Showing posts with label mazhab. Show all posts
Showing posts with label mazhab. Show all posts

Sunday, May 3, 2020

جب مذہب گمراہ کرنے لگے۔۔۔When Religion Starts Misguiding

جب مذہب گمراہ کرنے لگے۔۔۔

عبد المعید ازہری

خدا نے انسان کی تخلیق کے بعد اسے انسانی سماج میں رہنے دیا۔ اس انسانی سماج کو مذہب اختیار کرنے کی آزادی دی۔ کسی پر کوئی مذہب جبرا مسلط نہیں کیا۔ البتہ اپنا پسندیدہ دین واضح کر دیا۔ اس دین کی نشر واشاعت اور تبلیغ کے لئے با قاعدہ نظم و نسق بھی کیا۔ انبیا و رسولوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو ایک وقفے کے بعد آتے رہے اور خدا کے پسندیدہ دین کی تبلیغ کرتے رہے۔ انسانی سماج کے لئے وہ دین کتنا معتدل، جامع اور منافع بخش ہے اس کی بھی وضاحت اور تبلیغ کرتے رہے۔ جن کے دلوں پر اس دین کی منفعت واضح ہوئی اور اس دین کی ہدایت کا نور ان کے دلوں میں روشن ہوا وہ اس دین کو اختیار کرتے چلے گئے۔ یہ سلسلہ نبوت و رسالت آخری نبی پیغمبر اسلام حضرت محمد علیہ السلام تک آکر ختم ہوا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ آخری نبی کے پیروکاروں کے ذریعہ آج تک جاری ہے۔ اس پوری نبوی تحریک کی تبلیغ میں پہلے نبی حضرت آدم سے لیکر آخری نبی تک ہر ایک نے لوگوں کو خدا کے پسندیدہ دین کی طرف دعوت دی۔ یعنی ایمان کی تبلیغ کی۔ کسی کے کفر پر لعن طعن اور ملامت کے ذریعہ ایمان میں داخل ہونے کے دروازے کو بند نہیں کیا۔ بلکہ کفر کی شدید گہری تاریکی پر بھی ایمان کے امکانی دروازے کو خوش مزاجی کے ساتھ کھولے رکھا۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ مختلف ادیان و مذاہب والے کثیر ثقافتی اور مذہبی ماحول میں جینے کی نہ صرف راہیں نکالیں بلکہ دوسروں کے لئے مثالی اور متاثر کن زندگی جینے کی ترغیب دی۔ہمیشہ میل جو کو بڑھاوا دیا اور انسانیت کو دین کا سب سے مضبوط معیار بنایا۔
آج مسلمانوں کی معاشرتی زندگی ان کے دین کے برخلاف جاتی نظر آ رہی ہے۔ دین کو خود پر برتنے کی شدت اپنی حدوں کو توڑتے ہوئے دوسروں کی پسند و نا پسند کا فیصلہ کرنے لگی۔ کسی کے دل یا دماغ میں کیا ہے اس کا فیصلہ دوسرے لوگ کرنے لگے۔کسے مؤمن یا کافر ہونا ہے اس کافیصلہ اس کا اپنا یقین و اعتقاد نہیں بلکہ ادارے اور دوسرے افراد کرنے لگے۔ایک کثیر تہذیبی اور مذہبی ملک و معاشرے میں مساوی راستے (کلمۃ سواء) کی تلاش کرنے والے پر مذہب کا پھندا کستا چلا جا رہاہے جہاں اسے گھٹن کا احساس بھی شروع ہو گیا ہے۔
پیغمبراسلام کی قابل تقلد کتاب زندگی میں کچھ ایسے بھی ابواب ہیں جو ہماری معاشرتی زندگی پر بڑی وضاحتی روشنی ڈالتے ہیں جن پر آج کا نام نہاد مذہبی گروہ گمرہی کے پردے ڈالتا نظر آ رہا ہے۔ ایک منافق کے جنازے پر کھڑا ہونا ہو یا پھر اس کی میت پر اپنی چادر رکھنا یا پھر اہل مکہ کے ساتھ اس گروہ میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار ہو جو اعلان نبوت سے قبل مکہ میں آنے والے زائرین (کافر و مشرک)کی حفاظت کرتا تھا۔ اس طرح کے عمل ان کے بعد ان کے سب سے معتمد اور اہل اسلام کے لئے سب سے معتبر نمونہ عمل اصحاب کرام نے بھی کیا۔کسی بھی غیر مسلم کے ساتھ اس کے سکھ دکھ میں ساتھ دینا، اس کے ساتھ تجارت و کاروبار کرنا، اس کے ساتھ معاشرتی معاملات رکھنا، خوشی میں شامل ہونا اور کسی کے ٹوٹنے پر اس کی ڈھارس بندھانا کبھی اسلام کے خلاف نہیں تھا۔انسانی رشتوں اور جذبات کا اظہار کبھی اسلام کے راستے کی رکاوت نہیں تھا۔پھر آخر یہ سب خلاف شرع کیسے ہو گیا؟
