Showing posts with label Nationalism. Show all posts
Showing posts with label Nationalism. Show all posts

Tuesday, February 13, 2018

یکجہتی کی مسدود راہیںBlocked Ways of solidarityएकजुटता के बंद रास्ते


کیا یکجہتی کی سبھی راہیں مسدود ہو گئیں؟
عبد المعید ازہری

کچھ لوگ خدا کو مسجد، مندر، گردوارے اور چرچ میں تلاش کرتے ہیں تو کچھ لوگ اسے اپنے من اور کائنات کے ہر ذرے میں اور یا ان ذروں سے محسوس کرتے ہیں۔ مندر و مسجد اور گردوارہ و چرچ کے تقاضے اپنی جگہ اور انسانیت اور اس کے مطالبات اپنی جگہ ہیں کیونکہ انسانی ہمدردی ہر جگہ یکساں ہے۔ انسان، خالق انسان اور کائنات کی فطرت یعنی گنگا جمنی تہذیب کا بھی یہی فلسفہ ہے۔انسانیت اور انسانی تہذیب کی یہ بنیادی فہم و فراست ہمارے ملک کا اٹوٹ حصہ رہا ہے جس کی امیدیں ابھی تک برقرار ہیں۔ گاہے بہ گاہے اس کی عملی مثالیں ملتی رہتی ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ ابھی ملک کا وقار زندہ ہے۔ کیونکہ یہاں کہ انسانی تہذیب ابھی زندہ ہے۔ہزاروں مربع میل میں پھیلی ہوئی ملک کی زمین کے کئی کونوں میں ایسے سیکڑوں سنسکرت اور سناتن دھرم کی تعلیم والے ادارے مل جائیں گے جہاں صرف رام ہی نہیں پڑھتے ہیں بلکہ کئی رحیم بھی پڑھتے ہیں۔ جہاں پڑھنے والے رحیم کو ان کے نماز کے وقت خصوصی رعایتی چھٹی ملتی ہے وہیں رحیم اس اسکول کی روایتوں کا لحاظ کرتے ہیں۔ پڑھنے والے طلبہ اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو اچھی تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت مل رہی ہے۔سنسکرت کے اشلوک، قومی اور علمی ترانے ان کے علمی اور ملکی رجحان میں اضافہ کرتے ہیں۔وہاں موجود دیگر طلبہ جن میں رام، گرو اور جانسن ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ایک مخلوط تہذیب میں تربیت پا کر ملکی تہذیب پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح سیکڑوں مدرسے ہندوستانی تاریخ سے سینے میں دل کی دھڑکن کی طرح دھڑک رہے ہیں جہاں رام نہ صرف اردو پڑھتے ہیں بلکہ اس کی محبت کی زبان وبیان کا لطف لیتے ہیں۔آج مدارس تکنیکی سہولتوں سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں نہایت ہی موثرہو رہی ہیں ۔ اس لئے علم و اداب کی تلاش کرنے والا کوئی بھی طالب علم بالخصوص ہندوستانی باشندہ خالص اور معیاری علم کے حصول کے لئے کسی بھی طرح کے تعصب و تشدد کے گریز کرتا ہے اور ملک کی مخلوط تہذیب کو فروغ دیتا ہے۔یہ ہمارے ہی ملک کی خاصیت ہے جہاں اس طرح کے مختلف اور متعدد سنگم دیکھنے کو ملتے ہیں۔اسی تعلیم و تربیت کا پروردہ آگے بڑھ کر بین المذاہب رواداری کو فروغ دیتے ہیں۔ منافرت کو ختم کرنے کے لئے آپسی بات چیت کے دروازے کھولنے ہیں۔

Abdul Moid Azhari

(Journalist, Translator, Motivational Speaker/Writer)
                          +919582859385

@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Humanity or Political Diversionsانسانی اتحاد یا سیاسی انتشار मानवता या सांप्रदायिक राजनीति


ملکی و انسانی اتحاد یا آئین مخالف سیاسی انتشار
عبد المعید ازہری

یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک عام مسلمان اور غیر مسلم کے رہن سہن اور ان کے سوچنے کے طریقے میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر ان کی سماجی تفریق چند مفاد پرست مذہب مخالف افراد و افکار کی اپنی نجی و ناپاک کوشش ہی ہے۔تاہم اجتماعیت اور یکجہتی ایک عام انسان کا وطیرہ ہے جس کا عکس معاشرے میں صاف نظر آتا ہے۔یہی وطیرہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کی قبولیت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ایک عام مسلمان ہو یا غیر مسلم، سب بحیثیت انسان برابر ہیں۔تاہم ہر گروہ میں کچھ ایسے افرادہوتے ہیں جو اپنی زبان، مذہب یا گروہ کو دوسرو ں کے بالمقابل زیادہ پسند کرنے کے لئے پوری جماعت کو بیجا اکساتے ہیں۔حالانکہ ایک عام مسلمان کسی دوسرے کو صرف اس وجہ سے مارنا پسند نہیں کرے گا کہ وہ شخص کسی دوسرے مذہب کا پیروکار ہے۔اسی طرح ایک عام غیر مسلم بھی ایسا نہیں کرے گا۔یہی وہ بنیادی فکر ہے جو دونوں ہی قوموں کو ایک ساتھ مل کر رہنے کی طبعی خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔یہ فرقہ پرست طاقتیں تو انتہا پسند فکروں کے ساتھ فروغ پاتی ہیں۔اس کے باوجو ایک عام آدمی خواہ کسی بھی مذہب کا ہو وہ یکجہتی کے ساتھ زندگی میں یقین رکھتا ہے اور اسی میں فروغ پاتا ہے۔وہیں فرقہ پرست طاقتیں پس و پیش میں رہتے ہیں عمر بھر غیر یقینی زندگی گذارتی ہیں۔یہ فرقہ پرست طاقتیں بلا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ لوگوں کو جنگ پر آمادہ رکھتی ہیں۔
تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے ساتھ اسلاموفوبیا ایسے دائرے ہیں جہاں ایک کے فروغ سے دوسرے کو مددملتی ہے۔سبھی آپس میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔جتنا تشدد کو فروغ ملے گا اتنا ہی اسلاموفوبیا کو بڑھاوا ملے گا۔اسی طرح بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے درمیا ن کوئی فرق نہیں ہے۔بنیاد پرستی ایک ذہنی دہشت گردی ہے جب کہ دہشت گردی کسی تشدد کا اعلیٰ نمونہ ہے۔یہ افسوس کی بات ہے کہ جہاں ایک طرف دہشت گردی اور آتنک واد کے خلاف مسلسل کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری طرف چند بنیاد پرست تحریکیں جیسے کہ خوارج، تکفیری، اخوانی، کراماتی اور حشاشینی فکر اسلامی تاریخ میں اپنی موجودگی درج کرا رہی ہیں۔جن کی وجہ سے جہاد کے نام پر ہو رہے تشدد کو پھلنے پھولنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ حال ہی میں ابھری دہشت گرد تنظیمیں داعش، القاعدہ اور لشکر طیبہ اسی کڑی کا اہم حصہ ہیں۔آج ان غیر قانونی تنظیموں کی کرتوتوں کی وجہ عالمی امن کو خطرہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے اسلام کو بنیاد پرست مذہب اور مسلمانوں کی تصویرکو انتہاپسند بنانے کی ناپاک کوشش کی ہے۔اس لئے یہ اس مسلم قوم کی معاشرتی، سیاسی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ اجتماعیت اور یکجہتی کو فروغ دیں تاکہ تباہ کن فکر کے ساتھ ساتھ داعش جیسی تنظیموں کے اثر و رسوخ کو بھی نیست و نابود کیا جا سکے۔جو نوجوانوں کو ورغلا رہی ہیں۔

Abdul Moid Azhari

(Journalist, Translator, Motivational Speaker/Writer)
                          +919582859385

@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@