Showing posts with label PoliticalViolence. Show all posts
Showing posts with label PoliticalViolence. Show all posts

Tuesday, September 26, 2017

برما کی آگ اور ہمارے ملک کی سیاست،خدا خیر کرے!बर्मा की आग और हमारे देश की राजनीति! खुदा खैर करे Burma & our Politics! God save us all!


برما کی آگ اور ہمارے ملک کی سیاست،خدا خیر کرے!

عبد المعید ازہری

دن ڈھل چکا تھا۔ میں دفتر سے گھر کی طرف واپس آ رہا تھا۔سورج غروب ہو نے کے بعد شفق کی آخری مدھم سی روشنی بکھری ہوئی تھی۔ میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ کہیں دور کا شور، چیخ اور آہ فریاد کی صدائیں بھی سن کے کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔جیسے جیسے میں گھر کے قریب ہو رہا تھا آواز بلند ہو رہی تھی۔ قریب کی بستی سے اٹھتا دھواں اور اس میں جلنے کی عجیب سی بدبو سے طبیعت مضطرب ہونے لگی تھی۔ ایک وقت تو ایسا بھی لگا شاید پڑوس ہی میں کہیں آگ لگی ہو۔ اچانک سے میری دل کی دھڑکنین تیز ہو گئیں۔ پچھلے 20دنوں کے منظر ایک ایک کر کے سامنے آنے لگے۔یہ اور بات ہے کہ اکثر حادثات کی منظر کشی موبائل سے ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آئی لوٹ مار اور قتل و غارت گری نے ایک سے زائد بار جذباتی بنا کر ہلاکت میں اضافہ کر چکے تھے۔ اس کے بعد اس میڈیا نے آج ہمیں اتنا ہراساں کر دیا ہے کہ میں اپنی موت کا انتظار کر رہا ہوں۔اب تک نذر آتش ہونے والے محلوں ، قصبات اور علاقوں کی تعداد بیس سے اوپر ہو چکی ہے۔ یہ وہ فہرست ہے جو اس بار کی قیامت کے ہیں۔ اس سے پہلے کی قیامت کو ہم بھول چکے ہیں۔ان جلی ہوئی بستیوں میں بچوں کے سلگتے جسم، برہنہ عورتوں کے لہولہان بدن، مردوں کے کٹے ہوئے اعضاء اور بزرگوں کا خاک و خون میں مٹتا وجود ہے۔وہ منظر بھی خون بن کر آنکھوں سے بہنے لگا جب ہتھیار بند جتھا قریب کی بستی میں گھسا تھا۔گھر کو بند کر کے اس میں آگ لگا دی گئی۔ زندہ انسان چیختے رہے۔ آگ کے شعلے ان کی چیخوں سے اور بھڑکتے رہے۔جس نے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی اسے واپس کاٹ کر اس میں پھینک دیا گیا۔اب میں سمچھ گیا تھا کہ اب تک میں جس حادثے کا انتظار کر رہا تھا شاید وہ وقت قریب آگیا ہے۔ہمت جواب دے چکی تھی۔ہاتھ پاؤں شل ہو گئے تھے۔ایسا لگا سامنے سے بھڑکتے ہوئے شعلے میری طرف لپک رہے ہیں۔ ان شعلوں کے درمیان برچھیاں تلوارویں اور ترشول نظر آرہے تھے۔ ایک سرد سی لہر پورے وجود میں کسی بجلی کی مانند کوند گئی۔ لڑکھڑاکر شاہراہ سے نیچے گر گیا۔
ارد گرد کالی رات کے کسی سنسان علاقے کی مانند خاموش سناٹا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں شور کر رہی تھیں۔ انسانی لاشوں کے جلنے کی وجہ سے پوری فضاآلودہ اور پراگندہ ہو چکی تھی۔ صبح نمودار ہونے کو تھی۔پورا جسم کمزرو لگ رہا تھا۔ذرا ساآنکھ کھولنے کی ہمت کی تو ایک بزرگ بغل والی درخت سے ٹیک لگائے ملے۔ ان آنکھوں کے اشک خوشک ہوچکے تھے۔ پتلیوں میں ویرانی صاف جھلک رہی تھی۔میں نے نڈھال سی آواز میں کہادادا یہ سب کیا ہو رہا؟ یہ لوگ ہمارے اور ہمارے مذہب کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ کیا اب سمجھ لیا جائے کہ مسلمانوں کے جینے کاحق نہیں ہے؟یہ بدھسٹ مسلمانوں کے دشمن نہیں کیوں ہیں؟ آخرم ہم نے کیا بگاڑا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟ بزرگ کی بیزار آنکھیں یک لخت میری طرف اٹھیں اور کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔میرے بارہا جھنجھلاتے ہوئے سوال سے تنک آکر انہوں نے کہا۔یہ بدھسٹ نہیں ہیں۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔میں کچھ جواب دینے ہی والا تھا کہ انہوں نے کہا کہ یہ سب کالے سائے ہیں ۔ ان کا کوئی دھرم اور مسلک نہیں ہے۔یہ باغی ہیں۔ یہ باغیانہ فکر صرف اسی قوم میں نہیں ہے بلکہ آج تقریبا ہر مذہب کے پیروکاروں میں یہ فکر تیزی سے پھیل رہی ہے۔یہ وہ فکر ہے جو پوری دنیا کے مذہب کے خلاف کھڑی ہے۔نفس، ہوس، دولت،طاقت،عیش وعشرت اور آزادی کے نشے میں چور یہ فکرپوری دنیامیں ایک مذہب مخالف فکر کو کھڑی کر رہی ہے۔ان سب کے دین اور اس کی فکر کا سب بڑا ذریعہ آج کی سوشل میڈیا ہے۔ آج اس ذرائع سے جڑاہوا ۸۰ فیصد انسان اس ذرائع سے نشر کی جانے والی خبروں کی تصدیق نہیں کرتا۔ یہاں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ دین بھی لوگ یہیں سیکھنے لگے ہیں اور اس سے بغاوت بھی۔اس جال میں آج کا نوجوان پوری طرح گھر چکا ہے۔ وہ ایک ریموٹ کنٹرول کے سہارے ہے۔مجھے اس کی باتیں بور کر رہی تھیں۔ لیکن دل اتنا اچاٹ اور طبیعت اتنی چور ہو چکی تھی کہ تاریک وحشت سے بچنے کیلئے بس کسی کا ساتھ درکار تھا اور وہ بولتا ہوا ساتھ ہو تو زیادہ سکون بخش ہوتا۔انہوں نے کہا یہی فکر پورے عرب کو کھارہی ہے۔پچھلے دس برسوں میں بیس لاکھ سے زیادہ بے گناہ انسان مارا جا چکا ہے۔یہی حال تمہارے ملک ہندوستان پاکستان اور افغانستان کا بھی ہے۔ ایک لمبی اکھڑتی اور کپکپاتی ہوئی سانس لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے ان بدھسٹوں کو انسانی خدمات کی مثالیں قائم کرتے ہوئے۔انسان تو انسان کسی جانور کو بھی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو چیخ اٹھتے تھے۔ لیکن آج وہ سب خاموش ہیں۔ ہو سکتا ہے مجبور ہوں جیسے ہم اس وقت خاموش اور مجبور تھے جب طالبان نے بدھسٹوں کے مذہبی مجسمے گرائے تھے۔ہم کچھ نہ کر سکے اور نہ ہو کچھ کہہ سکے۔پوری دنیا میں دہشت گرد مذہب کے نام پر دشہت گردی پھیلاتے رہے۔سارے مسلم ممالک خاموش رہے۔ ایک ایک کر کے جب وہ خود اس کا شکار ہونے لگے تو پڑوسی خاموش رہا۔ دعوت وتبلیغ کی ساری تنظیمیں خاموش رہیں۔یہاں بھی آئے تھے ہمیں دین سکھانے کے لئے۔ لیکن وہ تو ہمیں کچھ اور ہی سکھا گئے ۔ کچھ نوجوانوں کوبندوق دے گئے۔ آج پوری قوم مظلوم ہے۔مجھ سے رہا نہ گیا میں نے پوچھ لیا کہ آخر یہ سب ہے کیا؟ کس کی کیا دل چسپی ہے؟ عالمی برادری کیوں خاموش ہے؟ میرے ملک کے وزیر اعظم کا دورا بھی ہوا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بھی خاموش رہے۔ ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اب صحیح علم تو خدا ہی کو ہے البتہ اتنا تو طے ہے کہ اس برما سے سب کی اپنی اپنی سیاسی دلچسپیاں وابستہ ہیں۔