Showing posts with label Sunni. Show all posts
Showing posts with label Sunni. Show all posts

Friday, November 15, 2019

مسلمانوں میں فرقہ بندی मुसलमानों में बढती गिरोह बंदीincreasing divisions among muslims

مسلمانوں میں فرقہ بندی کا بڑھتا رجحان


عبد المعید ازہری

قوم مسلم کا آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلام کے مبلغ آج کفر کی تبلیغ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ایمان کی روشنی سے انسانی حیات کی تاریکی دور کرنے کی بجائے روشن حیات انسان کو جبرا کفر و شرک کے اندھیرے میں قید کرنے کی مذموم کوشش میں لگے ہئے ہیں۔امن اتحا د کے پیغام بر انتشار و افتراق کی نشر و اشاعت کر رہے ہیں۔
اس بات سے انحراف ممکن نہیں کہ جھگڑا، فساد، اختلاف اور انتشار انسانی فطرت کا حصہ ہے۔اسی لئے انسانی سماج میں توازن قائم رکھنے کے لئے ترغیب و ترہیب کے قوانین وضع کئے گئے اور ان کے نفاذ سے معاشرے میں امن و امان، سلم سلامتی اور حقوق اور انصاف کا نظام قائل کیا گیا۔انسانی سماج کو دین کی ضرورت بھی اسی لئے آن پڑی کہ اس سے نظام عدل و مساوات قائم و دائم رہے۔کسی بھی مذہب کی بنیادی افادیت میں معاشرے میں سکون و توازن کا فروغ لازمی طور پر موجودہ ہے۔اسلام کے دونوں بنیادی مآخذ قرآنی آیات اور نبوی ارشادات میں اس بات کا خلاصہ موجود ہے۔ قرآن نے ایک درجن سے زائد جگہوں پر اس بات پر زور دیا کہ آپس میں گروہ بندی نہ کرو۔خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور آپس میں منقسم نہ ہو۔ پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن میں خدا نے فرمایا کہ جو لوگ فرقہ بندی میں ملوث ہوتے ہیں اور اسے بڑھاوا دیتے ہیں وہ بڑے گناہ میں شامل۔ تو آپ سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ اس طرح کئی جگہ پر تفریق و تقسیم پر خدا نے واضح روک لگائی ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج اسلام کے نمائندے مسلمانوں کی تقسیم کو خدا کی سنت سمجھ کر فروغ دے رہے ہیں۔ یا تو وہ کسی نئی خدائی کا دعوی کر رہے ہیں یا پھر اس خدا کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں جو فرقہ بندی کو پسند نہیں فرماتا۔
آج کے نام نہاد مسلم نمائندے جو مسلکی اور مذہبی اختلاف کو خدا کی رحمت سمجھتے ہیں اور اس اختلاف کو خدا و رسول کی مشیئت و مرضی تصور کرتے ہیں وہ خدا اور رسول پر بہتان لگاتے ہیں۔تکفیر و تفسیق، شرک و بدعت، حرام و حلال کے یہ تاجر اپنی خدائی کا کاروبار چلانے کے لئے قرآن و حدیث من مانی توضیح اور خدا و رسول کے فرمودات کی بے جا تاویل کی مجرمانہ حرکت سے بھی گریز نہیں کرتے۔خدا نے جنہیں اسلام و ایمان کا مبلغ بنایا وہ کفر و شرک کے داعی بن گئے۔ایمان و اسلام کی دولت تقسیم کرنے کی بجائے کفر و شرک، فسق و بدعت کا زہر قوم کے اندر ہی گھولنے لگے۔ ایک دوسرے میں الفت انسیت کا فروغ دینا تھا لیکن انہوں نے مسلک و مشرب اور مذہب ملت کے نام پر ایسی تقسیم شروع کر دی کہ ایک دین اور ملت کے پیروکار ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