تشدد کا مقابلہ اور اس کی مخالفت کرتے کرتے آج کا مسلمان خود کتنا متشدد ہو گیا اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ مذہبی زندگی تو دور کی بات اسے تو معاشرتی زندگی جینے کی عادت نہیں رہی۔شدت پسندی اور انتہا پسندی کے مقابلے میں شدت اور انتہا پسندی کبھی بھی اسلام کا شیوا نہیں تھا لیکن آج کی مذہبی ٹھیکیداری نے اسلام کی امن و سلامتی کی بنیادی تعلیم کو غلبہ اسلام کی جھوٹی اشاعت کے نام پر شدت پسندی کے قید خانے میں پابند سلاسل کر دیا۔مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی طوفان بد تمیزی میں صرف اسلام دشمن عناصر کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ ناکام، بزدل، فریبی، جھوٹے، کاروباری،منافق نما دھوکہ باز مذہبی و سیاسی قیادت ان کا آلہ کار ہے۔اپنی ہر جہالت، لاعلمی اور کم اور کج علمی کو یہود و نصاری یا یہود و ہنو د کی سازش کا نام دے کر نئی نسل کے مسلمانوں میں مذہب کی افیم کا نشہ بھر دیا ہے۔آج جس طرح سے آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیمیں مذہب کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں کیا ایسی فکر و تحریک قوم مسلم میں نہیں ہے؟ تو کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ کر صفائی کی تحریک کی بے وقوفانہ تبلیغ کو اسلام کا نام دینا کیا اسلام دشمنی نہیں ہے۔
اسلام کی آمد کا جو دور تھا اس میں انسان کے دل میں ایمان کا نور تلاش کیا جاتا تھا۔ اسی کی بنیاد پر اسے دعوت ایمان و اسلام دی جاتی تھی۔ آج کفر کی تاریکی ڈھونڈھنے کو مذہب و شریعت کی خدمت تصور کیا جاتا ہے۔گمرہی کی یہ تاریک روایت پوری قوم کے مستقبل کو ایک زبردست تاریکی میں لے جانے کے لئے کافی ہے۔آج اسلام کو مسلمانوں کی بڑی یاد آ رہی ہے۔جو اسلام کے نام پر مہذب معاشرت کی پیروی کی تعلیم و ترغیب دے سکیں۔کفر کی تبلیغ کو اسلام، مذہب و شریعت کی خدمت کا نام دے کر دین کو بدنام کرنے والوں سے دین کی حفاظت کر سکیں۔جو کثیر تہذیبی اور مذہبی معاشرے میں ایک مثالی زندگی کی بنیاد ڈال سکیں۔جو انسانی رشتوں اور جذبوں کو دین سے جوڑ سکیں۔
اپنے غیر مسلم پڑوسی کے سکھ دکھ میں شامل ہونے، خوشی میں ساتھ دینے اور غم میں کندھا دینے میں کوئی شریعت آڑے نہ آئے ایسی معاشرت کی دوبارہ تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔بہترین دین کے پیروکاروں کا بدترین اخلاق اس پوری قوم کے زوال کا سب سے نمایاں سبب ہے۔ جس کی بھرپائی کسی ضد و جارحیت،مخالفت و مخاصمت سے نہیں بلکہ حکمت، حسن عمل اور اعلیٰ اخلاق و کردار سے ممکن ہے۔ ساتھ ہی نام نہادکاروباری سیاسی و مذہبی قیادت سے چھٹکارا کامیابی کی طرف تیزی سے بڑھنے میں مددگار ہوگا۔اگر اس قید سے آزادی میسر نہ ہوئی تو مذہبی افیم کا نشہ اس قوم کو کبھی بیدار نہیں ہونے دے گااور اس قوم کو مذہب کے نام پر بس گمرہی ملے گی۔

جب مذہب گمراہ کرنے لگے۔۔ عبد المعید ازہری

Friday, November 15, 2019

مسلمانوں میں فرقہ بندی मुसलमानों में बढती गिरोह बंदीincreasing divisions among muslims

مسلمانوں میں فرقہ بندی کا بڑھتا رجحان


عبد المعید ازہری

قوم مسلم کا آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلام کے مبلغ آج کفر کی تبلیغ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ایمان کی روشنی سے انسانی حیات کی تاریکی دور کرنے کی بجائے روشن حیات انسان کو جبرا کفر و شرک کے اندھیرے میں قید کرنے کی مذموم کوشش میں لگے ہئے ہیں۔امن اتحا د کے پیغام بر انتشار و افتراق کی نشر و اشاعت کر رہے ہیں۔
اس بات سے انحراف ممکن نہیں کہ جھگڑا، فساد، اختلاف اور انتشار انسانی فطرت کا حصہ ہے۔اسی لئے انسانی سماج میں توازن قائم رکھنے کے لئے ترغیب و ترہیب کے قوانین وضع کئے گئے اور ان کے نفاذ سے معاشرے میں امن و امان، سلم سلامتی اور حقوق اور انصاف کا نظام قائل کیا گیا۔انسانی سماج کو دین کی ضرورت بھی اسی لئے آن پڑی کہ اس سے نظام عدل و مساوات قائم و دائم رہے۔کسی بھی مذہب کی بنیادی افادیت میں معاشرے میں سکون و توازن کا فروغ لازمی طور پر موجودہ ہے۔اسلام کے دونوں بنیادی مآخذ قرآنی آیات اور نبوی ارشادات میں اس بات کا خلاصہ موجود ہے۔ قرآن نے ایک درجن سے زائد جگہوں پر اس بات پر زور دیا کہ آپس میں گروہ بندی نہ کرو۔خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور آپس میں منقسم نہ ہو۔ پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن میں خدا نے فرمایا کہ جو لوگ فرقہ بندی میں ملوث ہوتے ہیں اور اسے بڑھاوا دیتے ہیں وہ بڑے گناہ میں شامل۔ تو آپ سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ اس طرح کئی جگہ پر تفریق و تقسیم پر خدا نے واضح روک لگائی ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج اسلام کے نمائندے مسلمانوں کی تقسیم کو خدا کی سنت سمجھ کر فروغ دے رہے ہیں۔ یا تو وہ کسی نئی خدائی کا دعوی کر رہے ہیں یا پھر اس خدا کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں جو فرقہ بندی کو پسند نہیں فرماتا۔
آج کے نام نہاد مسلم نمائندے جو مسلکی اور مذہبی اختلاف کو خدا کی رحمت سمجھتے ہیں اور اس اختلاف کو خدا و رسول کی مشیئت و مرضی تصور کرتے ہیں وہ خدا اور رسول پر بہتان لگاتے ہیں۔تکفیر و تفسیق، شرک و بدعت، حرام و حلال کے یہ تاجر اپنی خدائی کا کاروبار چلانے کے لئے قرآن و حدیث من مانی توضیح اور خدا و رسول کے فرمودات کی بے جا تاویل کی مجرمانہ حرکت سے بھی گریز نہیں کرتے۔خدا نے جنہیں اسلام و ایمان کا مبلغ بنایا وہ کفر و شرک کے داعی بن گئے۔ایمان و اسلام کی دولت تقسیم کرنے کی بجائے کفر و شرک، فسق و بدعت کا زہر قوم کے اندر ہی گھولنے لگے۔ ایک دوسرے میں الفت انسیت کا فروغ دینا تھا لیکن انہوں نے مسلک و مشرب اور مذہب ملت کے نام پر ایسی تقسیم شروع کر دی کہ ایک دین اور ملت کے پیروکار ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
ان جاہل علماء و مشائخ نے اپنے کاروباری دین کی نشر و اشاعت کے لئے خدا اور پیغمبر تک کے استعمال سے پرہیز نہیں کیا۔فرقوں کی تقسیم کے لئے خدا کے رسول سے منسوب ایک روایت ذکر کی جاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں 72 فرقے ہوئے تھے لیکن ہماری امت میں 73 فرقے ہوں گے جن میں ایک حق پر ہوگا۔دوسری دلیل قرآن کی ہے کہ خدا نے جب حضرت آدم کو خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا اور فرشتوں کو اس بابت آگاہ کیا تو فرشتوں نے کہا کہ خدا کریم کیا تو ایسے کو اپنا خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد اور قتل خوں ریزی کرے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن آدم کی فطرت میں جھگڑا و فساد ہے۔ لہٰذا فرقہ بندی، انتشار و اختلاف اور جھگڑا فساد تو خدا و رسول کے فرمودات کے حساب سے ہی ہے۔
جب کبھی بھی اور کسی بھی قوم کو اس طرح کے نمونے قیادت کی شکل میں ملے ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی کوئی نہیں روک پایا ہے۔اس قوم کی بربادی کے لئے کسی دوسرے کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔یہ قوم مسلم کی شومئے قسمت ہے کہ اس طرح کے جاہل اس کی قوم کی دین قیادت کر رہے ہیں۔
جب خداکے سامنے فرشتوں نے ابن آدم کی خصلت کا ذکر کیا تو خدا نے فرمایا تھا کہ ائے فرشتوں میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اور علم و حکمت کی خوبی نسل آدم میں بطور فطرت ڈال دی کہ اب یہ علم اس فساد اور فتنہ سے بنی آدم کی حفاظت کرے گا۔دنیا کا کوئی بھی مصلح اور محسن ہو یہاں تک کہ عام باپ ہو وہ اپنے بچوں کو نصیحت کرتا ہے کہ میرے بچوں میرے بعد تمہارے درمیاں زر زمین، دولت و شہرت یا اقتدار افتخار کے نام پر جھگڑے ہو سکتے ہیں لیکن تم آپس میں صلح سمجھوتہ کے ساتھ رہنا۔ کچھ بھی ہو جائے آپسی رشتے کو مضبوط رکھنا اور اس اتحاد کو بکھرنے مت دینا۔جب اس طرح کی توقع ایک عام انسان سے کی جاتی ہے تو کیا پیغمبر اسلام سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے تقسیم امت کی نشان دہی کرتے ہوئے اس سے باز رہنے کی نصیحت نہیں دی ہے۔
سیکڑوں ایسی روایتیں ہے اور درجن بھر ایسی آیتیں ہیں جو امت کی فرقہ وارانہ تقسیم کو مسترد کرتی ہیں۔ لیکن یہ اس قوم کے مذہبی رہنماوں کا قرآن و حدیث پر ظلم ہے کہ قوم کو خدا و رسول کے نام پر بانٹ رہے ہیں۔فرقہ بندی کے جواز کی راہیں تلاش کرنا سراسر ظلم ہے۔حق تو یہ تھا کہ انتشار کے سد باب کے راستے تلاش کئے جاتے۔
آج اتحاد ملت کی ریاکارانہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ جہاں پہلے یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ ہم جس گروہ یا مسلک سے جڑے ہیں اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں گے۔یہ مضبوطی کسی دوسرے کی بات سننے ہی نہیں دیتی۔اپنے علاوہ سب بے کار لگتا ہے۔جو خود سمجھے وہی قرآن واسلام باقی سب خلاف۔دانش مندی و دور اندیشی، حکمت و فلسہ اور علم و ادراک سے پرے کتابوں کے بوجھ تلے دبے نام نہاد رہبران قوم و ملت آج صرف قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔خود ساختہ تحقیق پر مبنی کتابوں کے علم کی روشنی اس قوم کو منزل سے کوسوں دور لے جاتی نظر آرہی ہے۔اگر اس قوم کو وقت رہے اس مجرم قیادت سے آزاد نہ کرا لیا گیا تو وہ دن دور رنہیں جب یہ کاروباری دین رسول کا مکمل بائکاٹ کر دے گا۔ایسے رہنماؤں سے آزادی میں ہی عافیت ہے جو خدا اور رسول کا استعمال کر کے لوگوں کو خدا اور رسول سے دور کرتے ہیں۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پے تھے، روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں۔


@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@