یہاں تک کہ مارنے والوں کو بھی اب مذہبی جذبہ متاثر کئے ہوئے نہیں ہے بلکہ انہیں بھی سیاست استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے بڑی گہری نظر میری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کو خلافت عثمانیہ کے زوال کی تاریخ اور ہینفرے کے اقرار نامے کے متعلق کچھ معلومات ہے؟ میں نے غیر یقینی طورپر سر اوپر نیچے کر کے دائیں بائیں بھی ہلادیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ، نے یا یہودیوں نے بانٹو راج کرو کی سیاست کو سب سے پہلے مسلمانوں پر آزمایا۔ کافی محنت کے بعد وہ اس میں کامیاب ہوئے۔ اس کا ایک کامیاب تجربہ افغانستان میں طالبان بنا کر کر چکے ہیں۔ اب جہاں کہیں بھی امریکہ کو جانا ہوتا ہے۔ وہاں دہشت گردی کے حملے اور فرقہ وارانہ فسادات اس محبوب ترین ذریعہ ہے۔ اس کے لئے ماحول سازی میں دعوت و تبلیغ کا بڑھیا استعمال ہوتا ہے۔
اطمئنان سے بیٹھ کر وہ اپنی ہی روانی میں کھو گئے اور لگا کہ کوئی کہانی سنا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کہیں سے کوئی خبر آئی کہ برما میں بھی تیل ملا ہے۔برما کی جگہ ایشیا میں بالکل ایسے ہی ہے جیسے عرب ممالک میں سیریا اور ترکی ہے۔ہر آدمی اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے۔کیونکہ برما یعنی میانمار ASEANمتحدہ ممالک میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چین اس کا سب سے بڑا حامی اور پیشوا بھی ہے۔ ملیشیا اور تھائی لینڈ سمیت اس اتحاد میں شامل ممالک کی مجموعی آبادی میں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔اسی بیچ چین کی طرف سے ایک پروجکٹ لانچ ہونے کی خبر بھی سامنے آئی کہ ان ممالک کو جوڑنے کیلئے وہ سمندر سے ایک راستہ بنائے گا۔ اب تو روس اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی دلچسپی ہونا لازمی ہے۔اس مدعے پر گفتگو پھر کبھی۔
میں جھٹ سے پوچھا کہ یہ سب تو ٹھیک ہے ہمارے ملک ہندوستان کا اس کے کیا تعلق ہے۔ انہوں برجستہ کہا کہ جس ملک میں بھی مذہب کے خلاف باغیانہ فکر موجود ہے،ہر اس ملک کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ دلتوں کو بھی وہاں ظلم کا شکار کیا گیا ہے۔ بدھ مت کا آج کے نام نہاد ہندوتو سے بہت پرانا بیر اور دشمنی ہے۔یہ ملک ہند مخالف رہا ہے۔ اب ایسا بھی سننے میں آیا ہے کہ تم لوگ دلت مسلم اتحاد کی بھی باتیں کرنے لگے ہواور کچھ جگہوں پر اس کی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔یہاں کے دورے اور بدھسٹوں کو ہندوستان میں ملنے والی سہولتیں سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔چونکہ ہندوستان خود ASEANکا حصہ نہیں ہے۔اس لئے اس نے SAARC بنایا۔اب اگر مسلمان پلٹ کر وار کرتے ہیں، تو دونوں میں کشیدگی پھیلتی ہے۔ تو اس کا سیاسی اثر سب سے پہلے تو یہی ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان اتحاد کے امکانات فوری طورپر ختم ہو جائیں گے۔دسرا یہ کہ ہندی چینی بھائی بھائی کا ایک اور راستہ نکل آئے گا۔ انہوں نے ذرا لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ ویسے یوگی جی بھی یہاں آ چکے ہیں۔میں نے ایک گہری سانس لی۔ ابھی سانس پوری طرح چھوڑی بھی نہیں تھی کہ انہوں نے برجستہ کہا کہ اس طرح کے حادثات کے لئے تیار رہو۔ بلکہ اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہم نے کہا کوئی حل؟ ہنسنے لگے۔ اچانک سنجیدہ ہو کر کہنے لگے حل تو ہے لیکن ذرا مشکل ہے۔ جب تک لوگ سوشل میڈیا سے دین سیکھ کر سوشل میڈیا پر ہی دین کی حفاظت کرتے رہیں گے، جب تک مذہبی نااہلوں کی قیادت تشدد اور انتہا پسندی کے فروغ کا حصہ بنتی رہے گی اور جب تک ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بیٹھے اور بین المذاہب گفتگو سے دور ہوتے رہیں گے، ایسی تباہیوں سے کوئی نہیں روک سکتا۔ابھی اس پر میں کسی رد عمل کا اظہار کر پاتا کہ ایک تیز شور قریب ہی سے سنائی دیا ایسا لگا بس سر پر کوئی وار کرنے والا ہے۔ میں نے بزرگ کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہے تھے۔ دل کی تیز دھڑکنیں مجھے سنائی دے رہی تھیں۔دھیرے دھیرے ان بزرگ کا چہرہ آنھوں سے دھندلہ ہو رہا تھا لیکن ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات کسی نشتر کی طرح چبھ رہی تھیں۔ ایسا لگا میں کسی گھنے اور تاریک جنگل میں پھنس گیا ہوں۔ چاروں طرف سے انجان اور غیر مرئی طاقتیں مجھے اندر سے ڈرا رہی تھیں۔ پسینہ سے پورا جسم طر ہو گیا تھا۔ایک عجیب سے بھنور میں قید ہو گیا۔ وہا ں سے نکلنے کی کوئی سبیل نکلتی نظر نہیں آرہی تھی۔ کسی مدد یا اس طرف سے گزرنے والے شخص کا بے صبری اور شدت سے انتظار کر رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے پر جواب دے گئے۔ ہر بار میں اپنے آپ کو اسی جگہ پاتا۔ تھک ہار کر غش کھاکر اسی درخت سے ٹکراکر اسی بزرگ کی گود میں گر گیا۔آنکھ کھلی تو دیکھا میری باہوں میں ان کا ہاتھ اور اس کی کمر ہے۔ جسم سے دونوں پیر الگ ہیں۔کرتا پورا سرخ ہے۔ آنکھیں بالکل دھنسی ہوئی ہیں۔ خون سوکھ کر کالا پڑ چکا تھا۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ میں عالم بے ہوشی میں اس سے باتیں کر رہا تھا۔کیونکہ ان کا خون ہوئے تو کافی عرصہ ہوئے معلوم ہوتا ہے۔ ذرا سا سنبھالا لے کر گھر کی طرف بے تہاشا بھاگا۔ پوری قوت سے بھاگا۔ لیکن پانچ سو میٹر کا راستہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی راستہ طویل کر رہا ہے کہ مجھے پکڑے ہوئے ہے اور آگے بڑھنے نہیں دے رہا ہے۔میں زور زور سے چلانے لگا۔پانی کے چھینٹیں منہ پر پڑے تو چاروں طرف میرے دوست مجھے نیم کھلی آنکوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ میرا پورا جسم تپ رہا تھا اور پسینے سے تر بتر تھا۔
آنکھیں کھلی تھیں لیکن ابھی بھی پوری طرح ہوش میں نہیں تھا۔مجھے ابھی بھی یاد آ رہا تھا کہ بزرگ کے ساتھ ہوئی گفتگو کے بعد میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی و قومی صدر سید محمد اشرف کے کئی بیانوں کو کھنگال رہا تھا۔ جہاں انہوں نے کہا تھا کہ دوسروں کے گھر کی صفائی کی مہم سے پہلے اپنے گھر کی صفائی ضروری ہے۔ ہمارے مذہب کے نام پر بھی کچھ چند ایک سرپھرے اس مذہب مخالف فکر اور نظریے کا شکار ہو رہے ہیں۔جو فکر تبلیغ کے نام پر اٹھتی ہے اور ایک ظالم طاقت بن کر درگاہوں، خانقاہوں اور امام بارگاہوں تو توڑنے اور مسلمانوں ہی کو قتل کرنے لگتی ہے۔پوری دنیا میں دہشت و وحشت کا کاروبار کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے مخالف ایک فضا قائم کی جاتی ہے۔ یہ فکر مذہبی تشدد پر آمادہ کرنے کے ساتھ رواداری ختم کرنے پر زور دیتے ہیں۔دھیرے دھیرے ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ رہنے والوں کے بیچ نفرت یا کم از کم بے زاری کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔میرے دوست مسلسل مجھے دیکھے جا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے جنجھوڑا۔ میری آنکھیں پوری طرح سے کھل چکی تھیں۔ پورا جسم پسیے سے بھیگا ہوا تھا۔ سب کی سوالیہ نگاہیں میری طرف تھیں۔ میں نے کہا کہ بھائی ایک برا سپنا تھا۔ خدا کرے سچ نہ ہو۔
صبح کے اخبار میں روہنگیا سے جان بچا کر بھاگے مظلوم پناہ گزینوں کے متعلق حکومت وقت کا موقف دیکھ کر حیرانی تو نہیں ہوئی لیکن افسوس ضرور ہوا۔ یہ ہمارے گاندھی، آزاد، نیتا جی اور سردار کے خوابوں کا ملک تو نہیں ہے۔ ہمارے سوامی وویکا نند اور بابا بھیم راؤ کی فکر کے مخالف یہ بیان تھا کہ ان مظلوموں سء ملک کو خطرہ ہے۔انسان کے دل رکھنے والے انسان کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک کے ان مجاہدوں کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں یا ملک کو اس ظالم فکر کے حوالے کر دیں۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385


@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Saturday, February 11, 2017

UP Assembly Election 2017 Dalits and Muslims یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز


یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز

عبد المعید ازہری

یہ موجودہ سیاست کی ناکامی ہے یا سیاست دانوں کی نا اہلی ہے کہ سیاست کا با ضابطہ تعمیر ترقی کا خاکہ تعصب اور بے ایمانی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے انتخابات کیلئے پیسہ، پاور اور ظلم و زیادتی لازم ہوتے جا رہے ہیں۔ دنگے اور فرقہ وارانہ فسادات کسی بھی انتخابی مہم کا اہم حصّہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اشتعال انگیز تقریریں، جذبات کو مجروح کرنے اور انھیں ابھارنے والے بیانات و تحریریں، نفرت و تشدد کا پروپیگنڈا، لالچ، مکر و فریب اور بلیک میلنگ جیسے فتنہ پرور افکار و نظریات موجودہ سیاست کے مینوفیسٹو میں شامل ہیں۔ ایسے میں شرافت، ایمانداری اور دیانت داری اپنے دامن کو بچاتے پھر رہے ہیں۔ تعمیر و ترقی کی مسدود راہیں مزید بے چینی کا شکار ہو رہی ہیں۔ سیاسی معیار اتنا گرتا جا رہا ہے کہ کوئی بھی اسے سنبھالنے میں جھجھک محسوس کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے استحصالی رویہ کا شکار مسلم قوم اب اپنے وطن میں بھی مظلوم ہوتی جا رہی ہے۔
یو پی اسمبلی انتخاب کا بگل بج چکا ہے۔ دام و فریب اپنے شباب پر ہے۔ شکاری اپنے نئے جال کے ساتھ تیار ہیں۔ برساتی مینڈک بھی میدان میں ہیں۔ کچھ پرانے تیر بھی آزمائے جا رہے ہیں۔ سب کا ہدف قوم مسلم ہے۔ سب کی توجہ کا مرکز صرف مسلمان ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کو بھی ان کی پرواہ نہیں ہے۔ کوئی حب علی میں ہے تو کوئی بغض معاویہ میں ۔کچھ یزید اور ابو جھل بھی ہیں۔ عین انتخاب کے دن تک سیاسی بازیگری چلتی رہے گی۔ کسی سے اتحاد تو کسی سے بغاوت کا وقتی اور فریبی کھیل کھیلا جائے گا۔ کچھ پتے ابھی بھی کھلنے باقی ہیں۔ کچھ اپنا کام چکے ہے اور کچھ کر رہے ہیں۔
بہن جی کی پارٹی اپنی داخلہ پریشانیوں سے ابھرتی نظر آ رہا ہے۔سائکل اور پنجے کا ڈرامائی اتحاد بھی اپنااثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس اتحاد میں کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ اب یہ بات اتحادیوں کو بھی پتہ ہے کہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتے۔کانگریس نے ایسا کیا کیا ہے جس کی بنیاد پر اس کی سیٹیں بڑھنے والی ہیں۔ کانگریس کو جو 100سیٹیں ملی ہیں ان میں اکثر مسلم اکثریت علاقہ ہیں اور وہ تقریبا محفوظ سیٹیں ہیں۔ اب ایسے میں کانگریس کس بنیاد پر اپنا اثر ثابت کر پائے گی۔ سماج وادی پارٹی کا بیس اور بنیادی ووٹ 10 فیصد سی زیادہ نہیں۔ 70 سے 80 فیصد مسلمانوں کے ساتھ اقتدار کی کرسی حاصل کرتی رہی ہے۔ ایسے میں اسے کیوں لگ رہا ہے کہ اس بار مسلمان اسے ووٹ نہیں دیگا۔ اسلئے وہ کانگریس کے راہل گاندھی کے ذریعہ دلت کو اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہیں کہ اس اتحاد کے باوجود سائکل کا محفوظ ووٹ کانگریس کی امیدوار کو جائے گا۔ اگر نہیں تو اس کا فائدہ کسے ملے گا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر سماجوادی پارٹی نے بڑے کام کئے ہیں اور سرکار بھی واضح اکثریت کی ہے تو ایسے میں کسی کے کندھے کی ضرورت کیوں پڑی۔ اس اتحاد سے سائکل اور بی جے پی کا فائدہ تو سمجھ یں آتا ہے لیکن کانگریس کی دلچسپی سمجھ سے پرے ہے۔
گھریلو مشکلوں سے ابھرتی ہوئی بہن کی ہاتھی نے اس بار نہایت ہی مستانی اور لبھاؤنی چال چلی ہے۔ اس بار بی ایس پی نے 103 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ جو باقی تمام پارٹیوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان ٹوٹا اور بکھرا تو تو وہی ہوگا جس سے جمہور سماج میں خوف ہے۔
یہ پروپیگنڈا سمجھ سے پرے ہے کہ یو پی میں بی جے پی کی سرکار بننے سے صرف راہل اور اکھلیش کا اتحاد ہی بچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے کی کوئی بھی لاجک یا وضاحت سمجھ میں نہیں آ رہی اور نہ ہی کوئی سمجھانے کو تیار ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں نے اپنے کالے کارناموں پر پردہ ڈالنے کیلئے اتحاد کا چولا پہن لیا ہے۔ سائکل کی ملایم مینیفیسٹو پر اب تک عمل نہیں اور آنے والا نیا فارمولا بھی واضح نہیں۔
اس بار کا انتخاب ایک ہی مدعی کے ارد گرد گھومتا نظر آ رہا ہے۔بی جے پی کے علاوہ سبھی کی نظر دلت مسلم کے اتحاد پر ہے۔ وہیں بی جے کی پالیسی انتشار کی ہے۔ جتنا بکھراؤ ہوگا کمل کی رہیں اتنی ہی ہموار ہوں گی۔ 92 کے بعد جب مسلم کانگریس سے ٹوٹا ہے۔ سماج وادی کے ساتھ اکثر رہا ہے۔ ابھی راہل کی ریلی سے لوگوں کو لگتا ہے کہ دلت کا رجحان اس شہزادے کی جانب بڑھا ہے کیونکہ کھیت میں پھاوڑا ڈالنے، چھپر کے نیچے ڈال روٹی خانے اور چارپائی پر چرچا کرنے سے لوگوں نے اندازہ لگا لیا ہے کہ اس وقت دلت کی مسیحائی کا تمغہ راہل بھیا کے پاس ہے ۔بس اسی بنیاد پر دلت مسلم اتحاد کے سپنے دن میں ہی دیکھے جا رہے ہیں۔
سچائی کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے۔ ان دونوں ہی پارٹیوں کے پاس نہ تو دلت کا ووٹ بینک ہے اور نہ ہی اب مسلمانوں کی اکثریتی حمایت ہے۔ پچھلی سرکار میں کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے کیا دوبارہ مسلمان غلطی دوہرائے گا۔ وہیں دوسری طرف 22 سے 23 فیصد کا دلت ووٹ بینک بہن جی کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے۔ 103 امیدواروں کی وجہ 18 سے 19 فیصد مسلمانوں کے ووٹ پر ان کی گہری نظر ہے۔ پچھلے انتخاب کے کچھ کاغذی ریکارڈز کے مطابق بی ایس پی کا سماج وادی سے ووٹ تناسب صرف 2 فیصد کم تھا۔ جب کہ مسلمانوں نے پوری اکثریت کے ساتھ سائکل کی سواری کی تھی۔ ایسے میں ہاتھی کی چال بری نہیں۔
بی ایس پی کے پاس ایک اور مثبت پلس پوائنٹ ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی اکثریتی صوفی سنی مسلمانوں کی تنظیم آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ نے بھی بی ایس پی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے ہر مسلم علاقہ سے ووٹوں پر فرق پڑنا یقینی ہے۔ اس کا واضح ثبوت پچھلے دو ہفتوں سے بورڈ کے بانی و صدر سید محمد اشرف کچھوچھوی کے میدان میں کودتے ہی نظر آ گیا۔ سیاسی گلیاروں میں مچی کھلبلی نے اشارہ کر دیا کہ اس بار مسلمان ہاتھی پر سوار ہونے کو تیار ہیں۔ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بھی اپنی مضبوط دعوی داری سے ہاتھی کی چال میں رفتار بھر دی ہے۔ یو پی کے بیسوں ضلعوں میں بورڈ کی شاخ سرگرم ہو گئی ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر پورا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
ان کے مطابق اس بار مسلمانوں کے پاس ایک اختیار بچا ہے وہ یہ کہ ہاتھی پر سوار ہو جائیں۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن کی غلطی دوہرانے کی غلطی نہ کریں۔ کسی کو ہرانے کے چکر میں اتنا غافل نہ ہو جائیں کہ بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ سائکل پر بیٹھے راہل کی وجہ سے اگر کچھ ہونے والا ہوتا تو اس اتحاد کی نوبت ہی نہیں آتی۔
آنے والے دن اور تصویر کا رخ کچھ اور صاف کر دیں گے۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے اچانک میدان میں آنے سے فریب کاری اور دھوکہ دھڑی کی جھوٹی عمارت تو گری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی چھوٹی چھوٹی مسلم پارٹیوں کے درمیان آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ اور سید محمد اشرف کچھوچھوی مسلمانوں کو حکمت عملی اور دور اندیشی سے کتنا اگاہ کر سکتے ہیں۔ البتہ بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا یہ اقدام اب تک سب سے زوردار سیاسی پنچ ہے۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) E-Mail: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385