ان جاہل علماء و مشائخ نے اپنے کاروباری دین کی نشر و اشاعت کے لئے خدا اور پیغمبر تک کے استعمال سے پرہیز نہیں کیا۔فرقوں کی تقسیم کے لئے خدا کے رسول سے منسوب ایک روایت ذکر کی جاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں 72 فرقے ہوئے تھے لیکن ہماری امت میں 73 فرقے ہوں گے جن میں ایک حق پر ہوگا۔دوسری دلیل قرآن کی ہے کہ خدا نے جب حضرت آدم کو خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا اور فرشتوں کو اس بابت آگاہ کیا تو فرشتوں نے کہا کہ خدا کریم کیا تو ایسے کو اپنا خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد اور قتل خوں ریزی کرے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن آدم کی فطرت میں جھگڑا و فساد ہے۔ لہٰذا فرقہ بندی، انتشار و اختلاف اور جھگڑا فساد تو خدا و رسول کے فرمودات کے حساب سے ہی ہے۔
جب کبھی بھی اور کسی بھی قوم کو اس طرح کے نمونے قیادت کی شکل میں ملے ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی کوئی نہیں روک پایا ہے۔اس قوم کی بربادی کے لئے کسی دوسرے کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔یہ قوم مسلم کی شومئے قسمت ہے کہ اس طرح کے جاہل اس کی قوم کی دین قیادت کر رہے ہیں۔
جب خداکے سامنے فرشتوں نے ابن آدم کی خصلت کا ذکر کیا تو خدا نے فرمایا تھا کہ ائے فرشتوں میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اور علم و حکمت کی خوبی نسل آدم میں بطور فطرت ڈال دی کہ اب یہ علم اس فساد اور فتنہ سے بنی آدم کی حفاظت کرے گا۔دنیا کا کوئی بھی مصلح اور محسن ہو یہاں تک کہ عام باپ ہو وہ اپنے بچوں کو نصیحت کرتا ہے کہ میرے بچوں میرے بعد تمہارے درمیاں زر زمین، دولت و شہرت یا اقتدار افتخار کے نام پر جھگڑے ہو سکتے ہیں لیکن تم آپس میں صلح سمجھوتہ کے ساتھ رہنا۔ کچھ بھی ہو جائے آپسی رشتے کو مضبوط رکھنا اور اس اتحاد کو بکھرنے مت دینا۔جب اس طرح کی توقع ایک عام انسان سے کی جاتی ہے تو کیا پیغمبر اسلام سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے تقسیم امت کی نشان دہی کرتے ہوئے اس سے باز رہنے کی نصیحت نہیں دی ہے۔
سیکڑوں ایسی روایتیں ہے اور درجن بھر ایسی آیتیں ہیں جو امت کی فرقہ وارانہ تقسیم کو مسترد کرتی ہیں۔ لیکن یہ اس قوم کے مذہبی رہنماوں کا قرآن و حدیث پر ظلم ہے کہ قوم کو خدا و رسول کے نام پر بانٹ رہے ہیں۔فرقہ بندی کے جواز کی راہیں تلاش کرنا سراسر ظلم ہے۔حق تو یہ تھا کہ انتشار کے سد باب کے راستے تلاش کئے جاتے۔
آج اتحاد ملت کی ریاکارانہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ جہاں پہلے یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ ہم جس گروہ یا مسلک سے جڑے ہیں اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں گے۔یہ مضبوطی کسی دوسرے کی بات سننے ہی نہیں دیتی۔اپنے علاوہ سب بے کار لگتا ہے۔جو خود سمجھے وہی قرآن واسلام باقی سب خلاف۔دانش مندی و دور اندیشی، حکمت و فلسہ اور علم و ادراک سے پرے کتابوں کے بوجھ تلے دبے نام نہاد رہبران قوم و ملت آج صرف قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔خود ساختہ تحقیق پر مبنی کتابوں کے علم کی روشنی اس قوم کو منزل سے کوسوں دور لے جاتی نظر آرہی ہے۔اگر اس قوم کو وقت رہے اس مجرم قیادت سے آزاد نہ کرا لیا گیا تو وہ دن دور رنہیں جب یہ کاروباری دین رسول کا مکمل بائکاٹ کر دے گا۔ایسے رہنماؤں سے آزادی میں ہی عافیت ہے جو خدا اور رسول کا استعمال کر کے لوگوں کو خدا اور رسول سے دور کرتے ہیں۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پے تھے، روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں۔


