Showing posts with label Secular India. Show all posts
Showing posts with label Secular India. Show all posts

Wednesday, August 30, 2017

The stand of Supreme Court on Triple Talaq तीन तलाक़ पर सुप्रीम कोर्ट का पक्षتین طلاق پر سپریم کورٹ کا موقف


تین طلاق پر سپریم کورٹ کا موقف
عبد المعید ازہری

تین طلاق کو لے کر سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اس پر مختلف و متعدد سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں کا اپنے موقف و منشاء کے مطابق رد عمل اس وقت ملک میں ایک غیر ضروری بحث کے ذریعے ملک کے نہایت ہی سنگین اور سنجیدہ مدعوں سے بھٹکائے ہوئے ہے۔اس پر میڈیا کی درباری اور سرکاری زبان نے آگ میں گھی ڈالنے کی وفاداری نبھائی ہے۔سپریم کورٹ کے موقف کو مزکزی حکومت کی کامیابی، عورتوں کی تاریخی فتح اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کی کامیابی کا نام دے رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سپریم کورٹ کا موقف کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اس موقف کی وضاحت ہو چکی ہے۔1937,1950 اور 2002 وغیرہ میں اس موضوع پر بحث وہ چکی ہے۔سچ کہیں تو یہ موقف امت مسلمہ کو ایک کریہہ اضطراب سے بچانے کا حل بھی ہو سکتا ہے۔جس موقف کی کھل کر وضاحت اور اس کی بھرپور تعلیم ہونی چاہئے تھی لیکن معلمین کچھ نااہلی اور کچھ غیر ضروری حکمتوں نے حالات کہاں سے کہاں پہنچا دئے ایسے میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ قدم واقعی سوئی ہوئی فکروں کے جگانے کا کام کر سکتا ہے۔ہو سکتا ہے اس کے بعد امت کو باربار ذلت و پشیمانی سے محفوظ کرنے کے لئے کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اس تین کے قرآن وضاحت کو دور حاضر کی نئی تکنیکی فہم و فراست کے رو بہ رو کرایا جا سکے۔ خیر یہ تو ابھی بعد کی باتیں ہیں لیکن کچھ سیاسی حلقوں میں تو جشن کا ماحول ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ابھی یو پی حکومت کی جانب سے مدرسوں کے لئے جاری کئے گئے ایک فرمان کے بعد تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مدرسوں میں قومی پرچم لہرانا اور قومی ترانا گانا ضروری ہے۔ حالانکہ یہ کام اہل مدارس برسوں کے کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ لیکن اسے اس میڈیا اور کچھ سرکاری ٹکڑا خوروں نے یہ ثابت کرے کی کوشش کی کہ یہ یو پی حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے مدرسوں میں قومی پرچم لہرانے اور قومی ترانا گانے پر ان اہل مدارس اور مسلمانوں کو مجبور کر دیا۔ بھکت تو آخر بھکت ہیں۔ انہوں نے جشن منایا۔ اب میڈیا اس معاملے میں بھلا پیچھے کیسے رہ سکتی ہے۔ اس نے گورکھپور کے معصوموں کی جان پر کوئی توجہ دینے کی بجائے بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم کے ذریعہ ملک کے جذبات کا سودا کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اس سنگین معاملے کو یوں ہی دبا دیا گیا۔ ناکامی کو جھوٹے جشن میں گم کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا کی بھی اپنی ایک دنیا اور کبھی کبھی لگتا ہے اس کا اپنا ایک ملک اور اپنے قوانین ہیں۔ جہاں سچ کے علاوہ سب کچھ ہے۔سپریم کورٹ کے موقف کے مطابق تین طلاق کو ایک بیٹھک میں دینے پرچھہ ماہ کی پابندی لگائی گئی ہے۔ان چھہ مہینوں میں اس بابت ایک قانون بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت اس سے پہلے اس معاملے میں اپنا حلف نامہ داخل کر چکی ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ خود قوم مسلم میں بھی برسوں سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اب شاید یہ قوم اور اس کے ذمہ دار اس حساس اور سنجیدہ مسئلے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں۔اس معاملے میں جملہ احناف کا اگرچہ متفقہ موقف ایک بیٹھک میں تین طلاق کے واقع ہونے کا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک متفق علیہ رائے ہے کہ یہ عمل ناجائز، حرام یا کم سے کم باعث گناہ ہے۔ طلاق بذات خود ایک ایسا جائز عمل ہے جو رب کو سب سے زیادہ نا پسندیدہ ہے۔اس حوالے سے عقلی و نقلی دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں ہی صورتوں کا عملی وقوع تاریخ میں ملتا ہے۔اس کے ساتھ ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کوسزائیں بھی دی گئی ہیں۔ اب اگر حکومت اس معاملے میں ایک ساتھ تین طلاق دینے والے کے لئے کوئی سزا تجویز کرتی ہے تو شاید اب بات کو خود مسلم ذمہ دار محسوس کر رہے تھے۔ جبکہ ایک ساتھ تین طلاق کے نفاذ کا کوئی مسئلہ زیر بحث نہیں ہے۔وہ شریعت کے اعتبار سے نافظ ہوگا۔کیونکہ سزا کا تصور ہی اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ایک بیٹھک میں دی گئی تین طلاق واقع ہو جانے کی وجہ سے چونکہ عورت نکاح
اور مرد کی ذمہ داری سے نکل گئی اس لئے مرد پر سزا لازم ہے۔
کورٹ نے اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا فیصلہ لیا ہے۔ پرسنل لاء میں جبری اور غیر قانونی دخل اندازی کو سرے سے خارج کر دیا اورہر ان امیدوں پر پانی پھیر دیا جن کے ذریعہ آنے والے اگلے دو برسوں کی سیاست کی بنیاد رکھی جانی تھی۔ یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کی گھناؤنی سازش بھی ناکام ہو گئی۔در اصل طلاق کبھی بھی اس ملک کا اہم اور سنجیدہ مدعیٰ تھا ہی نہیں۔ اس کی شروعات ملک کے وزیر اعظم ملک کی مسلم عورتوں کو انصاف دلانے کے لئے شروع کرتے ہیں لیکن کیا واقعی وہ ایسا چاہتے بھی ہیں، یہ سبھی نے دیکھ لیا ہے۔ خود انہیں کی ریاست کی مسلم عورت ذکیہ جعفری اب تک انصاف مانگ رہی ہے۔ نجیب، منہاج، اخلاق، پہلے خان جیسے سیکڑوں کے اہل خانہ کی نگاہیں انصاف دیکھنے کی آس میں سوکھی جا رہی ہیں۔ گجرات معاملے سے لے کر مظفر نگر، اجمیر اور مالے گاؤں جیسے سیکڑوں حادثات کی چپیٹ سے جوجھتی مسلم عورتوں کا درد نہ تو دکھا ئی دیتا ہے اور نہ ہی وہ معنیٰ رکھتا ہے۔ مسلم عورتوں کے بہتری کے لئے وزیر اعظم کی جانب سے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی نہ صرف تائید ہوتی بلکہ اس میں ہر ممکن تعاون بھی ہوتا اگر واقعی ملک کا مکھیا یہی کرنا چاہتا۔ ان مسلم ماں بہنوں کے اوپر ظلم کی ایک ہی صورت نظر آئی اور وہ ہے ایک بیٹھک میں تین طلاق۔ جب کہ زخموں کے نہا خانوں میں اور بھی درد ہیں جو رونے بھی نہیں دیتے ہیں۔جہاں تک طلاق کی وجہ سے بے گھر ہونے والی عورتوں کا سوال ہے تو اس کا فیصد جو اب تک نکالا گیا ہے اس میں تین گنا سے زیادہ فیصد غیر مسلم عورتوں کا ہے جنہیں گھر سے بے گھر کر دیا گیا ہے۔کیا کوئی قانون اس پر بھی بنانے کی بات ہوگی؟
در اصل 2014کی مرکزی حکومت ہو یا 2016 کی یوپی کی ریاستی حکومت دونوں کی واضح اکثریت نے دل اور دماغ کا توازن ختم کر دیا۔ دونوں ہی سرکاریں ایک طویل مدت کے بعد اقتدار میں آئی ہیں اس لئے ہڑبڑاہٹ میں ایسے کام کرنے لگیں جو خود اپنی ہی حکومت اور اس کے منشور کے خلاف ہونے لگا۔ یو پی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ نے ساری اہلیت اور قابلیت کو صاف کر دیا کہ اس سرکار کے پاس بھی مذہب کی سیاست کے علاوہ کچھ اور کرنے کو نہیں ہے۔اس لئے اس نے بھی اپنی ساری طاقت ناموں کی تبدیلی اور گایوں کی حفاظت میں جھونک دی۔ یو پی کے دس سے زائد ضلعے باڑھ کی چپیٹ میں آگئے، سیکڑوں بے گھر ہو گئے اور اموات کا بھی شمار سو کو پہنچنے والا ہے۔ گائے کی حفاظت کے لئے انسانوں کا سر عام خون حلا ل کر دیا گیا۔
سیاست کی خونی پیاس یہاں بھی نہ بجھی 60سے زیادہ معصوموں کی موت پر خاموشی، مضحکہ خیز بلکہ توہین آمیز بیان دے کر بجھائی گئی۔لگاتار دو ٹرین حادثوں کی وجہ سے ہونے والی بیسوں اموات اور سیکڑوں کے زخموں نے جب آواز لگائی اور ادھر اجمیر بلاسٹ کے اہم ملزم کو جب ضمانت مل گئی اور لگا کہ پردا فاش ہو جائے گا تو سارا زور طلاق پر دے دیا گیا۔انسانی اموات کا سلسلہ چلتا رہا۔ میڈیا میں اس بات پر بحث جاری رہی کہ مدرسے قومی پرچم لہراکر اور قومی ترانہ گا کر اپنی وطن پرستی کا ثبوت دیں گے۔ مسلم عورتوں کے تین طلاق سے طلاق دلانا ہی اس سرکار کا اولین ترین مقصد ہے۔اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس حکومت نے یہ ایک آسان راہ نکالی کہ میڈیا کے ذریعے اسے ایک مشتعل کن مسئلہ بنا دیا۔
یہ اس وقت کی سیاست کی نااہلی ہے یا بد عنوانی ہے کہ ہر بڑے حادثے کومذہبی جذبات اور انسانی خون سے دھو دیا جاتا ہے۔2014 سے2017اس سرکار کی جانب سے سرمایا داروں کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر مذہبی لیبا پوتی ہوتی رہی۔ بے روزگاری اور بدعنوانی ختم کرنے کے وعدے پر اقتدار میں اس حکومت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ آج حکومتیں صرف بدعنوانی ہی کے لئے بنائی جاتی ہیں۔51فیصد FDIکی مخالفت کرنے والی حذب مخالف جماعت نے اقتدار میں آتے ہی 100فیصد FDIکو منظور کردیا۔ جب تک اقتدار سے باہر تھے GSTکا بائکاٹ کرتے رہے ، اقتدار میں آتے ہی بڑی چالاکی سے پاس کر دیا۔ نوٹ بندی بھی جاری کر دی اور نہ جانے کتنے ہزار کروڑ اس ادلا بدلی کا شکار ہوکر ملک کے غریب طبقے کو اور غریب کرنے اور کسانوں کو خودکشی پر آمادہ کر گئے۔ آخر یہ لاکھوں کروڑ کے گھوٹالے ایک نہیں ہزاروں اسکیم اس ملک کو کہاں لے جار ہے ہیں۔ لیکن ہماری عوام ابھی بھی اسی میں الجھی ہے کہ یو پی میں رہنا ے تو یوگی یوگی کہنا ہے اور بھارت میں رہنا ہے تو مودی مودی کہنا ہے۔
اس کا ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جو بول سکتا پر خاموش ہے۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385


@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Saturday, August 26, 2017

کیا یہ میڈیا کی وطن پرستی پر سوال نہیں؟Is it not a question on Media?क्या यह मीडिया की देश भक्ति पर प्रश्न चिन्ह नहीं है?


کیا یہ میڈیا کی وطن پرستی پر سوال نہیں؟

عبد المعید ازہری

جس طرح سے میڈیا اپنے اخلاق کا گلا گھونٹ کر ملک کو اخلاقی طور پر کھوکھلا کر رہی ہے، وہ اس مصداق پر پوری طرح کھری اتر رہی ہے کہ’’ ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘۔میڈیا کا گرتا معیار آج گرتی سرکاروں سے زیادہ بکاؤ ہوتا جا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کی آزادی اور خود مختاری کے طوفان نے میڈیا اور سیاست کے دل و دماغ کو ایک ساتھ معزور و معزول کر دیا ہے۔آج کا میڈیا دہشت اور نفرت پھیلانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک زمانے میں میڈیا کو جمہوریت کا ستون کا کہا جاتا ہے۔آج بھی ستون ہی ہے لیکن سب سے پہلے گرنے اور بکنے والاستون۔اس ملک کے لئے میڈیا کی بھی بڑی قربانیاں رہی ہیں لیکن آج کے غدار اور کاروباری میڈیا والوں نے ان قربان ہونے والوں کی روحوں کو پھر سے مارنے کا کام کیا ہے۔ حق گوئی اور بے باکی، سچ بولنے، دکھانے اور اسے ثابت کرنے کا سارا جذبہ چمچا گیری کی نذر ہو گیا۔ آج جب بھی اخبار اور ٹی وی دیکھو تو ڈر لگتا ہے۔ نہ جانے اب کس خبر سے دہشت پیدا کر دی جائے۔ ایک داعش اور اس کی ہم فکر تنظیمیں دہشت کا کاروبار کر رہی ہیں۔ دوسری ہمارے ملک کی مخصوص بھیڑ ڈر کا کاروبار کر ہی ہے۔ بیچ چوراہے پر کسی کو بھی مار کر اس کی ویڈیو بناکر اسے خود شیئر کر کے ملک کے آئین اس کے دستور اور اس کے جمہوری نظاموں کو چیلنج دے کر انصاف اور قانون کا خون کر رہے ہیں ۔ وہیں میڈیا بھی ان کا آلہ کار بن کر اس کاروبارکو فروغ دینے کا کام کر رہی ہے۔لوگوں کو اطراف اکناف کی ضروری تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کی بجائے ان پر خوف طاری کر رہی ہے۔ اس کے بعد اس خوف کے ازالہ کے لئے کاروباری دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ڈر کا کوروبار ایسا ہے جس میں نقصان نہیں ہوتا ہے۔
میڈیا کے اس ڈوبتے سورج کی کبھی صبح امید اور جوش کی تپش اور جنون کی گرمی بھی ہوا کرتی تھی جس میں نہ جانے کتنی باطل اور مجرم طاقتوں کی کالی بدلیاں کسی نا معلوم کونوں میں دبک جاتی تھیں۔ انصاف کے جب سارے دروازے بند ہو جاتے تھے تو یہی ایک دروازہ تھا جس نے کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا۔ سیاسی رہنماؤں کی طرح اس شعبہ نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جو تاریخ میں زندہ ہیں اور انہیں کی وجہ سے آج کی صحافت کی آبروزندہ ہے ورنہ آج کے کاروباری اور بکاؤ صحافیوں نے تو اس کا گلا تقریبا گھونٹ ہی دیاہے۔ایک سچا صحافی اپنے آپ میں ایک انصاف بلکہ ایک انقلاب ہوتا ہے۔ ملک کے ذمہ داروں میں اس کا شمارہوتا ہے۔ جس طرح ملک کا مستقبل سیاسی،سماجی اور قانونی رہنماء طے کرتے ہیں اسی طرح اس میں ایک حصہ میڈیا کا بھی ہوتا ہے لیکن آج بد عنوانی کی آندھی میں یہ ستون بھی گر چکا ہے۔
آج اخبار میں کیا آنا ہے اور ٹی وی میں کیا دکھایا جانا ہے یہ سب بند کمرے کی سیاست طے کرتی ہے۔قومی سطح پر کس کو کہاں کیا اور کیسا مقام دینا ہے یہ سب طے شدہ ہوتا ہے۔ایک سینئر صحافی کے ۵۰ سالہ صحافتی تجربہ کے مطابق ملک میں رونما ہونے والے بڑے حادثات جیسے دنگے، فرقہ وارانہ فسادات،سر عام کسی کا قتل یا پھر انکاؤنٹر یہ سب پہلے سے طے ہوتا ہے۔ان تمام چیزوں سے پرے میڈیا کا اپنا ایک اصول ہے کہ وہ اپنی خبروں سے معاشرے میں ڈر پیدا نہیں کر سکتی۔ اسے ہر حال میں لوگوں میں ہمت اور امیدبنائے رکھنا ہوتا ہے۔ آج کی میڈیا میں بالکل اس کے مخالف کام ہو رہا ہے۔کسی کو بھی مجرم یا دہشت گرد کہنا تو اس کا یومیہ مشق ہو گیا ہے۔ اس کا جرم ہے بھی کہ نہیں، عدالت اورقانون اسے کیا کہتا ہے ان سب چیزوں کی پرواہ کئے بغیر ہمارے صاحب کیاکہتے ہیں اس کی پرواہ کی جاتی ہے۔ہر روز اپنا نیا ساتھی یا پھر ساتھ کے لئے ہر روز بکنے والا معیار ہو گیا ہے۔ اس کا یہ معیار خود اس میڈیانے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے۔ آج کی میڈیا محض کاروبار ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ میڈیا کاروبار اور پیسہ کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ وہ جی حضوری کے چکر میں ملک کی عظمت اور اس کے وقار کو بھی خاک میں ملا سکتی ہے۔ ایسا ہی واقعہ حال ہی میں ہوا ہے۔
TRP، سنسنی اور سب سے پہلے خبر دینے کی ہوڑ نے سب کے ہوش اڑادئے جب یہ خبر میڈیامیں عام ہوئی کہ’’ ملک کے پاس ہتھیار کم ہیں‘‘۔جنگ کی صورت میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مطلب ہم کمزور ہیں۔ بظاہر یہ بہت چھوٹی بات ہے۔ لیکن اس کے پیچھے کے سوالات نہایت ہی خطرناک ہیں۔ سب سے پہلا سوال کہ ’ہمارے ملک میں کتنا ہتھیار ہے‘ یہ خبر ایسے ہی میڈیا میں کیسے آگئی؟یہ خبر چھاپنے یا دکھانے سے پہلے میڈیا نے کیوں نہیں سوچا کہ اس کا کیا رد عمل یا پس منظر و پیش منظر ہو سکتا ہے۔اس خبر کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک پر کیااثر پڑے گا۔ اس خبر سے کس کو کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟یہ سب بڑے ہی ڈرامائی اور فلمی انداز میں ہوا۔ چین کی جانب سے ملک کے خلاف بڑھتے اقدامات کے جواب میں کئی ممالک کی حمایت کی خبریں آتی ہیں۔ چینی سامان کے بائکاٹ کا پروپیگینڈہ ہوتا ہے۔ ہند و چین کے روزانہ بگڑتے حالات کی خبریں بھی آئی ہیں۔اچانک خبر آئی ہے کہ ہمارے پاس تو ہتھیار ہی نہیں ہیں۔سرجیکل اسٹرائک سے لے کر اب تک جس طرح سے ہماری فوج کا سیاسی استعمال اور قدرے استحصال ہوا وہ شاید ملک کی تاریخ میں ایک نمایاں باب ہو۔اس خبر نے جہاں ملک کو ایک طرف کشمکش میں ڈال دیا ہے وہیں دوسری طرف ایک بڑے خدشے کا بھی اشارہ دیا ہے۔ اب جب ملک میں ہتھیار کم ہیں۔ اس پر پاکستان اور چین کی طرف سے مسلسل دست درازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس لئے بھاری مقدارمیں اسلحہ اور ہتھیار کی خریداری ہونی ہے۔ کچھ دن قبل فوجی ٹرک کی خریداری اور اس سے جڑے کچھ خلاصے سامنے آئے تھے۔ اس خریداری میں جس قدر گھوٹالہ اور اسکیم کامعاملہ سامنے آیا تھا کیا یہ اس سے بھی بھیانک ہو سکتا ہے۔یہ پانچ گھنٹے کی فلم میں ہر آدھے گھنٹے ،بیس منٹ، اور ایک گھنٹے میں جو سسپینس اور ٹویسٹ آرہے ہیں، وہ برے مہلک ہوتے جا رہے ہیں۔ ابھی تو دو گھنٹے کی فلم باقی بھی ہے۔ اس پر مزید یہ ہے کہ اگلے پانچ گھنٹے کی اس فلم کی دوسری سیریز بھی تقریبا تیار نظر آتی ہے۔کیونکہ تقریبا سارے پروڈکشن ہاؤس بند پڑے ہیں کہیں کوئی شوٹنگ چل ہی نہیں رہی ہے اور جس طرح سے یہ مسالہ فلم چل رہی ہے ایسا لگتا ہے کئی ریکارڑ توڑ کر ہی دم لے گی۔
