Showing posts with label Innovation. Show all posts
Showing posts with label Innovation. Show all posts

Monday, July 23, 2018

धर्म में पुनर्विचार की संभावनाएं Reconsideration possibilities on Religion understandingدین میں نظر ثانی کے امکانات


دین میں نظر ثانی کے امکانات
عبدالمعید ازہری

دینی روایتیں جب سماجی رکاوٹوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں تو سوال صرف ان روایتوں پر نہیں اٹھتے ہیں بلکہ انہیں فروغ دینے والی قوم، ان کو فکری مضبوطی دینے والے مذہب کو بھی سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔یہ معاملہ زمین پر رائج ہر مذہب و روایت کے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔مذہب پر سیدھے سوال کی اس روایت کو اس وقت مزید تقویت مل گئی جب مذہبی رہنمائی اور سماجی کارکنی کے راستے اورعمل درآمد کرنے والے اہل کار الگ ہونے لگے۔یہ علیحدگی آہستہ آہستہ ٹکراؤ کی صورت اختیار کرنے لگی۔ان کی بولیاں بدلیں۔ان کے لباس الگ ہو گئے۔اسٹیج اور ادارے الگ ہو گئے۔اپنے اپنے طور پر انسانی خدمت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے۔ پوری طاقت اسی ذاتی تصادم میں صرف کرنے لگے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اصلاح کی بجائے انتشار ہونے لگا۔آج کی صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں دس سے زائد گروہ ہو چکے ہیں۔اس کے بعد ہر گروہ کے اندر بھی دسیوں طرح کے نظریاتی اور ذاتی اختلاف پائے جانے لگے۔اس اختلاف نے مذہب و سماج کے ما بین ایسی دوری قائم کر دی اورنفرت و تحقیر کی اتنی روایتیں حائل کر دیں کہ ایسا لگتا ہے کہ سماج کے مخالف اگر کوئی ہے تو وہ مذہب ہے اور مذہب کے آگے سب سے بڑی دیوار سماج و معاشرہ ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کی بنیادی تعلیم ایک اچھے معاشرے کی تشکیل ، انسان کا احترام اور اخوت و رواداری کو فروغ دینا ہے۔
اتنا بڑا تصادم اور فرق امتیاز ایک دن میں نہیں آتا۔ کسی بھی اچھی بری تبدیلی میں ایک عرصہ لگتا ہے۔سماج کے اندر اسے پھیلانے میں سب کا ہاتھ ہوتا ہے۔کسی کا ہاتھ چھپا ہوتا ہے۔ تو کسی کا آستین کے اندر ہوتا ہے۔ کوئی کھل کر معاصیت کو فروغ دیتا ہے، تو کوئی اسے نظر انداز کر کے اور ظلم پر خاموش رہ کر اس میں شرکت کرتا ہے۔ ظلم کو فروغ پانے سے روکنے کے جتنے بھی راستے ہو سکتے ہیں ہر راستے کو بند کرنے کی کوشش نہ کرنا بھی برائی کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد وہ چلن اور فروغ تب پاتا ہے جب ہر کوئی صفائی دینے کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ خود کو بچاکر دوسرے کو اس کا ذمہ دار گردانتا ہے۔سماج میں یا مذہبی روایات میں غلط طریقے سے رائج پانے والی روایات یا غلط روایات کے داخل ہو کر رواج پانے کے لئے ہر فرد اجتماعی طور پر اور سماج و مذہب کا ذمہ دار طبقہ انفرادی طور پر ذمہ دار ہے۔برائیوں کے رائج ہو جانے کے بعد اس کی اصلاح کی کوشش کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو کوسنا اور اس کی توہین و تضحیک کرنا جرم عظیم اور گناہ کبیر ہے۔
مذہب اور سماج دوالگ چیزیں نہیں ہیں۔عدل و انصاف، اخوت و مروت اور ہمدردی و رواداری پر مبنی کسی بھی سماج کی تشکیل کے لئے مذہب کی ضرورت ہوتی ہے اور مذہب کے لاگو ہونے اور اس کی تعلیمات کا اطلاق ہونے کے لئے قوم او ر سماج کا ہونا ضروری ہے۔اکثر و بیشتر تاریخی روایات کا تعلق کسی حکمت و فلسفہ، تعلیم وتربیت یا پھر موقع و محل، سیاق و سباق اور ضرورت و تقاضے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ثقافتی، تہذیبی اور سماجی رسم ورواج اور کلچر و روایات کے پیچھے کچھ نہ کچھ حکمت و تعلیم ضرور ہوتی ہیں۔موجودہ دور کے کسی بھی رسم و رواج اور ثقافت وروایت کو دیکھ کر یکسر اس کی نہ تو پیروی ضروری ہے اور نہ ہی اس کا انکار واجب ہے۔اس کے پیچھے کے مقاصد جاننے کے بعد یہ فیصلہ لیا جانا چاہئے کہ موجودہ دور میں اس کی ضرورت و اہمیت کتنی ہے۔ آیا اب اس کی ضرورت و اہمیت ختم ہو گئی ہے یا پھر ضرورت تو ہے لیکن طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک مسئلے کی اصل اور اس کی جڑ تک رسائی نہیں ہوتی اس پر کسی بھی طرح کا مثبت و منفی رد عمل نقصان دہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ کرنا صحیح ہے کیونکہ اس کے پیچھے وجہ یہ اور کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے یہ نقصان ہوتا ہے۔جب حلت و حرم کے بیچھے مقاصد درست ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ مسئلہ در اصل طریقہ کار میں ہے۔
دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ کوئی بھی فرد آج اپنے قول سے پیچھے ہٹنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ جب کہ اس کا بھی اعتراف ہے کہ کل علم کسی کو نہیں ہے۔کسی فرد کا رد عمل یا موقف اس کے اپنے علم پر مبنی ہوتا ہے۔وہ درست تو ہو سکتا ہے لیکن صرف وہی درست ہو ضروری نہیں کیونکہ اس کے علم سے آگے بھی علم ہو سکتا ہے۔اگر خدائی کے اس دعوے کو ترک کر دیا جائے تب بھی کئی مسائل اپنے آپ حل ہو سکتے ہیں۔ اپنے موقف کو امکان خطا کے ساتھ درست سمجھے اور دوسرے کو موقف کو درست کے امکان کے ساتھ غلط سمجھے تو بھی مسئلے سلجھائے جا سکتے ہیں۔خدائی کا یہ دعوی بھی انہیں تباہ کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ ہر ایک کا زبانی دعوی ہے کہ وہ تو ناچیر، حقیر اور کم علم ہے۔
اصطلاحوں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اصلاح و تربیت میں الفاظ و انداز کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں قوم مسلم کی زبوں حالی کسی سے بھی چھپی ڈھکی نہیں ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا دعوی ہے کہ اسلام اور مسلمان پوری دنیا میں غلبہ کے لئے ہیں۔ تو ان کی خود یہ بدتر صورتحال کیوں ہے۔جب اس پر غور کیا جانے لگا تو کئی حقیقتیں سامنے آئیں اور اصلاح کی کئی صورتیں دکھائی دیں۔ ان میں سے جو آواز سب سے زیادہ اٹھائی گئی وہ یہ ہے کہ دین و مذہب میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔یہ جائزہ اور تجزیہ ملک کے کچھ سیکولر طبقوں نے کیا۔ کیونکہ اب تو محاسبہ بھی اس قوم کا عملی مقدر نہ رہا۔ لیکن جب کوئی اور ہمیں مشورہ دیتا ہے تو ہمارے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اور دین خطرے میں آ جاتا ہے۔ دین میں نظر ثانی کی اصطلاح اتنی بھاری پڑ جاتی ہے کہ مسائل کا حل خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔دین کے تین اہم پہلو ہیں۔ عقیدہ، عبادت اور معاملہ۔ عقیدہ و عبادت میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود معاملات و مسائل میں تو حالات زمانہ کی رعایت شامل ہوتی ہے۔اس کے بارے میں میں تو خود قرآن اور صاحب قرآن نے جگہ جگہ ارشاد فرمایا کہ غور و فکر کرو۔دوسرا پہلو ہے موقع و محل کی رعایت اور 
معاملات و مسائل کا محل استعمال۔ اس لحاظ سے بھی غور فکر درکار ہے۔
اس لحاظ سے دین میں نظرثانی کے دوپہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں ترمیم و تبدیل پر غور کیا جائے۔جس کے امکانات کا ہر ایک پہلو بند ہے۔
نظر ثانی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآنی آیات و نبوی ارشادات سے جو مسائل و معاملات اور ان کے محل وقوع ہم نے سمجھے ہیں، ان میں ایک بار پھر سے غور کر لیا جائے۔اور اس میں تو کوئی برائی بظاہر نظر نہیں آتی۔ جب قرآن کے بارے میں ہمارا یہ دعوی ہے کہ اس میں قیام قیامت تک کے واقعات کا علم ہے۔مسائل اور ان کا حل ہے۔ تو ان سے واقف ہونے کی کوشش کرنا بھی تو ہمارے لئے ضروری ہے۔دین میں نظر ثانی کا لفظ سن کا یکسر برہم ہونے کی بجائے اس کے امکانی پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے۔اگر اس سے مسائل حل ہو سکتے ہوں تو اس کے لئے کوشش واجب اور کوتاہی حرام ہے۔
یہی حال سماج و سیاست کا ہے۔اپنی تنگ نظری اور محدودذہنیت کی وجہ سے نظر ثانی اور مفید تبدیلیوں کے راستے بند کر رکھے ہیں۔کیونکہ نظر ثانی اور کارآمد تبدیلیوں سے مذہب، سماج اور سیاست کے نام کا کاروبار بند ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
Abdul Moid Azhari (Amethi) Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com








Friday, February 10, 2017

ہندوستان میں اسلامی خطاطی کی روایت Islamic Calligraphy in India


ہندوستان میں اسلامی خطاطی کی روایت

عبد المعید ازہری


خطاطی اسلامی فنکاری کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ جس طرح فن تعمیر کا رعب پوری دنیا پر ہے۔ یہ خاصہ بھی اسلامی فنون کے حصّے میں موجود ہے۔ اسلامی خطاطی کو بلند و معیاری مقبولیت اسلئے بھی ملی کیونکہ اس کی شروعات عربی زبان سے ہوئی۔ اس زبان کو اہمیت اور افضلیت اسلئے مقدر ہے کیونکہ قرآن مقدس کی زبان بھی عربی ہے۔ عرب کی تصویر گری اور نقش کاری پوری دنیا میں مشہور ہے لیکن چونکہ مجسّمہ سازی یا تصویر سازی کو علماء دین اور فقہاء اسلام نے حرام قرار دیا اسلئے ساری فنکاری خطاطی کی جانب منتقل ہو گئی اسی لئے اس میں حد درجہ نکھار اور جاذبیت پیدا ہو گئی۔ وقت کے ساتھ نئے نئے ایجادات بھی ہوتے گئے اور خطاطی اسلامی فنکارانہ اظہار کی اہم اور بڑی شکل میں منتقل ہو گئی۔ آج خطاطی کی دسیوں قسمیں موجود ہیں۔ عربی زبان کی قید و حدود سے یہ فن نکل کر دنیا کی متعدد قدیم اور مقبول زبانوں تک پہنچ گئی۔ عربی زبان کی برکت و تہذیب کو لے کر یہ فن فارسی، ترکی، شمالی افریقی بربر زبانوں، کردش، مالی اور اردو زبان وغیرہ میں سرایت کر گئی۔ اردو زبان و ادب کے فراغ میں بھی اس خطاطی کی بڑی کارگر اہمیت ہے۔
اس خطاطی میں دلچسپی کو قرانی آیات و نبوی پیغامات سے راہ ملی۔ قرآن کی شروعات پڑھو سے ہوئی۔ کتابت اس کا لازمی و لا ینفک جزء ہے۔ اقراء کے بعد ہی قلم کے علم کا ذکر اس کی واضح دلیل ہے۔ سورۃ نون کی تفسیر میں مفسرین نے نون کو دوات اور قلم کو قلم کے معنی میں لیا ہے۔ حرف نون کی شکل بھی دوات کی طرح ہے اسلئے بھی کتابت کو ایک مضبوط راہ ملی، اسکے علاوہ بھی کئی آیات نے کتابت کی جانب نہ صرف توجہ دی ہے بلکی ترغیب بھی دی ہے. پیغمبر اسلام کی زبانی اس فن کو بڑی تقویت ملی ہے۔ آپ صلعم نے فرمایا جس نے خوبصورتی کے ساتھ بسم اللہ لکھا اس کے لئے عظیم اجر ہے اور جنت میں مقام خاص ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ اگر حسن نیت کے ساتھ خطاطی کی گئی تو اس کا بہترین بدل ہے۔
اس ضمن میں تین اہم ارشادات ہیں جن کی وجہ سے اس فن کو بسا اوقات عبادت کی طرح فروغ دیا گیا۔ اس میں ثواب کی نیت سے دلچسپی لی گئی ہے۔
آپ صلعم نے فرمایا جس نے بسم اللہ کو خوبصورتی سے لکھا یا جس نے جتنی خوبصورتی سے لکھا اس نے حق کو اتنا ہی واضح کیا ہے۔ حق کی نشر و اشاعت میں اتنا ہی اس کا حصہ ہے۔ تبلیغ و ترویج حق کے بارے میں بے شمار ارشادات موجود ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا علم کو کتابت کے ذریعے حاصل کرو اور پھیلاؤ۔ حصول علم کی ایک سے زائد قرآنی آیات و احادیث ہیں جو حصول علم کی فرضیت پر واضح اور روشن دلیل ہیں۔ حصول علم کے مختلف وسائل و ذرایع میں سے ایک کتابت ہے۔ اس لئے اس کتابت اور اس فنی و ادبی شکل خطاطی کو اتنی اہمیت و افضلیت حاصل ہے۔
تیسرا ارشاد ہے کہ رب صاحب جمال ہے اور جمال و خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ لہذا ہر معاملے میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تحریری خوبصورتی بھی ایک فن بنا۔ ابتدائی دور میں اور آج بھی اکثر عربی الفاظ و جملوں کی خطاطی کی جاتی رہی ہے۔ اس میں بھی یا تو اسماء حسنی یا قرآنی آیات ہی خطاطی میں لکھے جاتے ہیں۔ اس فن کی اتنی شہرت و مقبولیت اسی کا فیضان معلوم ہوتا ہے۔
یوں تو خطاطی دور نبوی میں ہی شروع ہو گئی تھی۔ کیونکہ جو درہم و دینار خرید و فروخت میں استعمال ہوتے تھے ان پر کچھ نقش ہوتا یہ اور کچھ تحریر بھی ہوتا تھا۔ جب آپ صلعم کی انگوٹھی کی شکل میں جو مہر بنائی گئی تھی وہ بھی خطاطی کا ایک بہترین نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ اس میں تین لفظوں کی تحریری خطاطی تھی۔ اس کے بعد وقت کے ساتھ اس میں نئے نقش بنتے گئے۔ اس فن کی شروعات ۸ویں صدی سے ہوئی۔ اب تک تعمیر و ترقی کے بے شمار مرحلے طے کر چکا ہے۔ آج خطاطی اسلامی فنکاری کا ایک اٹوٹ اور بے جوڑ حصہ بن چکا ہے۔ خطاطی مقدس و پاک و پاکیزہ (قرانی) تحریروں کو پیش کرنے کا ایک واحد اور بہترین ذریعہ بن گیا۔ اس کی ترویج و اشاعت میں محنتیں اور سرمایا کاری وقت، حالات و ضرورت کے پیش نظر ہوتی رہی۔
۸ویں صدی کوفی شکل میں شروع ہوئی خطاطی نے ۸ ویں صدی میں مغربی اور اندلسی فارم کو ایجاد کیا۔ ۱۰ویں صدی میں نسخ یا نسخی شکل،۱۱ ویں صدی میں ثلث ