Showing posts with label Human and Humanity. Show all posts
Showing posts with label Human and Humanity. Show all posts

Tuesday, July 31, 2018

عرب کا بدلتا مزاجअरब की बदलती विचारधाराArab's turning policy

عرب کا بدلتا مزاج
 
عبدالمعید ازہری

سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جو خواتین کے حقوق اور مذہبی تصلب کے تئیں اکثر بحث و مباحثہ کا موضوع رہتا ہے۔ کبھی عرب ممالک میں عورتوں کے لئے مکمل پردے کا نظام تو کبھی حکومتی عہدوں پر ان کی تقرری عرب کے بدلے مزاج کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔ سعودی عرب پر جب اس بات کا شکنجہ کسا جانے لگا کہ وہ عورتوں کا استحصال کرتا ہے۔ انہیں مکمل آزادی نہیں دیتا۔ خواتین کو گھر میں قید رکھنے کی روایت کو ترجیح دیتا ہے۔ تو عرب نے اپنی خواتین کو بین الاقوامی کھیلوں کا حصہ بناکر دنیا کو بتایا کہ مغرب کا الزام جھوٹا ہے۔ ہماری خواتین بھی آزاد ہیں۔ حال ہی میں سعودی حکومت نے خواتین کو گاڑی چلانے کی جازت کے ساتھ اسٹیڈیم میں ایک ساتھ بیٹھ کر کھیل سے لطف اندوز ہونے کا تحفہ دیاہے۔ یہی نہیں بلکہ سعودی وزارتی حکومت کے ذریعے یوگ کو کھیل کا درجہ دیا گیا۔ جس کا صحرا وہاں کی پہلی خاتون یوگ معلمہ ناعوف المراوی کی بے لوث جد و جہد اور غیر معمولی کوششوں کو دیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی سعود عرب کی سب سے بڑی مسلم مذہبی تنظیم کے سینیر مولانا نے کہا ہمارے ملک کی خواتین کو عوامی جگہوں پر عبایا پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی اطلاع اسلام سے منسوب قوانین کی وضاحت کرنے والے کاونسل آف سینیر اسکالر کے سینیر مسلم اسکالر شیخ عبد اللہ المطاف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دی۔انہوں نے کہا کہ پاکیزگی اور اخلاقیات کو کپڑے کے دپٹوں میں لپیٹ کر نہیں رکھا جا سکتا۔
سعودی عرب نے اپنے اوپر مذہبی تصلب کے الزام کو خارج کرتے ہوئے عرب میں پہلے ہندو مندر کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عزم کیا۔فروری 2018 میں عرب نے ہمارے وزیر اعظم کے ابو دھابی کے دورے میں شہزادہ شیخ محمد بن زائد النحیان کی مہمان نوازی میں عرب امیرات کی طرف سے دی گئی زمین پر سوامی ناراین ہندو مندر کی بنیاد رکھ کر دنیا کو اپنے بدلتے مزاج کا ایک بڑا پیغام دیا۔
Abdul Moid Azhari (Amethi) Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com
@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@




Tuesday, September 26, 2017

برما کی آگ اور ہمارے ملک کی سیاست،خدا خیر کرے!बर्मा की आग और हमारे देश की राजनीति! खुदा खैर करे Burma & our Politics! God save us all!


برما کی آگ اور ہمارے ملک کی سیاست،خدا خیر کرے!

عبد المعید ازہری

دن ڈھل چکا تھا۔ میں دفتر سے گھر کی طرف واپس آ رہا تھا۔سورج غروب ہو نے کے بعد شفق کی آخری مدھم سی روشنی بکھری ہوئی تھی۔ میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ کہیں دور کا شور، چیخ اور آہ فریاد کی صدائیں بھی سن کے کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔جیسے جیسے میں گھر کے قریب ہو رہا تھا آواز بلند ہو رہی تھی۔ قریب کی بستی سے اٹھتا دھواں اور اس میں جلنے کی عجیب سی بدبو سے طبیعت مضطرب ہونے لگی تھی۔ ایک وقت تو ایسا بھی لگا شاید پڑوس ہی میں کہیں آگ لگی ہو۔ اچانک سے میری دل کی دھڑکنین تیز ہو گئیں۔ پچھلے 20دنوں کے منظر ایک ایک کر کے سامنے آنے لگے۔یہ اور بات ہے کہ اکثر حادثات کی منظر کشی موبائل سے ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آئی لوٹ مار اور قتل و غارت گری نے ایک سے زائد بار جذباتی بنا کر ہلاکت میں اضافہ کر چکے تھے۔ اس کے بعد اس میڈیا نے آج ہمیں اتنا ہراساں کر دیا ہے کہ میں اپنی موت کا انتظار کر رہا ہوں۔اب تک نذر آتش ہونے والے محلوں ، قصبات اور علاقوں کی تعداد بیس سے اوپر ہو چکی ہے۔ یہ وہ فہرست ہے جو اس بار کی قیامت کے ہیں۔ اس سے پہلے کی قیامت کو ہم بھول چکے ہیں۔ان جلی ہوئی بستیوں میں بچوں کے سلگتے جسم، برہنہ عورتوں کے لہولہان بدن، مردوں کے کٹے ہوئے اعضاء اور بزرگوں کا خاک و خون میں مٹتا وجود ہے۔وہ منظر بھی خون بن کر آنکھوں سے بہنے لگا جب ہتھیار بند جتھا قریب کی بستی میں گھسا تھا۔گھر کو بند کر کے اس میں آگ لگا دی گئی۔ زندہ انسان چیختے رہے۔ آگ کے شعلے ان کی چیخوں سے اور بھڑکتے رہے۔جس نے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی اسے واپس کاٹ کر اس میں پھینک دیا گیا۔اب میں سمچھ گیا تھا کہ اب تک میں جس حادثے کا انتظار کر رہا تھا شاید وہ وقت قریب آگیا ہے۔ہمت جواب دے چکی تھی۔ہاتھ پاؤں شل ہو گئے تھے۔ایسا لگا سامنے سے بھڑکتے ہوئے شعلے میری طرف لپک رہے ہیں۔ ان شعلوں کے درمیان برچھیاں تلوارویں اور ترشول نظر آرہے تھے۔ ایک سرد سی لہر پورے وجود میں کسی بجلی کی مانند کوند گئی۔ لڑکھڑاکر شاہراہ سے نیچے گر گیا۔
ارد گرد کالی رات کے کسی سنسان علاقے کی مانند خاموش سناٹا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں شور کر رہی تھیں۔ انسانی لاشوں کے جلنے کی وجہ سے پوری فضاآلودہ اور پراگندہ ہو چکی تھی۔ صبح نمودار ہونے کو تھی۔پورا جسم کمزرو لگ رہا تھا۔ذرا ساآنکھ کھولنے کی ہمت کی تو ایک بزرگ بغل والی درخت سے ٹیک لگائے ملے۔ ان آنکھوں کے اشک خوشک ہوچکے تھے۔ پتلیوں میں ویرانی صاف جھلک رہی تھی۔میں نے نڈھال سی آواز میں کہادادا یہ سب کیا ہو رہا؟ یہ لوگ ہمارے اور ہمارے مذہب کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ کیا اب سمجھ لیا جائے کہ مسلمانوں کے جینے کاحق نہیں ہے؟یہ بدھسٹ مسلمانوں کے دشمن نہیں کیوں ہیں؟ آخرم ہم نے کیا بگاڑا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟ بزرگ کی بیزار آنکھیں یک لخت میری طرف اٹھیں اور کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔میرے بارہا جھنجھلاتے ہوئے سوال سے تنک آکر انہوں نے کہا۔یہ بدھسٹ نہیں ہیں۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔میں کچھ جواب دینے ہی والا تھا کہ انہوں نے کہا کہ یہ سب کالے سائے ہیں ۔ ان کا کوئی دھرم اور مسلک نہیں ہے۔یہ باغی ہیں۔ یہ باغیانہ فکر صرف اسی قوم میں نہیں ہے بلکہ آج تقریبا ہر مذہب کے پیروکاروں میں یہ فکر تیزی سے پھیل رہی ہے۔یہ وہ فکر ہے جو پوری دنیا کے مذہب کے خلاف کھڑی ہے۔نفس، ہوس، دولت،طاقت،عیش وعشرت اور آزادی کے نشے میں چور یہ فکرپوری دنیامیں ایک مذہب مخالف فکر کو کھڑی کر رہی ہے۔ان سب کے دین اور اس کی فکر کا سب بڑا ذریعہ آج کی سوشل میڈیا ہے۔ آج اس ذرائع سے جڑاہوا ۸۰ فیصد انسان اس ذرائع سے نشر کی جانے والی خبروں کی تصدیق نہیں کرتا۔ یہاں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ دین بھی لوگ یہیں سیکھنے لگے ہیں اور اس سے بغاوت بھی۔اس جال میں آج کا نوجوان پوری طرح گھر چکا ہے۔ وہ ایک ریموٹ کنٹرول کے سہارے ہے۔مجھے اس کی باتیں بور کر رہی تھیں۔ لیکن دل اتنا اچاٹ اور طبیعت اتنی چور ہو چکی تھی کہ تاریک وحشت سے بچنے کیلئے بس کسی کا ساتھ درکار تھا اور وہ بولتا ہوا ساتھ ہو تو زیادہ سکون بخش ہوتا۔انہوں نے کہا یہی فکر پورے عرب کو کھارہی ہے۔پچھلے دس برسوں میں بیس لاکھ سے زیادہ بے گناہ انسان مارا جا چکا ہے۔یہی حال تمہارے ملک ہندوستان پاکستان اور افغانستان کا بھی ہے۔ ایک لمبی اکھڑتی اور کپکپاتی ہوئی سانس لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے ان بدھسٹوں کو انسانی خدمات کی مثالیں قائم کرتے ہوئے۔انسان تو انسان کسی جانور کو بھی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو چیخ اٹھتے تھے۔ لیکن آج وہ سب خاموش ہیں۔ ہو سکتا ہے مجبور ہوں جیسے ہم اس وقت خاموش اور مجبور تھے جب طالبان نے بدھسٹوں کے مذہبی مجسمے گرائے تھے۔ہم کچھ نہ کر سکے اور نہ ہو کچھ کہہ سکے۔پوری دنیا میں دہشت گرد مذہب کے نام پر دشہت گردی پھیلاتے رہے۔سارے مسلم ممالک خاموش رہے۔ ایک ایک کر کے جب وہ خود اس کا شکار ہونے لگے تو پڑوسی خاموش رہا۔ دعوت وتبلیغ کی ساری تنظیمیں خاموش رہیں۔یہاں بھی آئے تھے ہمیں دین سکھانے کے لئے۔ لیکن وہ تو ہمیں کچھ اور ہی سکھا گئے ۔ کچھ نوجوانوں کوبندوق دے گئے۔ آج پوری قوم مظلوم ہے۔مجھ سے رہا نہ گیا میں نے پوچھ لیا کہ آخر یہ سب ہے کیا؟ کس کی کیا دل چسپی ہے؟ عالمی برادری کیوں خاموش ہے؟ میرے ملک کے وزیر اعظم کا دورا بھی ہوا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بھی خاموش رہے۔ ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اب صحیح علم تو خدا ہی کو ہے البتہ اتنا تو طے ہے کہ اس برما سے سب کی اپنی اپنی سیاسی دلچسپیاں وابستہ ہیں۔یہاں تک کہ مارنے والوں کو بھی اب مذہبی جذبہ متاثر کئے ہوئے نہیں ہے بلکہ انہیں بھی سیاست استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے بڑی گہری نظر میری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کو خلافت عثمانیہ کے زوال کی تاریخ اور ہینفرے کے اقرار نامے کے متعلق کچھ معلومات ہے؟ میں نے غیر یقینی طورپر سر اوپر نیچے کر کے دائیں بائیں بھی ہلادیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ، نے یا یہودیوں نے بانٹو راج کرو کی سیاست کو سب سے پہلے مسلمانوں پر آزمایا۔ کافی محنت کے بعد وہ اس میں کامیاب ہوئے۔ اس کا ایک کامیاب تجربہ افغانستان میں طالبان بنا کر کر چکے ہیں۔ اب جہاں کہیں بھی امریکہ کو جانا ہوتا ہے۔ وہاں دہشت گردی کے حملے اور فرقہ وارانہ فسادات اس محبوب ترین ذریعہ ہے۔ اس کے لئے ماحول سازی میں دعوت و تبلیغ کا بڑھیا استعمال ہوتا ہے۔
اطمئنان سے بیٹھ کر وہ اپنی ہی روانی میں کھو گئے اور لگا کہ کوئی کہانی سنا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کہیں سے کوئی خبر آئی کہ برما میں بھی تیل ملا ہے۔برما کی جگہ ایشیا میں بالکل ایسے ہی ہے جیسے عرب ممالک میں سیریا اور ترکی ہے۔ہر آدمی اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے۔کیونکہ برما یعنی میانمار ASEANمتحدہ ممالک میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چین اس کا سب سے بڑا حامی اور پیشوا بھی ہے۔ ملیشیا اور تھائی لینڈ سمیت اس اتحاد میں شامل ممالک کی مجموعی آبادی میں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔اسی بیچ چین کی طرف سے ایک پروجکٹ لانچ ہونے کی خبر بھی سامنے آئی کہ ان ممالک کو جوڑنے کیلئے وہ سمندر سے ایک راستہ بنائے گا۔ اب تو روس اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی دلچسپی ہونا لازمی ہے۔اس مدعے پر گفتگو پھر کبھی۔
میں جھٹ سے پوچھا کہ یہ سب تو ٹھیک ہے ہمارے ملک ہندوستان کا اس کے کیا تعلق ہے۔ انہوں برجستہ کہا کہ جس ملک میں بھی مذہب کے خلاف باغیانہ فکر موجود ہے،ہر اس ملک کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ دلتوں کو بھی وہاں ظلم کا شکار کیا گیا ہے۔ بدھ مت کا آج کے نام نہاد ہندوتو سے بہت پرانا بیر اور دشمنی ہے۔یہ ملک ہند مخالف رہا ہے۔ اب ایسا بھی سننے میں آیا ہے کہ تم لوگ دلت مسلم اتحاد کی بھی باتیں کرنے لگے ہواور کچھ جگہوں پر اس کی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔یہاں کے دورے اور بدھسٹوں کو ہندوستان میں ملنے والی سہولتیں سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔چونکہ ہندوستان خود ASEANکا حصہ نہیں ہے۔اس لئے اس نے SAARC بنایا۔اب اگر مسلمان پلٹ کر وار کرتے ہیں، تو دونوں میں کشیدگی پھیلتی ہے۔ تو اس کا سیاسی اثر سب سے پہلے تو یہی ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان اتحاد کے امکانات فوری طورپر ختم ہو جائیں گے۔دسرا یہ کہ ہندی چینی بھائی بھائی کا ایک اور راستہ نکل آئے گا۔ انہوں نے ذرا لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ ویسے یوگی جی بھی یہاں آ چکے ہیں۔میں نے ایک گہری سانس لی۔ ابھی سانس پوری طرح چھوڑی بھی نہیں تھی کہ انہوں نے برجستہ کہا کہ اس طرح کے حادثات کے لئے تیار رہو۔ بلکہ اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہم نے کہا کوئی حل؟ ہنسنے لگے۔ اچانک سنجیدہ ہو کر کہنے لگے حل تو ہے لیکن ذرا مشکل ہے۔ جب تک لوگ سوشل میڈیا سے دین سیکھ کر سوشل میڈیا پر ہی دین کی حفاظت کرتے رہیں گے، جب تک مذہبی نااہلوں کی قیادت تشدد اور انتہا پسندی کے فروغ کا حصہ بنتی رہے گی اور جب تک ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بیٹھے اور بین المذاہب گفتگو سے دور ہوتے رہیں گے، ایسی تباہیوں سے کوئی نہیں روک سکتا۔ابھی اس پر میں کسی رد عمل کا اظہار کر پاتا کہ ایک تیز شور قریب ہی سے سنائی دیا ایسا لگا بس سر پر کوئی وار کرنے والا ہے۔ میں نے بزرگ کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہے تھے۔ دل کی تیز دھڑکنیں مجھے سنائی دے رہی تھیں۔دھیرے دھیرے ان بزرگ کا چہرہ آنھوں سے دھندلہ ہو رہا تھا لیکن ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات کسی نشتر کی طرح چبھ رہی تھیں۔ ایسا لگا میں کسی گھنے اور تاریک جنگل میں پھنس گیا ہوں۔ چاروں طرف سے انجان اور غیر مرئی طاقتیں مجھے اندر سے ڈرا رہی تھیں۔ پسینہ سے پورا جسم طر ہو گیا تھا۔ایک عجیب سے بھنور میں قید ہو گیا۔ وہا ں سے نکلنے کی کوئی سبیل نکلتی نظر نہیں آرہی تھی۔ کسی مدد یا اس طرف سے گزرنے والے شخص کا بے صبری اور شدت سے انتظار کر رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے پر جواب دے گئے۔ ہر بار میں اپنے آپ کو اسی جگہ پاتا۔ تھک ہار کر غش کھاکر اسی درخت سے ٹکراکر اسی بزرگ کی گود میں گر گیا۔آنکھ کھلی تو دیکھا میری باہوں میں ان کا ہاتھ اور اس کی کمر ہے۔ جسم سے دونوں پیر الگ ہیں۔کرتا پورا سرخ ہے۔ آنکھیں بالکل دھنسی ہوئی ہیں۔ خون سوکھ کر کالا پڑ چکا تھا۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ میں عالم بے ہوشی میں اس سے باتیں کر رہا تھا۔کیونکہ ان کا خون ہوئے تو کافی عرصہ ہوئے معلوم ہوتا ہے۔ ذرا سا سنبھالا لے کر گھر کی طرف بے تہاشا بھاگا۔ پوری قوت سے بھاگا۔ لیکن پانچ سو میٹر کا راستہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی راستہ طویل کر رہا ہے کہ مجھے پکڑے ہوئے ہے اور آگے بڑھنے نہیں دے رہا ہے۔میں زور زور سے چلانے لگا۔پانی کے چھینٹیں منہ پر پڑے تو چاروں طرف میرے دوست مجھے نیم کھلی آنکوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ میرا پورا جسم تپ رہا تھا اور پسینے سے تر بتر تھا۔
آنکھیں کھلی تھیں لیکن ابھی بھی پوری طرح ہوش میں نہیں تھا۔مجھے ابھی بھی یاد آ رہا تھا کہ بزرگ کے ساتھ ہوئی گفتگو کے بعد میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی و قومی صدر سید محمد اشرف کے کئی بیانوں کو کھنگال رہا تھا۔ جہاں انہوں نے کہا تھا کہ دوسروں کے گھر کی صفائی کی مہم سے پہلے اپنے گھر کی صفائی ضروری ہے۔ ہمارے مذہب کے نام پر بھی کچھ چند ایک سرپھرے اس مذہب مخالف فکر اور نظریے کا شکار ہو رہے ہیں۔جو فکر تبلیغ کے نام پر اٹھتی ہے اور ایک ظالم طاقت بن کر درگاہوں، خانقاہوں اور امام بارگاہوں تو توڑنے اور مسلمانوں ہی کو قتل کرنے لگتی ہے۔پوری دنیا میں دہشت و وحشت کا کاروبار کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے مخالف ایک فضا قائم کی جاتی ہے۔ یہ فکر مذہبی تشدد پر آمادہ کرنے کے ساتھ رواداری ختم کرنے پر زور دیتے ہیں۔دھیرے دھیرے ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ رہنے والوں کے بیچ نفرت یا کم از کم بے زاری کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔میرے دوست مسلسل مجھے دیکھے جا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے جنجھوڑا۔ میری آنکھیں پوری طرح سے کھل چکی تھیں۔ پورا جسم پسیے سے بھیگا ہوا تھا۔ سب کی سوالیہ نگاہیں میری طرف تھیں۔ میں نے کہا کہ بھائی ایک برا سپنا تھا۔ خدا کرے سچ نہ ہو۔
صبح کے اخبار میں روہنگیا سے جان بچا کر بھاگے مظلوم پناہ گزینوں کے متعلق حکومت وقت کا موقف دیکھ کر حیرانی تو نہیں ہوئی لیکن افسوس ضرور ہوا۔ یہ ہمارے گاندھی، آزاد، نیتا جی اور سردار کے خوابوں کا ملک تو نہیں ہے۔ ہمارے سوامی وویکا نند اور بابا بھیم راؤ کی فکر کے مخالف یہ بیان تھا کہ ان مظلوموں سء ملک کو خطرہ ہے۔انسان کے دل رکھنے والے انسان کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک کے ان مجاہدوں کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں یا ملک کو اس ظالم فکر کے حوالے کر دیں۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385


@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Sunday, June 18, 2017

رہبری کے لبادے میں گھومتے رہزنCheater in the face of Leaderरहबर या रहज़न


رہبری کے لبادے میں گھومتے رہزن

عبد المعید ازہری

ملک میں مسلمانوں کی موجودہ تشویس ناک صورت حال میں دن بہ دن ہوتا اضافہ ایک بڑ ی تباہی کا اشارہ کر رہی ہے۔ تاریخ شاہد ہے جب کبھی بھی کسی ملک کے ایسے حالات ہوئے ہیں، وہاں شر پسندوں کو موقعہ ملا ہے۔ انسانی خون سے انسان نما حیوان آسودہ ہوئے ہیں۔ جب شہرت و طاقت کا نشہ دل و دماغ کو انسانی حدود کے باہر کر دے، تو وہاں یہی سب ہوتا جو ہم اپنی ماتھے کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ آئے دن ظلم و زیادتی،فتنہ و فساد کی نئی اور دلدوز وارداتیں ذہن و دماغ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور صرف نفرت بھرنے کا کام کر رہی ہیں۔ ایک دن یہ چھالے سیاسی مفاد کی نظر ہو جاتے ہیں۔پھر اپنے ہی چھالوں سے اپنے سینوں کو جلا لیتے ہیں۔کسی کے خلاف نفرت اس قدر بھر جاتی ہے کہ اس کی جگہ محبت کس سے کی جائے اس کا بھی خیال نہیں رہ پاتا ۔یہ کیفیت کسی مخصوص قوم یا طبقے کیلئے نہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کسی کو بھی ایسا بنانے کے اہل ہیں۔جب انسان کی قدر جانوروں سے کم تر ہو جائے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ آج کے معاشرے کو انسانوں کی نہیں حیوانوں کی ضرورت ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہی رہتاہے۔ انسانی سماج کا ہر شعبہ اس طرح کی بے چینی سے دو چار ہے۔ ہر طبقہ پریشان ہے۔ جو موجودہ انسانیت سے خالی فکر و روش میں ڈھل گیا وہ محفوظ و مامون ہو گیا۔ جس نے اپنے ضمیر کی آواز سننے کی کوشش کی وہ تختہ مشق بن گیا۔
ملک کے کسی نہ کسی کونے میں ہر روز کوئی بچہ یتیم ہوتا ہے،کوئی عورت بیوا ، ماں بے آسرا اور باپ بے سہارا ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسانی سماج کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ وہ گھڑی ہے جب ہر روز کوئی ماں، بہن یا بیٹی رسواہوتی، عصمت زدہ ہو کر انسانی برادری پر ایک دھبہ چھوڑ جاتی ہے۔ اس غیر انسانی جرم کے پیچھے کوئی بیٹا، باپ یا بھائی ہی ہوتا۔ لوٹ مار ، چوری ڈکیتی، بد عنوانی ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے۔ ویسے تو اچھائی اور برائی انسان کے فطری اعمال ہیں۔ لیکن جرم پر بے باکی قطعی انسانی طرز عمل نہیں۔ظلم کے خلاف کھڑاہونا بھی انسانی فطرت ہے جو آج معدوم ہے۔ یہ طبقہ کہیں گوشہ نشیی اختیار کئے ہوئے کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہوئے اپنے فرض سے منہہ موڑ رہا ہے۔ آج ہمارے ملک کا انسانی سماج اتنے ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے کہ سب اپنی باری پر ہی درد سے چیختے ہیں۔ وہی مرغی درد سے کراہتی ہے جو ذبح ہو رہی ہے، باقی شکنجے میں قید بے پروائی سے دانہ چغتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔مذہب کے نام پر، ذات برادری اور صوبوں کے نام پر ہم اس قدر منقسم ہو گئے ہیں کہ کبھی کبھار ہم اپنی خود کی اصل شناخت بھو ل جاتے ہیں۔اس فطرت سے یکسر فراموش ہو جاتے ہیں کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم انسان ہیں۔ اس میں قسمیں نہیں ہیں۔ہم صرف منقسم ہی نہیں ہوئے بلکہ ایک دوسرے کے وجود کا احساس بھی ہمارے اندر سے ختم ہوگیا۔ انسانی بردادری کو الگ نام اور شناخت اسلئے دی گئی تھی کہ ایک دوسرے کو بآسانی جان پہچان سکیں۔ آج حال یہ ہے کہ صرف مذہب و برادری او ر صوبوں میں انسان منقسم نہیں ہوا بلکہ ہر مذہب ، برادری اور صوبے میں بھی سیکڑوں حصوں میں بٹ کر رہ گیا۔
مذہب کو گھر اور دل میں رکھ کر باہر اگر انسان ہی رہتے تو شاید آج انسان کو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ کسی بہن کی لٹتی عصمت کوئی دوسرا بھائی تماشے کی طرح نہ دیکھ رہا ہوتا۔ بلکہ کوئی بھائی ایسی ذلیل حرکت کرنے کی ہمت نہ کر پاتا۔کسی کی بہن کی زندگی کو تاریک کرنے والے بھائی کو اس کی بہن اپنی زندگی سے نکال دیتی۔ اس کی ماں اس کی شکل نہ دیکھتی۔ پوراگھر اس کا بایکاٹ کر دیتا۔ہم جہاں رہتے ہیں۔ اپنے افکار و اعمال سے جیسا معاشرہ بناتے ہیں۔اس کے اثرات سے ہمیں ایک دن آشنا ہونا پڑتا ہے۔ملک کے کسی بھی بیٹے یا بیٹی، ماں یا باپ یا کسی کے ساتھ بھی ہونے والی ناانصافی کو جب تک ہم یہ مان کر نظر انداز کرتے رہیں گے، کہ اس مظلوم کا تعلق ہمارے گروہ یا گھرسے نہیں، اس وقت تک تباہی، ذلت اور خونریری کے یہ منظر ہمارا مقدر بنتے رہیں گے۔جو چیزیں ذاتی تھیں وہ سماجی ہو گئیں اور جومعاشرتی تھیں وہ انا کی نذر ہو گئیں۔
آج ماتھے کی نگاہوں سے اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ خواہ جس معاشرے میں عورت دیوی ہوتی ہے، اس کی پوجا ہوتی ہے، یا وہ سماج جس میں عورت آدھا ایمان اور جنت کا سبب ہوتی ہے، ہر جگہ اس کی عصمتیں تار تار ہیں۔کیوں کہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے کا پیمانہ متعصب اور منقسم ہو چکا ہے۔ابھی حال ہی میں بجنور کی ایک لڑکی کے ساتھ ہوا حیوانی سلوک اس بات کی واضح مثال ہے۔بجنور کی لڑکی اکیلی نہیں جس کو انسانی برادری نے انسان ماننے سے انکار کیا ہو، روزانہ نہ جانے کتنی بنت ہوا کو یہ نام نہاد انسانی سماج کھیل تماشہ اور سامان لہو لعب سمجھتا ہے۔ افسوس اور المیہ اس بات کاہے کہ کسی بھی قومی نمائندے میں اتنی جسارت نہ ہوسکی کہ ان مظلوموں کیلئے انصاف کی آواز بلند کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آواز کون بلند کرے۔ گھر کی چہار دیواری سے لے کر باہر گلی بازار اور ہر شعبوں میں تو ہم منقسم اور منفرد ہیں۔ بلکہ ایک دوسرے سے جداہیں۔ اپنی اپنی ضرورتوں کیلئے ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔ تو ایک دوسرے کی پرواہ کیوں کریں۔اب جو آوازیں اٹھتی بھی ہین، وہ ظلم کی آندھیوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ہمارے رہنماؤں کے ساتھ پریشانی اس بات کی ہے کہ اگر انصاف کی آواز بلند کر دی تو یا تو ان کے سیاسی آقا ناراض ہو جائیں گے یا انہیں ڈر ہے کہ آگے سے ان کی دوکان بند جانے کا خطرہ ہے۔ ایک ڈر یہ بھی ہے کہ اس سرزمین پر جب کسی اور بیٹی مظلوم ہوئی تو آپ کہاں تھے اب جب خود کے گھر میں آگ لگی تو خدا یا د آیا۔عوامی حمایت کی ریاکاری کے کھیل میں تو زمین آسمان ایک کر دیں گے۔ اس کے لئے تو خدا سے ذاتی فرمان بھی حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیں گے۔ لیکن وہی قوم جب مصیبت زدہ ہو مظلوم ہوجاتی ہے تو بند آشائسی کمروں تک یہ آوازیں نہیں پہنچتی ہیں۔
آج کا المیہ یہ بھی ہے کہ مظلوم کو مجرم بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔یہ سارا کھیل اسی انسانی سماجی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کھیل میں شامل کوئی بھی شخص محفوظ نہیں۔
جب تک یہ سماج یوں ہی اپنی جھوٹی دنیا میں خیال خام میں بٹتا رہے گا یہ سارا کھیل یوں ہی چلتا رہے گا۔ رہبری کے لبادے میں رہزن ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے۔ ارے اتار کر پھینک دو یہ یہ جبے یہ دستار یہ عبائیں جس میں قوم و ملت کی تباہی کا پروانہ پیوستہ ہے۔ کھل کر سامنے آکر وار کرو۔ ظالم کے ساتھ مل کر کھلے عام تم بھی عصمتوں کا سودا کرو۔یہ چوغے جو مظلوموں کی رستی گوں سے سلے گئے ہیں انہیں آگ لگادو۔ جھوٹے دین و مذہب کے نام پر تقسیم کا کاروبار بند کر دو۔ جہاں نہ دنیاہے اور نہ ہی آخرت ہے۔یہ کیسی رہبری ہے جو قوم کی روتی ہوئی آنکھوں کو اپنا آستین تک نہیں دے سکتی۔ مظلوموں کی آہوں کو سرد کرنے کیلئے اپنے کندھے نہیں دے سکتی۔ ان کا درد نہیں سن سکتی۔ اپنے دین و ایمان کا سودا کرکے ان کیلئے دلاسے کے دو بول نہیں بول سکتی۔ تمہاری اس کاروباری رہبری سے تو کہیں بہتر وہ رہزنی ہے جو ہمیں آگاہ کر کے ہم پر حملہ کرتی ہے۔جنت کی لالچ اور جہنم کا خوف دلاکر اپنے اپنے خانوں میں محدود کرنے والے سارے رہبران قوم سے ان کی رہبری کا سوال ہے۔
در اصل یہ ایک قومی یا یک مذہبی مسئل نہیں ہے۔ آج ہم ایسے سماج کو تشکیل دے رہے ہیں جہاں انسان تو ہیں لیکن انسانیت نہیں۔ جہاں رشتے ضرورتوں کیلئے بنتے اور بگڑتے ہیں۔جہاں جذبات ضروریات سے مغلوب ہو گئے۔
خدارا انسانی تقسیم سے باہر بھی نکلو۔ورنہ نہ دین ہاتھ آئے اور نہ ہی انسان رہ پاؤگے۔ کف مل کر ورد کروگے ۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385