپنے محبوبین کو اس کار خیر کیلئے منتخب کرتا رہتاہے۔اسے خیر امت سے یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ امت کے اچھے لوگ ہیں جو اچھی باتوں کی ترغیب دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اچھے لوگ ہیں۔ ان کی اچھائی پہلے ان کی سیرت کو نکھارتی ہے۔ ان کے قلب کو صاف کرتی ہے۔ وہاں جب حق کا نور پہنچتا ہے تو ان کے اخلاق و کردار سے اس نور کی ضو فشانی ہوتی ہے۔ اسی کا اثر ہوتا ہے۔ ورنہ ایک ہی بات کو دسیوں لوگ کہتے ہیں لیکن اثر کسی ایک کا ہی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلے اپنی زندگی نبوی تعلیمات کے نور سے روشن کرتے ہیں اس کے بعد انعام خداوندی ہوتا ہے کہ اب بولو! زبان تمہاری ہوگی بولنا رب کا ہوگا۔آنکھیں تمہاری ہوں گی نظر رب کی ہوگی۔ اقدام تمہارا ہوگاتکمیل اس کی ہوگی۔
دعوت کی فکری تصویر اس کی حکمتیں بڑی آسان ہیں لیکن اس پر عمل اتنا ہی مشکل ہے۔ لیکن ارادہ کرنے والوں کیلئے وہ بھی آسان ہے۔ قرآن نے سیدھا اس کا ایک طریقہ بتایا ہے۔ ’رب کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی وعظ ونصیحت کے ساتھ بلاؤ۔جب جدال کی نوبت آئے تو سب سے احسن طریقے سے کرو۔ اس کے عملی ثبوت پیغمبرروں کی زندگیوں میں ملتے ہیں۔ان سے ان کے محبوبین نے سیکھ کر خدا کے بندوں تک پہنچایا۔ پیغمبر اسلام کی مکمل زندگی کو رب کریم نے زندگی کے لئے بہترین نمونہء عمل قرار دیا ہے۔اس عظیم محسن انسانیت کی زندگی کے ہر ہر لمحے سے زندگیوں کی سوگات ملتی ہے۔ یہ خداکا بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے محبوب کی زندگی کے ہر شعبے کو اس کی امت کیلئے بقید تحریر و بیان کر دیا ہے۔جن کے نقوش ہر قدم پر نسل انسانی کی رہنمائی کر رہے ہیں۔آپ کے اوپر کوڑا پھینکے والی ضعیفہ کے ساتھ آپ کا حسن سلوک ایک واحد نمونہ نہیں ہے۔ ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ایک واضح اور غالی منافق کی قبر میں اپنی چادر ڈال کر انسانی کرامت کے تئیں اعلیٰ معیار کی حکمت عملی کی مثال پیش کی۔ اعلان نبوت سے پہلے مکی زندگی میں کعبہ کی زیارت کے لئے آنے والے زائرین کی حفاظت کیلئے ایک جماعت ترتیب کی گئی تھی جس میں آپ کا بھی نام تھا۔ اعلان نبوت کے بعد مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد ملی مسائل اور خدمت خلق کے جزبے کی ترغیب کی خاطر آپ نے فرمایا اگر آج بھی اس جماعت میں شریک ہونے کا موقعہ ملے تو خوشی سے شامل ہو جاؤں۔ اسی طرح جن اہل مکہ نے آپ اور آپ کے اصحاب پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئے ان پر غلبہ پانے کے بعد نہ تو آپ نے ان کو جبرا اسلام میں داخل کیا اور نہ ہی ان سے بدلہ لیا۔ بلکہ سب کو انتم الطلقاء کہہ کر آزادی کا پروانہ دے دیا۔زکوٰۃ و عطیات کا مال ان کو دیا جنہوں نے آپ کے اصحاب کے خلاف سازشیں کی تھیں۔
