Showing posts with label Muharram. Show all posts
Showing posts with label Muharram. Show all posts

Wednesday, October 28, 2015

अहले बैत की फ़ज़ीलत क़ुरान व हदीस की रौशनी में مناقب اہل بیت قرآن و حدیث کی روشنی میں!Virtue and purity of Holy Prophet's Family in the lights of Quran and Hadis

مناقب اہل بیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
عبد المعید ازہری

ایمان کا تقاضہ ہے کہ اہل بیت سے محبت کی جا ئے ۔ اہل بیت سے عقیدت ان سے اظہار محبت شیعہ اور سنی کے ما بین فرق وامتیاز کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مؤدت تو اسلام میں مطلوب و مقصود ہے ۔ ہماری لا علمی نے ہمیں ایسے پیمانے پر لا کھڑا کیا ہے کہ اہل بیت اطہار سے اظہار عقیدت و محبت شیعت ہے اور باقی اصحاب رسول کی تعظیم و تکریم خارجیت ہے ۔ اہل بیت سے محبت نہ تو شیعہ کا خصوصی حصہ ہے اور رہے خارجی تو ان کو کسی سے محبت نہیں تھی۔ وہ تو خالص دین کے دشمن ہیں۔ علم میں وسعت و گہرائی نہ ہو نے کی وجہ سے اعتقاد کا اختلافی مسئلہ عقیدہ کی تفریق بن گیا ۔ دونوں گروہوں کی کم علمی نے اہل بیت اور دیگر اصحاب سے عقید ت و محبت کے اظہار کا پیمانہ بنا دیا ۔ جب کہ اسلام میں قرآن واحادیث کے ذریعہ مطلوب و مقصود یہ ہے کہ ان سے حد درجہ محبت کی جا ئے ۔ ان سے عقیدت و محبت ایمان کا حصہ نہیں بلکہ عین ایمان ہے ۔ قرآن پاک کا ارشاد عظیم ہے کہ اے محبوب آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں اپنی رسالت کا بدلہ تم سے طلب نہیں کرتا ، تمہیں جو رشد و ہدایت میرے ذریعہ نصیب ہو ئی ہے۔ ر ب کی معرفت حاصل ہو تی ہے۔میں تم سے اس کے عوض میں کوئی اجرت اور بدلہ طلب نہیں کرتا ۔ البتہ اگر تم اس عظیم نعمت میں دوام چاہتے ہو۔گمراہی اور بے راہ روی سے آگے بھی محفوظ رہنا چاہتے ہو تو میری قرابت سے محبت کرو ۔ میری قرابت سے محبت تمہیں بے راہ روی اور گمراہی میں مبتلا نہیں ہو نے دے گی ۔ اسی مضمون کو واضح کرتے ہو ئے پیغمبر اعظم نے ارشاد فرمایا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔ اگر تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ،ایک قرآن ،دوسرے اہل بیت ۔ اہل بیت کے دامن سے وابستہ لوگوں کے گمراہ نہ ہو نے کی ضمانت تو خود رسول گرامی وقار لے رہے ہیں ۔ پھر ایسے لوگوں پر کفر و شرک کا الزام کیا پیغمبر اعظم کے ارشاد میں شک و انکار نہیں ہے ۔ 
قرآن کی مذکورہ آیت میں وارد لفظ قرابت کی تفسیر میں علماء محدثین اور مفسرین نے بڑی تفصیل بیان کی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ پڑوس بھی اہل قرابت ہیں ۔ اصحاب واحباب بھی قریبی ہیں ۔نسب وخون سے رشتہ رکھنے والے بھی اہل قرابت میں۔اسی لحاظ سے ایک اور جگہ ارشاد نبوی ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی اقتدار کر لو گے ہدایت پا جا ؤ گے ۔ 
قرآن کی دوسری آ یت اور حدیث کی دیگر چند روایتوں میں اہل بیت ،ذریت اور قرابت کو رسول اعظم نے مزید واضح فرمایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ آ پ جب نما ز کے لئے تشریف لے جا تے تو اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ کے دروازے پر یا اہل بیت کہہ کر آ واز دیتے تھے۔۔ جب آیت نازل ہوئی ’بے شک اللہ پاک کا ارادہ ہے کہ وہ تم سے تمام طرح کی ناپاکیوں، برائیوں اور گناہوں کو دور رکھے اور تمہیں خوب خوب پاک و طاہر رکھے ۔