ملک کی داخلی صورت حال وہ بھی سیکیورٹی سے متعلق خبریں نشر کرنا اور وہ بھی اتنی غیر ذمہ دارانہ طورمیڈیا کے ساتھ ساتھ ملک کے ساتھ بھی کھلواڑ ہے۔ اس سلسلے میں یہ عقدہ کشائی ایک طرف کہ آخر یہ خبر میڈیا میں آئی کیسے۔ اس کا سرجکل، نوٹ بندی،کشمیر، امرناتھ، GST ،صدر جمہوریہ کا الیکشن یا بہارکی سرکار اور سی بی آئی کے چھاپوں سے تو ہو سکتا ہے کوئی لینا دینا نہ ہو لیکن آج سیاست کی گھٹی میں شامل بد عنوانی کو تو کافی بڑا راستہ مل گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر حکومتوں کا کیا رد عمل ہوتا ہے۔اس انتہا پسند بھیڑ کا کیا رد عمل ہوتا جو ملک میں کھانا، کپڑا، کاروبار، کہنا سننا اور بولنا طے کرتے ہیں۔ جو ملک کی وفاداری کا ٹیسٹ لیتے رہتے ہیں۔ اب وہ اس بات کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔احتجاجی پیشہ وروں کا اس پر کیا رد عمل ہوتا ہے۔ یہ ایک قابل غور امر ہے۔سوشل میڈیا کے کرانتی کاری بھی اب تک خاموش ہیں۔ یا تو انہیں اب تک بتایا نہیں گیا یا رموٹ آن نہیں کیا گیا۔اب ایسی صورت حال میں اس قدر خاموشی ذہنی و اخلاقی طورپر موت کے ساتھ ساتھ وطن پرستی کی امید کے دم مرگ کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی میڈیا کی سفاکیت ہے کہ سیمانچل کے سیلاب زدگان، گورکھپور کے معصوم بچوں کی اموات، دو ٹرینوں کے حادثے اور کرنل پروہت کی ضمانت کو دباکر سپریم کورٹ کے تین طلاق کے فیصلے اور وطن پرستی کے تئین بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم پر سارا زور لگا رہی ہے۔ اس میڈیا کے لئے سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کسی طرح سے یوپی حکومت کی چمچہ گیری کو ثابت کرنے کیلئے یہ ثابت کر دیں یوپی کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یوگی سرکار کے فرمان کی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے مدرسوں میں ترنگا پھہرایا اب ناگپور میں کیا ہوا اس کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ مودی حکومت نے مسلم عورتوں کے حق کے لئے ملک کو لاکھوں نوجوانوں کے روزگار، کسانوں کی خودکشیوں اور عورتوں کی آبروریزی کے سنجیدہ معاملا ت کو بالائے طاق رکھ دیا۔ یہ سب بس چند ٹکڑوں کے لئے ہوا۔
یہ خالص ملک، اس کی حفاظت، اس کے وقار اور داخلی پالیسی کا مسئلہ ہے۔لیکن وطن پرستی کی یہ خاموشی واقعی حیران کرنے والی ہے۔
جس طرح سے محض افواہ میں بے گناہوں کا قتل کر کے ملک کی حفاظت کا دعوی کرنے والی دہشت پسند بھیڑ نے ملک کے وقار کے تئیں اپنے خون کی قربانی دینے کے دعوے کئے ہیں کیا وہ لوگ اب اس میڈیا اور اس خبر کے نشر کرنے والوں کے ذمہ داروں سے اس متعلق سوال کریں گے۔ حکومت خاموش ہے۔ قانون چپ ہے۔ وفاداری کے سارے دعوے دار بے زبان ہیں۔کھلے عام ملک کے وقار کی توہین کی گئی ۔ذمہ دار کون ہے، محاسب کون ہے اور حساب کون دے گا؟
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com
follow me:


@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@