@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Wednesday, October 28, 2015

अहले बैत की फ़ज़ीलत क़ुरान व हदीस की रौशनी में مناقب اہل بیت قرآن و حدیث کی روشنی میں!Virtue and purity of Holy Prophet's Family in the lights of Quran and Hadis

مناقب اہل بیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
عبد المعید ازہری

ایمان کا تقاضہ ہے کہ اہل بیت سے محبت کی جا ئے ۔ اہل بیت سے عقیدت ان سے اظہار محبت شیعہ اور سنی کے ما بین فرق وامتیاز کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مؤدت تو اسلام میں مطلوب و مقصود ہے ۔ ہماری لا علمی نے ہمیں ایسے پیمانے پر لا کھڑا کیا ہے کہ اہل بیت اطہار سے اظہار عقیدت و محبت شیعت ہے اور باقی اصحاب رسول کی تعظیم و تکریم خارجیت ہے ۔ اہل بیت سے محبت نہ تو شیعہ کا خصوصی حصہ ہے اور رہے خارجی تو ان کو کسی سے محبت نہیں تھی۔ وہ تو خالص دین کے دشمن ہیں۔ علم میں وسعت و گہرائی نہ ہو نے کی وجہ سے اعتقاد کا اختلافی مسئلہ عقیدہ کی تفریق بن گیا ۔ دونوں گروہوں کی کم علمی نے اہل بیت اور دیگر اصحاب سے عقید ت و محبت کے اظہار کا پیمانہ بنا دیا ۔ جب کہ اسلام میں قرآن واحادیث کے ذریعہ مطلوب و مقصود یہ ہے کہ ان سے حد درجہ محبت کی جا ئے ۔ ان سے عقیدت و محبت ایمان کا حصہ نہیں بلکہ عین ایمان ہے ۔ قرآن پاک کا ارشاد عظیم ہے کہ اے محبوب آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں اپنی رسالت کا بدلہ تم سے طلب نہیں کرتا ، تمہیں جو رشد و ہدایت میرے ذریعہ نصیب ہو ئی ہے۔ ر ب کی معرفت حاصل ہو تی ہے۔میں تم سے اس کے عوض میں کوئی اجرت اور بدلہ طلب نہیں کرتا ۔ البتہ اگر تم اس عظیم نعمت میں دوام چاہتے ہو۔گمراہی اور بے راہ روی سے آگے بھی محفوظ رہنا چاہتے ہو تو میری قرابت سے محبت کرو ۔ میری قرابت سے محبت تمہیں بے راہ روی اور گمراہی میں مبتلا نہیں ہو نے دے گی ۔ اسی مضمون کو واضح کرتے ہو ئے پیغمبر اعظم نے ارشاد فرمایا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔ اگر تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ،ایک قرآن ،دوسرے اہل بیت ۔ اہل بیت کے دامن سے وابستہ لوگوں کے گمراہ نہ ہو نے کی ضمانت تو خود رسول گرامی وقار لے رہے ہیں ۔ پھر ایسے لوگوں پر کفر و شرک کا الزام کیا پیغمبر اعظم کے ارشاد میں شک و انکار نہیں ہے ۔ 
قرآن کی مذکورہ آیت میں وارد لفظ قرابت کی تفسیر میں علماء محدثین اور مفسرین نے بڑی تفصیل بیان کی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ پڑوس بھی اہل قرابت ہیں ۔ اصحاب واحباب بھی قریبی ہیں ۔نسب وخون سے رشتہ رکھنے والے بھی اہل قرابت میں۔اسی لحاظ سے ایک اور جگہ ارشاد نبوی ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی اقتدار کر لو گے ہدایت پا جا ؤ گے ۔ 
قرآن کی دوسری آ یت اور حدیث کی دیگر چند روایتوں میں اہل بیت ،ذریت اور قرابت کو رسول اعظم نے مزید واضح فرمایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ آ پ جب نما ز کے لئے تشریف لے جا تے تو اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ کے دروازے پر یا اہل بیت کہہ کر آ واز دیتے تھے۔۔ جب آیت نازل ہوئی ’بے شک اللہ پاک کا ارادہ ہے کہ وہ تم سے تمام طرح کی ناپاکیوں، برائیوں اور گناہوں کو دور رکھے اور تمہیں خوب خوب پاک و طاہر رکھے ۔جب یہ آیت تطہیر نازل ہو ئی تو رسول گرامی وقار نے سیدہ فاطمہ کو آواز دی ،وہ آ گئیں ،حسنین کریمین کو آواز دی وہ بھی آ گئے ،انہیں اپنی چادر میں ڈھک لیا پھر مولیٰ علی کو بلا یا۔انہیں بھی اپنی چادر میں ڈھک کر دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے فرمایا ’’اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان سے محبت فرما اور ان سے بھی محبت فرماجو ان سے محبت کریں اور ان پر تیرا غضب نازل ہو گا جو ان سے بغض وعناد رکھیں گے ‘‘آیت مباہلہ کے نزول کے وقت بھی آ پ نے انہیں نقوس قدسیہ کو پیش کیا تھا ، اہل بیت کا لفظ اور افراد کا تعین ان قرآنی آیات اور احادیث کی روایات سے واضح ہو جا تا ہے ،مناقب اہل بیت میں سینکڑوں روایات موجود ہیں ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب قرابت سے محبت کی آ یت نازل ہو ئی تو آ پ نے رسول پاک سے عرض کیا ،یار سول اللہ! وہ کون لوگ ہیں جن سے محبت ہم پر واجب کر دی گئی ۔آپ نے فرمایا وہ فاطمہ ہیں حسن و حسین ہیں ، میں ہوں اور علی ہیں ۔اسے حضرت بے دم وارثی نے نظم کر تے ہو ئے کہا کہ ’’بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات ،خیر النساء ،حسین و حسن ،مصطفیٰ علی‘‘۔مناقب اہل بیت اسلام کا وہ حسین باب ہے جس کے ذکر محض سے آ نکھوں میں ایک چمک سی آ جا تی ہے ۔ دل مسرور ہو جا تا ہے ،طبیعت میں فرحت و شادمانی اور ایک کیف سا پیدا ہو جاتا ہے ۔ 
مناقب اہل بیت میں پیغمبر اعظم ﷺ کے ارشاد و عمل کے علاوہ دیگر اصحاب کے عمل نے اپنی اپنی عقیدت محبت کا اظہار فرمایا ۔ بڑے عظیم اور جلیل القدر اصحاب رسول علیہ السلام نے اہل بیت سے عقیدت و محبت کو سر آ نکھوں پر رکھا ۔ یہ تو آ ج کی کم نصیبی ہے کہ محرم الحرام کے موقعہ پر اہل بیت کے تذکرے عام ہو نے پر کچھ لوگوں کو تکلیف ہو نے لگتی ہے ۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ دیگر اصحاب کا بھی ذکر ہو نا چا ہئے ۔صرف اہل بیت ہی کا ذکر کیوں کیا جائے۔کیا کربلا میں شہیدوں کے علاوہ کوئی اور شہید نہیں ہوا۔ دیدہ و دانستہ ایک طرح کے فتنہ کو جنم دیتے ہیں ۔ یہ عجیب رویہ ہے ۔آکر یہ معاملہ اہل بیت اطہار ہی کے اذکار کے وقت کیوں سامنے آتا ہے ۔ان کی فضیلت اور اہمیت کا ذکر لوگوں کو ہضم کیوں نہیں ہوتا ۔ہمارے تمہارے ذکر کرنے اور نہ کرنے سے کسی کی شان گھٹنے اور بڑھنے والی نہیں ہے۔ صحابہ نے اہل بیت کی تعظیم کی اور اہل بیت نے صحابہ کرام کی عزت کی ہے ۔ 