جب یہ آیت تطہیر نازل ہو ئی تو رسول گرامی وقار نے سیدہ فاطمہ کو آواز دی ،وہ آ گئیں ،حسنین کریمین کو آواز دی وہ بھی آ گئے ،انہیں اپنی چادر میں ڈھک لیا پھر مولیٰ علی کو بلا یا۔انہیں بھی اپنی چادر میں ڈھک کر دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے فرمایا ’’اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان سے محبت فرما اور ان سے بھی محبت فرماجو ان سے محبت کریں اور ان پر تیرا غضب نازل ہو گا جو ان سے بغض وعناد رکھیں گے ‘‘آیت مباہلہ کے نزول کے وقت بھی آ پ نے انہیں نقوس قدسیہ کو پیش کیا تھا ، اہل بیت کا لفظ اور افراد کا تعین ان قرآنی آیات اور احادیث کی روایات سے واضح ہو جا تا ہے ،مناقب اہل بیت میں سینکڑوں روایات موجود ہیں ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب قرابت سے محبت کی آ یت نازل ہو ئی تو آ پ نے رسول پاک سے عرض کیا ،یار سول اللہ! وہ کون لوگ ہیں جن سے محبت ہم پر واجب کر دی گئی ۔آپ نے فرمایا وہ فاطمہ ہیں حسن و حسین ہیں ، میں ہوں اور علی ہیں ۔اسے حضرت بے دم وارثی نے نظم کر تے ہو ئے کہا کہ ’’بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات ،خیر النساء ،حسین و حسن ،مصطفیٰ علی‘‘۔مناقب اہل بیت اسلام کا وہ حسین باب ہے جس کے ذکر محض سے آ نکھوں میں ایک چمک سی آ جا تی ہے ۔ دل مسرور ہو جا تا ہے ،طبیعت میں فرحت و شادمانی اور ایک کیف سا پیدا ہو جاتا ہے ۔ 
مناقب اہل بیت میں پیغمبر اعظم ﷺ کے ارشاد و عمل کے علاوہ دیگر اصحاب کے عمل نے اپنی اپنی عقیدت محبت کا اظہار فرمایا ۔ بڑے عظیم اور جلیل القدر اصحاب رسول علیہ السلام نے اہل بیت سے عقیدت و محبت کو سر آ نکھوں پر رکھا ۔ یہ تو آ ج کی کم نصیبی ہے کہ محرم الحرام کے موقعہ پر اہل بیت کے تذکرے عام ہو نے پر کچھ لوگوں کو تکلیف ہو نے لگتی ہے ۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ دیگر اصحاب کا بھی ذکر ہو نا چا ہئے ۔صرف اہل بیت ہی کا ذکر کیوں کیا جائے۔کیا کربلا میں شہیدوں کے علاوہ کوئی اور شہید نہیں ہوا۔ دیدہ و دانستہ ایک طرح کے فتنہ کو جنم دیتے ہیں ۔ یہ عجیب رویہ ہے ۔آکر یہ معاملہ اہل بیت اطہار ہی کے اذکار کے وقت کیوں سامنے آتا ہے ۔ان کی فضیلت اور اہمیت کا ذکر لوگوں کو ہضم کیوں نہیں ہوتا ۔ہمارے تمہارے ذکر کرنے اور نہ کرنے سے کسی کی شان گھٹنے اور بڑھنے والی نہیں ہے۔ صحابہ نے اہل بیت کی تعظیم کی اور اہل بیت نے صحابہ کرام کی عزت کی ہے ۔ 
دنیا میں تمام خاندان کا نسب ان کی اولاد یعنی بیٹوں سے چلتی ہے ۔اہل بیت اور سادات کا سلسلہ نسب یا پیغمبر اعظم کا سلسلہ نسب تاریخ میں انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ جو آ پ کی بیٹی ہماری ماں سیدہ فاطمہ سے چل رہا ہے۔ کفار و مشرکین رسول پاک کو یہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ آ پ کا نصب آ گے نہیں بڑھے گا۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا اے محبوب آ پ رنجیدہ نہ ہوں آپ کو تو ہم نے کوثر عطا کیا ہے اور اور تمہارا دشمن بے نام و نشان رہ جا ئے گا ۔ پیغمبر اعظم کو رحمت میں کثرت دی گئی تو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔امت میں بھی کثرت دی گئی ، چنانچہ کل حشر میں تمام امتیوں کی کم و بیش 120صفحوں میں 80صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی ۔ آ پ کو اولاد میں بھی کثرت دی گئی ۔ چنانچہ سادات کا سلسلہ پوری دنیا میں پھیل گیا ۔ آ پ کے دشمن بے نام و نشان ہو کر رہ گئے بلکہ اہل بیت کے دشمن بے نا م و نشان ہو گئے ۔
شہید ہو کر بھی ہر گھر میں زندہ ہیں حسین اور یزید کا نام لیوا آ ج دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔ حب اہل بیت ایمان کی سلامتی کا نام ہے ۔یہ شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ہے ۔ نہ ہی اعتقادی اور تاریخی اختلاف کا موضوع ہے۔ب اہل بیت ہر امتی کے ایمان کی سلامتی کی ضامن ح ہے۔یہی بنیادی وجہ ہے کہ معرکہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ نہیں تھی اور نہ طاقت و سیاست کی زور آ زمائی تھی ۔وہ تو حق و باطل ،کفر وایمان کی جنگ تھی ، تبلیغ رسالت کا ایک اہم باب ہے کر بلا ۔ 
اہل بیت اطہار کے ہر فرد کے تعلق سے ان کی فضیلت میں روایات کثرت سے موجود ہیں جن کے لئے الگ سے باب کی ضرورت ہے ۔ غدیر خم کے موقعہ پر مولیٰ علی کرم اللہ کے تعلق کے پیغمبر اعظم کا عظیم ارشاد ہے کہ میں جس کامولیٰ ہوں علی اس کا مولیٰ ہے ۔پوری ولایت سونپ دی گئی ۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے ،علی مجھ سے ہیں کا مطلب ہے کہ علی کی ولایت ،شجاعت ،عبادت ،سیاد ت اور جملہ فضیلت میری بدولت ہے ، میری نبوت کا فیض ہے ، اور میں علی سے ہوں کا مطلب میری تبلیغ رسالت میں علی کا اہم کردار ہو گا جو کربلا میں پائے تکمیل کو پہنچے گا ۔ اور میرا سلسلہ نصب علی و فاطمہ کے سبب حسنین کریمین سے آ گے بڑھے۔اے ایمان والو ایمان کی سلامتی اور حفاظت چاہتے ہو تو حب اہل بیت کا اپنا شعار اور معمول بنا لو ۔کیوں کہ اہل بیت کی محبت میں موت شہادت کی موت ہے اور ان کے بغض میں موت کفر پر موت ہوگی۔ائے حسین ابن علی تیر شہادت کو سلام ، تم نے اپنے خون سے زندہ رکھا اسلام کو ۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Mob: 09582859385





The Destination goes far away by misconducting गलत रवी से मनाज़िल का बोद (दुरी) बढ़ता है ! غلط روی سے منازل کا بعد بڑھتا ہے

غلط روی سے منازل کا بعد بڑھتا ہے 
عبد المعید ازہری

اکیسویں صدی مسلمانوں کیلئے سخت ابتلا و آزمائش لیکر آئی ہے ۔ طرح طرح کے فتنے وجود میں آ ئے ۔ہر فتنہ کے مختلف دروازے ہیں ۔ہر دروازہ ذاتی خودنمائی اور انا پرستی کی وجہ سے وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ عرب کا دور جاہلیت واپس آگیا ہو۔ ذرا سی بات کیلئے دست و گریباں کے خونریزی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔مسائل شرعیہ میں علماء و فقہاء کا اختلاف نیا نہیں ہے۔لیکن وہ اختلاف دین اور اس کی تعلیمات کو فروغ دینے کیلئے ہوا کرتا تھا۔مزارات ،امام بارگاہ یا دیگر مقدس مقامات کو لیکر اختلاف ابھی نیا ہے لیکن اس کیلئے جنگ پر آمادگی دینی وشرعی اختلاف نہیں لگتا۔وسیلہ تعظیم و شفاعت جیسے مسائل میں بہت لوگوں نے اختلاف کئے ہیں۔ اس پر باقاعدگی سے مناظرے بھی منعقد ہوئے ۔ جنہوں نے طلب علم کے لئے اختلاف کیا تھا انہیں سیر حاصل تشفی ہوگئی۔جنہیں صرف اختلاف سے ہی غرض تھا وہ اس میں لگے رہے ۔ سیکڑوں کتابیں آج مکاتب و لائبریری میں موجود ہیں جو ان مسائل کا خلاصہ کرتی ہیں۔اختلاف جب تک دین کے لئے تھا ، شرعی مسائل کی توجیہ و توضیح کے لئے تھا کہیں کوئی فتنہ وجود میں نہ آیا ۔ لیکن جب سے مسائل میں اختلاف شریعت میں ذاتی طبیعت کا عمل دخل ہوگیا ،طرح طرح کے فتنے پید ہونے لگے ۔ ہر گلی محلہ میں ایک مکتبہ فکر کا بورڈ نظر آنے لگا۔واعتصموا بحبل اللہ جمیعا کا پیغام دینے والا مذہب خود سیکڑوں فرقوں کا مذہب ہو کر رہ گیا۔دور حاضر میں رونما ہونے والے فتنوں میں زیادہ تر ذاتی طبیعت اور انا نیت داخل ہے۔ورنہ ان مسائل کو لیکر جنگیں بعید از قیاس ہے ۔ آج اسلام کا نام لیکر مسجدوں ، درگاہوں، امام بارگاہوں اور دیگر مقامات مقدسہ کا انہدام اسلام کی شبیہ بگاڑ رہی ہے۔اس سے بھی زیادہ تعجب اور حیر ت کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ تو وہ ہیں جو ایسے گھنونے کام انجام دے رہے ہیں۔دوسرے وہ جو محض اپنے عقیدہ کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لئے ایسے لوگوں کو صحیح گردان رہے ہیں اور اس کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں۔آج ایک نام بہت آسان ہے ۔امریکہ! ہمیں ہمارے گریبان میں جھانکنے سے پہلے امریکہ کا نام ہمیں شہہ دیتا ہے ۔یہ سچ ہے کہ امریکہ و اسرائیل جیسی یہودی اسلام دشمن طاقتیں ہمیشہ سے اسلام کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔روز اول ہی سے یہ طاقتیں اس تاک میں لگی ہیں کہ اسلا م کا یہ اگتا سورج کہیں کسی مغرب میں غروب ہوجائے ۔اس کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔موجودہ دور کی روش کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ دشمن طاقتیں اپنے ہدف میں قدرے کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں۔جس مذہب نے عرب کے سنگریزوں میں بھی چمن آباد کیا اور دنیا کی بد تر قوم کو قائد اور رہنما بنا دیا۔آج اسلام کے نام پر نام نہاد چند دولت و شہرت پسند اسی دور جاہلیت کو واپس لانے پر اڑے ہیں۔ہم بھی اس بات کو سمجھنے سے انکار کر رہے ہیں۔
جب قرآن میں تحریف تبدیل پر بس نہ چلا تو احادیث میں وضع شروع کر دی گئی ۔طرح طرح کے سوالات قائم کئے گئے ۔جو بھی معمولات اہل سنت ہیں اور شروع ہی سے جن روایات ہر عمل رہا انہیں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاکہ ان روایات کو مشکوک کردیا جائے۔یہ وہ روایات ہیں جو آپسی اتحاد ، خدمت خلق، انسان دوستی اور انسانی اقدار کی پاسداری کا سبق دیتی ہیں۔مذہب کے نام پر نفرت و کدورت کو مٹاتی ہیں۔ایسی روایات اور معمولات کو شک و شبہات کے گھیرے میں لا کھڑا کرنے کے پیچھے مقصد صرف اتنا ہے کہ ایسی شخصیات کی ذات کو مشکوک کردیا جائے۔چند ایسے افراد باقاعدہ تیار کئے گئے ہیں جن کا کام ہی سوال کرنا ہے انہیں اسی بات کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خود انہیں بھی ان مسائل سے آگہی نہیں ہوتی۔یہ زور قلم اور زعم علم کبھی اپنی انا کو ثابت کرنے کے لئے استعمال نہیں ہوا۔چند افراد نے اپنے تحریری وجو د کا مقصد ہی شاید یہ بنا لیا ہے کہ سارا زور قلم اسی میں صرف کیا جائے ۔چند قلم کار، پیشہ ور مقرر اور پڑھے لکھے ہونے کا ڈھونگ کرنے والے چند جاہل علماء اس کام میں بڑی پیشہ وری سے حصہ لے رہے ہیں۔انہیں بس موقعہ کا انتظار رہتاہے۔جیسے ہی اسلامی تقریبات آتی ہے یا کوئی ایسا دن آتا ہے جو کسی خاص اور اللہ کے نیک بندے صحابی ، اہل بیت سے منسوب ہوتاہے ۔سوالوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔اگر چہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ابھی چند روز قبل ایک صاحب کو لگا کہ علماء کو سخت مغالطہ ہو گیا ہے ۔ صدیوں سے بیان ہونے والی روایت غلط ہے مسلمانوں کے اس سے پرہیز کرنا چاہئے ۔حدیث شریف ہے کہ ’’حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں‘‘ان صاحب نے کہا چونکہ اس حدیث کی روایت میں ایک راوی مشکوک اور غیر ثقہ ہیں۔ لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔یقیناًیہ ایک مستحسن عمل ہوسکتا ہے لیکن اگر اس کا حقیقت سے کچھ تعلق ہو، تب ۔کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کی کئی روایتیں جان بوجھ کر وضع کی گئی ہیں۔موضوع حدیث کی روایت عظیم گناہ ہے۔ پیغمبر اعظم نے فرمایا جو شخص میری جانب جھوٹ کو منسوب کرتا ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم جان لے۔ لیکن یہ معاملہ کسی بات کو ثابت کرنے کیلئے نہیں بلکہ گمراہ کرنے کے لئے تھا۔جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اس حدیث کو دس سے زیادہ طریقے سے روایت کی گئی ہے اور حدیث کی کئی کتابوں میں اس روایت کا ذکر ہے۔ دس سے زیادہ راوی عادل اور ثقہ ہیں جنہوں نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ اس حدیث کی روایت کی ہے ۔یہ ان مشہور حدیثو ں میں سے ایک ہے جسے اکثر بیان کیا جاتاہے ۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے خواجہ اجمیر ی حضرت غریب نوازؓ کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ لفظ خواجہ کے معنیٰ کو لیکر بھی اسی طرح کا معاملہ ہے ۔ لفظ خواجہ
کے ۲۵ سے زیادہ معانی ہے ان میں سے کسی ایک خاص لفظ کا انتخاب اس کے فکر کی عکاسی کرتی ہے بالخصوص جب اچھائی کی جگہ پر تنقیص کا معنیٰ اختیار کرکے اسی کو عام کیا جائے تو نفاق ظاہر ہو جاتاہے ۔
ایسے ہی ایک اور مسئلہ زیر بحث ہے ۔کئی دنوں سے یہ معاملہ موضوع گفتگو ہوتا آ رہا ہے ۔اہل بیت اطہار کے اسماء کے آگے علیہ السلام کا لاحقہ لگانے کے تعلق سے مواقف میں اختلاف ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ رضی اللہ عنہ لگانا چاہئے بعض کہتے ہیں کہ علیہ السلام کہنا چاہئے ۔دونوں اپنے اپنے اعتبار سے جو مناسب سمجھتے ہیں استعمال کرتے ہیں۔مسئلہ پرپیج اس وقت ہو جاتا ہے جب علیہ السلام کے موقف کو غلط کہنے کا موقف شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔چونکہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو قرآن نے پہلے ہی فیصلہ کردیا ۔’’اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ‘‘ (القرآن )۔تو اس لفظ کے استعمال میں کوئی دقت نہیں۔مسئلہ علیہ السلام کے استعمال کرنے میں ہے۔ کہ یہ لفظ انبیاء علیہم السلام کے لئے خاص ہے لہٰذا انہیں کے لئے خاص ہے غیر انبیاء کے ساتھ استعمال درست نہیں۔
استعمال نہ کرنا ایک الگ امر ہے لیکن اسے غلط و ناجائز ٹھہرانا مقام افسوس و حیر ت ہے ۔اس ہر اعتراض قابل اعتراض امر ہے ۔اور اگر اعتراض کرنے والا مسلمان ہو تو حیرت اور تعجب اور مزید ہو جاتا ہے ۔
علیہ السلام کا لفظی معنیٰ ’ ان پر سلام و سلامتی ہو ‘ہے ۔شرعی نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو بظاہر اسمیں کوئی قباحت اور حرج نظر نہیں آتا ہے ۔اس لفظ کا استعمال متعدد علماء کرام ، ائمہ ،فقہاء محدثین مفسرین نے اپنی سیکڑوں کتب تفسیر و حدیث میں کیا ہے ۔تفسیر مظہری ، تفسیر رازی،امام سیوطی،امام عسقلانی ، علامہ نبہانی شیخ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتابوں میں کئی بار اہل بیت پاک کے اسماء کے بعد علیہ السلام کالاحقہ لگایا ہے ۔