نبیوں کی آمد کے تعلق سے جو حکمت بیان کی گئی ہے وہ بھی دعوت ہی بتائی گئی ہے۔ فرعون کا شر جب برھ گیا۔ جرم وجرئت، گستاخی و بد عنواکی حدوں کو جب فرعون نے عبور کر لیا، تو رب تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو بھیجا۔ بھیجتے وقت فرمایا ۔ ائے موسیٰؑ و شعیب ؑ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ باغی ہو گیا اورخدائی کا دعویٰ کر چکا ہے۔ اور ہاں اس سے نرمی سے گفتگو کرنا۔کیونکہ نرم گفتگو اصلاح کے امکانات بڑھا دیتی ہیں۔ اس واقعہ پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ فرعون کی شر انگیزی کو آج کون پہنچ سکتا ہے۔ اور پیغمبروں کی سیرت بھی ہماری رسائی میں نہیں۔ رب کو خوب معلوم ہے کہ فرعون سدھرنے والا نہیں۔ اس کے باوجود پیغمبروں کو فرعون کے پاس بھیجنے کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ نرمی سے گفتگو کرنا۔ آج اس سے تمام داعیوں کو سیکھ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف جرم و گستاخی کی انہتا جس کی وضاحت قرآن کرتا ہے کہ انہ طغی۔ دوسری طرف پیغمبران خدا جن کی عصمت کا ضامن خود خدا کریم ہے، اس کے باوجود نرم گفتگو کی تلقین! بہت کچھ بیان کرتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں نہ ہی موسیٰؑ و ہارون ؑ جیسے کردار ہیں اورنہ ہی فرعون جیسی بغاوت ہے اس کے باوجود ہمارے معاملات ہمیں دعوت فکر دے رہے ہیں۔ہم کس طرف جا رہے ہیں۔
جبر کا بدلہ اور اس کی اصلاح کبھی جبر سے نہیں ہوئی اسی طرح گستاخی کو گستاخی سے ختم نہیں کیا گیا ہے۔کسی کی گستاخی پر ہمارا آج کا رد عمل اور اصلاح کا طریقہ ہمیں خود بھی گستاخ بنا رہا ہے۔ایک سوال امت کے ہر ذمہ دار فرد سے ہے کہ کسی کے جرم کی داستان بیان کرنے یا اسے مجرم قرار دینے سے پہلے کیا ہم نے کبھی اس سے اس کے جرم کے بارے میں بات کی ہے۔ اسے دعوت اصلاح دی ہے۔اگر ایسا نہیں تو کیا ہمیں اسے برا کہنے اس کی برائی کا اعلان کرنے اور اس میں اپنی ساری محنت صرف کرنے کا حق ہے؟
ایک مسئلہ اور بھی پریشان کن ہے۔ عام طور پر گستاخوں اور مذہبی مجرموں کے تعلق سے الگ الگ روایتیں سننے کو ملتی ہیں۔ کسی کی صحت اور یا عدم صحت کے بارے میں بات کرنے کی بجائے ہمیں اس بات کی وضاحت طلب ہے کہ ایسی روایت کب ،کیوں اور کہاں بیان کرنی چاہئیں۔ گستاخون کے بارے میں اکثر مقررین کا خیال ہے اور اب تو دھڑلے سے یہ سوشل میڈیا پر بھی تحریر نظر آئی ہے کہ ہر گستاخ کی نسل خراب ہوتی ہے۔اسیے کئی پیغمبر اور ان کے اہل و عیال گذرے ہیں جن کے اہل خانہ نے ایمان لانے سے انکار کر دیا ۔ اب ان کی نسل کے بارے میں اس روایت کے ساتھ کہاں تک انصاف کر پائیں گے۔ گستاخی یقیقنا جرم عظیم ہے۔ لیکن اسے ثابت کرنے اور اسے اطلاق کرنے کا حق کس کو ہے؟