دنیا میں تمام خاندان کا نسب ان کی اولاد یعنی بیٹوں سے چلتی ہے ۔اہل بیت اور سادات کا سلسلہ نسب یا پیغمبر اعظم کا سلسلہ نسب تاریخ میں انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ جو آ پ کی بیٹی ہماری ماں سیدہ فاطمہ سے چل رہا ہے۔ کفار و مشرکین رسول پاک کو یہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ آ پ کا نصب آ گے نہیں بڑھے گا۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا اے محبوب آ پ رنجیدہ نہ ہوں آپ کو تو ہم نے کوثر عطا کیا ہے اور اور تمہارا دشمن بے نام و نشان رہ جا ئے گا ۔ پیغمبر اعظم کو رحمت میں کثرت دی گئی تو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔امت میں بھی کثرت دی گئی ، چنانچہ کل حشر میں تمام امتیوں کی کم و بیش 120صفحوں میں 80صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی ۔ آ پ کو اولاد میں بھی کثرت دی گئی ۔ چنانچہ سادات کا سلسلہ پوری دنیا میں پھیل گیا ۔ آ پ کے دشمن بے نام و نشان ہو کر رہ گئے بلکہ اہل بیت کے دشمن بے نا م و نشان ہو گئے ۔
شہید ہو کر بھی ہر گھر میں زندہ ہیں حسین اور یزید کا نام لیوا آ ج دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔ حب اہل بیت ایمان کی سلامتی کا نام ہے ۔یہ شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ہے ۔ نہ ہی اعتقادی اور تاریخی اختلاف کا موضوع ہے۔ب اہل بیت ہر امتی کے ایمان کی سلامتی کی ضامن ح ہے۔یہی بنیادی وجہ ہے کہ معرکہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ نہیں تھی اور نہ طاقت و سیاست کی زور آ زمائی تھی ۔وہ تو حق و باطل ،کفر وایمان کی جنگ تھی ، تبلیغ رسالت کا ایک اہم باب ہے کر بلا ۔ 
اہل بیت اطہار کے ہر فرد کے تعلق سے ان کی فضیلت میں روایات کثرت سے موجود ہیں جن کے لئے الگ سے باب کی ضرورت ہے ۔ غدیر خم کے موقعہ پر مولیٰ علی کرم اللہ کے تعلق کے پیغمبر اعظم کا عظیم ارشاد ہے کہ میں جس کامولیٰ ہوں علی اس کا مولیٰ ہے ۔پوری ولایت سونپ دی گئی ۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے ،علی مجھ سے ہیں کا مطلب ہے کہ علی کی ولایت ،شجاعت ،عبادت ،سیاد ت اور جملہ فضیلت میری بدولت ہے ، میری نبوت کا فیض ہے ، اور میں علی سے ہوں کا مطلب میری تبلیغ رسالت میں علی کا اہم کردار ہو گا جو کربلا میں پائے تکمیل کو پہنچے گا ۔ اور میرا سلسلہ نصب علی و فاطمہ کے سبب حسنین کریمین سے آ گے بڑھے۔اے ایمان والو ایمان کی سلامتی اور حفاظت چاہتے ہو تو حب اہل بیت کا اپنا شعار اور معمول بنا لو ۔کیوں کہ اہل بیت کی محبت میں موت شہادت کی موت ہے اور ان کے بغض میں موت کفر پر موت ہوگی۔ائے حسین ابن علی تیر شہادت کو سلام ، تم نے اپنے خون سے زندہ رکھا اسلام کو ۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Mob: 09582859385