یہ اسلام کا اعجا ز ہے کہ اس نے مسلمانوں کو سلام کا تحفہ دیا ہے۔ایک مؤمن دوسرے مؤمن پر ہر ملاقات پر سلام و سلامتی پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ایک عام مسلمان ہر ملاقات میں علیہ السلام ہو سکتا ہے لیکن اہل بیت اطہار جن کی پاکی کے بارے میں قرآن میں آیت تطہیر نازل ہوئی ان کے آگے علیہ السلام لگانے سے اعتراض ہو تا ہے۔ واقعی حیرت افسوس اور تعجب ہے۔
ایک مؤمن کسی دوسرے مؤمن کا سلام لیکر جب پہنچتا ہے تو اس کے جواب میں یہی کہا جاتا ہے وعلیکم و علیہ السلام ۔ اس جواب میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہر مکتب فکر کا یہی جواب ہوتا ہے ۔ آن کی آن میں ایک مؤمن علیہ السلام ہوگیا۔جس کے گھر کا عالم یہ ہے کہ بغیر اجازت حضرت جبرئیل بھی گھر نہیں آتے اگر اس خاندان کے مبارک ناموں کے آگے علیہ السلام کا لاحقہ لگایا تو اعتراض ہوتاہے ۔ ایک مسلمان اعتراض کرتا ہے تعجب ہے ۔
ایک محفل میں پہنچا ۔منظر یہ ہے کہ اس محفل میں مسلم اور غیر مسلم سبھی موجود ہیں ۔ سلام بھی کرنا ہے ۔ ایسے میں علما کہتے ہیں کہ سلام کے الفاظ تھوڑا بدل جائیں گے ۔ اب کہا جائے گا۔ السلام علی من اتبع الہدی۔اس پر سلام و سلامتی ہو جس نے ہدایت کو پا لیا۔ہدایت کی پیر وی کرنے والا ، اسے پالینے والا علیہ السلام ہو جاتا ہے ۔لیکن جو سر چشمہ ہدایت ہے ، منبع رشد و نور ہے ، جن کے بارے میں پیغمبر اعظم نے ارشاد فرمایا ان کے دامن کو تھامے رہنا گمراہ نہیں ہوگے ۔ان کو علیہ السلام کہنے پر اعتراض ہوتا ہے تعجب ہے ۔
ہر نمازی پر قعدہ میں التحیات پڑھتے وقت یہ دہراتا ہے ۔السلام علیک ایھا النبی اس کے جواب میں رسول گرامی وقار نے فرمایا السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین۔ خود نبی کی زبانی ہر صالح بندہ علیہ السلام ہو گیا۔ وہ بھی عین نماز کے دوران ہر نمازی ایک دوسرے مؤمن صالح بندوں کو علیہ السلام کا تحفہ پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔اسلامی روایت و تاریخ ، قرآنی انداز و اصول نے توہمیں یہی ادب سکھایا ہے ۔ جن پر خود اسلام اور نمازفخر کرے اس کے ساتھ علیہ السلام لگانے پر اعتراض تعجب ہے ۔
ہماری خود کی حالت یہ ہے کہ ہمیں خود ہمارے عقائد اعمال کی فکر نہیں۔ نظریات و خیالات کی پاکیزگی کا خیال نہیں۔توجہ الی اللہ پر نظر نہیں۔خدمت خلق کی جستجو نہیں۔سجدوں کا ذوق و شوق نہیں۔اخلاص و ایثار کا نام و نشان نہیں۔نہ حقوق اللہ کی ادائگی کی فکر ہے نہ حقوق العبادکی چاہت ہے ۔ہم ہماری ذمہ داری تو کما حقہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔لیکن ہماری بحث کا موضوع وہ ہوتے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے ارشاد فرمایا جا چکا ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی دامن تھام لوگے ہدایت پا جاؤگے۔شہرت کا یہ شوق کہیں ہمارے لئے جہنم کا ایندھن تو نہیں تیار کر رہا ہے ۔
خدارا اپنی تقریر و تحریر کو صحیح رخ دو ۔ اس طرح کی مجرمانہ غلط فہمی پیدا کرنا اور غلط بیانی سے کام لینا خود کی ہلاکت کا سبب ہے ۔ اس سے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔اپنے آپ کو اور اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ!(القرآن)
Abdul Moid Azhari (Amethi) Mob: 09582859385 email: abdulmoid07@gmail.com

@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@