پیغمبر اسلام کی زندگی اور ان کی نمائندگی کرنے والے صوفیاء کی زندگی ہمیں اس بارے میں فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ جرم کو جرم سے اور گستاخی کو گستاخی سے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔’گستاخ نبی کی ایک سزا ، سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘ کا نعرہ دینے کے ساتھ اس بات کی کی وضاحت اشد درکار ہے کہ اس کا حق کسے اور کب ہے۔کو ن گستا خ ہے اور کس کی گستاخی کس درجے کی ہے اس کے کیا اصول ہیں، اس بارے میں کوئی متفق علیہ لائحہ عمل یا کیا حکمت عملی ہے؟
اصحاب کرام میں کئی اسیے لوگوں کی مثالیں ملتی ہیں جنہوں دور نبوی میں بھی آپ کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کیا۔ شدت کا رخ اختیار کیا۔ یہ اس وقت کی بات تھی۔ اس میں ایک نام حضرت عمرؓ کا ہے۔ لیکن انہیں عمر کی زندگی کے ان پہلوؤں سے ہماری نظر ہٹ گئی جب انہوں نے گھر میں پوچھا کہ کھانا پڑوسی کو پہنچا دیا گیا۔ جواب ملا وہ تو دین کا دشمن اور نبی کا گستاخ ہے۔ آپ نے فرمایااس کا معاملہ الگ سے نپٹیں گے لیکن چونکہ وہ ہمارا پڑوسی ہے اسلئے پڑوسی والا معاملہ بھی ادا کریں گے۔ آج شاید تشدد کی جگہ تصلب کی ضرورت ہے۔
دیگر قوموں میں قوم مسلم کے تعلق سے بڑھتی نفرتوں کی وجہ یہ بھی ہے اس قوم نے نبوی سیرت کے مطابق خدمت خلق میں اپنی نمایا حصہ داری ختم کر دی۔ اپنے معاشرے کے ملی مسائل اور قوم ہم آہنگی میں اس قوم کی شرکت واضح نہیں ہے۔ دوسری بڑی وجہ تعلیم ہے۔ جس قوم کی بنیاد ہی اقراٗہو اس میں علمی فقدان
!ہیف سد ہیف!
علم و تربیت ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔نبوی تعلیم و سیرت کی تربیت ہی علم کے صحیح استعمال اور اس سے مستفید ہونے کا راستا ہموار کر سکتے ہیں۔اصل دین کی طرف رجوع وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ صوفیاء اور بزرگوں کے طرز عمل کو پھر سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ اسی میں امن ہے۔

Sunday, May 28, 2017

اس فرقہ بندی میں فائدہ کس کا ہے؟


اس فرقہ بندی میں فائدہ کس کا ہے؟
عبد المعید ازہری

امت مسلمہ کا بکھرتا ہوا شیرازہ اور اس بکھراؤ پر نہ صرف فخر کرتے رہبران بلکہ اسے قرآن و احادیث کے ذریعہ کار خیر گرداننے والے چند زاہد خشک کی اس کج روی نے پستی، ذلت اور تباہی کے ایسے راستے کھول دئے ہیں جن کے بارے میں مجاہدین اسلام نے تو کم سے کم تصور نہیں کیا تھا۔ چند فتنہ پرور افکار نے اسلام کے تقدس اور تعلیم وحدت و اخوت کے فلک بوس قلعہ کو زمیں بوس کرنے کا منصوبہ بنایا۔کچھ نفس پرست نام نہاد منافق صفت مسلمانوں نے اپنے ایمان کا سودا کیا لیکن بعد میں اس منصوبے کو فروغ دینے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ علم و فکر سے عاری اور خالی مادیت پرست اور عالمی بحران کا شکار قوم مسلم نے اسے عبادت کی طرح فروغ دیا۔ پچھلے سو برسوں میں جتنا سرمایہ، علمی و فکر ی طاقت، بچا ہوا وجدان اس فرقہ پرستی اور گروہ بندی کو فروغ دینے میں صرف ہوا اگر اس کانصف یا پھر اس کا بھی نصف اس امت کی علمی و فکر ی تعمیر میں صرف ہوتا تو شرعی مسائل کی حکمت ودانائی سمجھانے کیلئے ہماری زبانیں دلائل و براہین سے قاصر نہ ہوتیں۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ آج ایک دس سال کے بچے کو قوم مسلم کے درمیان مذہبی شیرازہ بندی کا تو علم ہے لیکن اسی نوجوان سے جب لاکھوں ناظرین کی آنکھوں کے سامنے ٹی وی پر آنے والے نہایت ہی مشہور شوکون بنے گا کروڑ پتی میں یہ سوال ہوتا ہے کہ تمہارے نبی کے والد کا نام کیا ہے تو سر نیچے جھکا لیتا ہے۔ اس دن وہ سر ایک نوجوان کا نہیں جھکا تھا بلکہ پوری قوم اور اس کے رہبران کا جھکا تھا ۔کتنے فرقے ہیں، کس کا کیا عقیدہ ہے، کس گروہ نے کتنے مناظرے کئے ، جیتے اور دوسرے فریق کو کب کہاں اور کیسے چٹخنی دی، اس کی وہمی اور فریبی داستان تو زبانی مل جائے گی لیکن قوم مسلم کی فکری اور وجدانی حفاظت کیلئے پیغمبر اسلام کی سیرت کسی کو یاد نہیں۔ خود پیغمبراسلام نے واضح گالی دینے والے منافق کی قبر میں اپنی چادر پیش کر کے جو پیغام دیا وہ انہیں کی امت نے پس پشت ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شریعت نے ہمیں یہ تو بتا دیا کہ طلاق کی تین صورتیں ہیں۔ حلالہ ایک انتباہ اور گناہوں سے رروکنے کا ایک باندھ ہے۔ یہ عقیدہ تو ہے کہ اسلام کا ہر عمل اور اقدام کسی حکمت سے خالی نہیں۔ اور وہ حکمت بھی انسانی فلاح و بہبود سے پرے نہیں۔ لیکن ان حکمتوں کو سمجھانے والا کوئی وکیل نہیں ۔جو پوری دنیاکو نکاح و طلاق،فسخ و خلع اور حلالہ کے پیچھے اس حکمت کو واضح کر سکے ۔ جس میں نسل انسانی اور کرامت آدمیت کی ضمانت ہے۔یہ علمی و فکر بحران نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ اپنے ہی مسائل سمجھنے کیلئے ہمیں دوسروں کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔کیا کوئی ایسا مسئلہ ہے جس کا مکمل (بقدر انسانی)علم آج کی مسلم دانشوری بالخصوص علماء و مشائخ کے پاس ہو جو عالمی طور پر اس کی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ پیش کر سکیں۔ اسی جگہ اگر ایک دوسرے کے خلاف کوئی مسئلہ در پیش ہو تو تاریخیں مستند یاد نظر آتی ہیں۔ اگر وہ مسئلہ اپنوں کے درمیان رات کے جلسوں میں سنانا ہو تو سونے پر سہاگا۔
آخر یہ امت اس فکری پستی سے کب باہر نکلے گی۔ سارا وقار تو تار تار ہو چکا ہے۔ اب کس کا انتظار ہے۔ دین کی حفاظت کے نام پر اٹھائے گئے جہالت بھرے اقدام نے مظلوموں کی آواز کو مجرم بنا دیا۔ایک طرف دین کی حفاظت کے نام پر بے گناہوں کا قتل و خون اور معصوموں کی غارت گری نے دین کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیا۔ دوسری طرف دین کے نام پر دین کے جبرا بہتر ٹکرے کرنے والوں نے ان سوالوں کو زبان دے دی۔ یہ بات ان لوگوں کو سمجھ میں کب آئے گی کہ دین کو خطرہ یا اس سے دشمنی کب نہیں تھی۔ہر دور میں ایسے لوگ آئے ہیں جنہوں نے دین کے روشن چراغ کو بجھانے کی کوشش کی۔ لیکن ناکامی تقدیر بن گئی۔ قرآن میں جب اس بات کی واضح صراحت ہے کہ اسے نازل کرنے والا خود خالق کائنات اور اور اس کا محافظ بھی وہی۔ از ازل تا ابدوہی اس کا محافظ ہے۔ تو دین کو کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے۔ البتہ دین کو آج سب سے زیادہ نقصان اس کے دین داروں سے ہی ہو رہا ہے۔آج امت مسلمہ کا زمین بوس وقاردیکھیں۔ ہزاروں ٹکڑوں میں بکھری صفیں ملاحظہ کریں۔افسوس و الم سے سینہ چاک ہو جائے گا اس واقفیت پر کہ یہ سب دین کے نام پر ہوا۔ بلکہ اس کی حفاظت کے نام پر یہ سب تماشہ ہوا۔ جانے انجانے لوگ خدائی کا دعوی کر بیٹھے۔ کفر و شرک، بدعت و گستاخی کا کاروبار کرنے لگے اور اس پر دین کی حفاظت، قرآن و احادیث سے اس کی بے جا اور غلط تفسیر سے اپنی ہی قوم کو دھوکہ دینے کا دھندہ شروع کر دیا۔ اس کے خریدار بنائے گئے۔ اسے مفت اور نفس و ہوس کے ساتھ مادیت کی دلچسپی سے فروغ بھی ملتا رہا۔ نتیجہ سامنے ہے۔علم اٹھتا گیا، فکر مرتی گئی۔ تقریبا دوسو برسوں کی اس مدت میں جب روحانیت کو قوم مسلم کے قلوب و اذہان میں پناہ نہیں ملی تو دین کی رہنمائی کے نام اور سوداگر پیدا ہونے لگے۔ بعض کی محرومیت اتنی زیادہ شدید ہو گئی کہ دلالی پر اتر آئے۔ہزاروں دوکانیں رنگ برنگی آرائش و زیبائش کے ساتھ جنت بیچنے لگیں۔ کسی نے چلے سے بیچا توکسی نے دست بوسی سے ۔کسی نے گالی اور پیغمبری میں نقص نکالنے سے۔ سب کا اتحاد اس بات پر تھا کہ ان میں کسی کے ساتھ بھی ہو جاؤ خالی مت رہو۔ تعلیم و تعمیر کی طرف جانے کو سب نے گناہ عظیم قرار دیا۔ اتحاد اور ہمدردی سے بچنے کی سب نے تلقین کی۔ہم اچھے اور باقی سب برے ہیں کا درس سبھی خام خوا ہوں شرگاہوں اور پر فتن درس گاہوں نے مل کر دیا۔دین کی سودے بازی میں ہوڑ لگ گئی۔عزت، غیرت اور ایمان سب کچھ ختم کر دیا۔
امید ابھی باقی ہے۔ہر طلوع ہونے والا سورج غروب ہوتا ہے۔ ایک نیا سورج پھر سے نکلتا ہے۔ ضوفشانی ہوتی ہے۔نور پھیلتاہے۔ ضرورت ایک ایسے معاشرے کی ہے جہاں دین کی حفاظت خود کی ذات ، اخلاق و اعمال اور کردار و افکار سے ہو۔ جہاں دینداری ٹھیکے داری سے نہیں سیرت نبوی سے طے کی جائے۔ جہاں حلف الفضول، میثاق مدینہ،بیعت رضوان،ایک منافق کے ساتھ نبوی سلوک اور قرآنی ارشاد کی روشنی میں ایک کلمہ کی طرف دعوت قوم کی رہنمائی کرے۔جہاں شرافت چولے لباس وضع قطع سے نہیں بلکہ علم،فکر، وجدان اور سیرت سے قربت کی بنیاد پر ہو۔وہم وگمان کی دنیا سے باہر نکل حقیقت کی زمین پر کھلی آنکھوں سے قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ جھوٹے اور تقریر فروش تاجر صفت مبلغین سے دین سیکھنے کی بجائے قرآن اور حدیث اور بالخصوص سیرت کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے آج بھی صوفیاء کی تعلمات رہنمائی کر رہی ہیں۔
کسی کی تحقیر یا تعظیم میں جھوٹی روایت گڑھنے والے دین فروش مقررین نے ایک ایسے دین کو فروغ دینے کی روش قائم کر دی ہے جہاں اصل دین کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ شخصی مدح سرائی نے خدا کی حمد کو پرانے بوسیدہ اوراق میں ڈال دیا۔ نعت گوئی کو مناظرہ کی شکل دے دی۔ بادشاہوں اور امیروں کی شان میں پڑھے جانے والے قصیدوں کو منقبت کا نام دے کر ذاتی مدح سرائی میں اس قدر غلو کر جاتے ہیں کہ کب صاحب مدح کو انسانیت سے خارج کر نوری مخلوق بنا دیتے ہیں خبر ہی نہیں ہوتی۔یہ صرف اسلئے کیونکہ جہالت نے اتنی سختی سے قدم پکڑ لئے ہیں کہ لا علمی علم اور لادینی دین تصور ہونے لگا ہے۔
اکیسویں صدی کا نوجوان اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ وقت و حالات کی نازکی سے واقف ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت یسے اقدام کی ضرورت ہے۔ عقیدت کی پر فریب منڈی میں اگر یوں ہی بک گئے تو کل کیا منہ دکھائیں گے۔ کب تک پردے ڈالنے کا کام کرتے رہیں گے۔ جب حق واضح ہو گیاتو زبان کی خاموشی ظلم ہے۔ اس کی اتباع اس سے بڑا ظلم ہے۔ سب اپنے اپنے نہاخانوں میں بیٹھے کسی بڑے انقلاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ کس مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔کربلا کے مجاہد اعظم کا قول اگر کانوں تک پہنچے تو اپنی سرگوشی کو آواز دو کسی کا انتظار کرنے کی بجائے کسی کا انتظار ختم کرو۔وہ آواز تھی کہ ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے قربانیاں اتنی زیادہ دینی ہوں گی۔
آج کی فرقہ بندی نے تو اصل مسئلہ ہی کہیں دفن کر دیا۔اچھے اور سچے لوگوں کی جد جہد کو یکسر فراموشی ان کے نصیبے میں ڈال دی گئی۔ہر گروہ کے اپنے لوگ بھی اصل مسئلے سے واقف نہیں۔جنہیں علم ہی نہیں انہیں بھی ٹھیلے میں رکھ کر ایک رنگ دے دیا گیا اور اس کی ایک قیمت طے کر دی گئی۔اس گروہ بندی سے ان نام نہاد زر پرست لوگوں کا وقتی فائدہ تو ہوا لیکن نقصان اور خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔
سب اسی بات کا انتظار کر رہے کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ سبھی اسی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس آفاقی بات کو بھول کر کہ سبھی ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ پوری دنیا کیا کر رہی تھی یہ سوال نہیں ہونا ہے۔ ایسے میں ہر منفر د شخص کیا کر رہا تھا سوال یہ ہونا ہے۔
طے یہ کرنا ہے کہ خاموش رہ کر ظلم کا ساتھ دینا ہے یا بول کر اپنے آپ کو الگ کرنا ہے۔ دل میں برا جان کر بولنے پر قادر ہوتے ہوئے خاموشی اور بڑی تباہی
کو دعوت دے رہی ہے۔ 
یہ میری سوچ اور فکر ہے۔ عقیدہ نہیں ۔غلط ہوں تو اصلاح درکار ہے۔ صحیح ہوتو بھی اصلاح ہی مقصوف ہے۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385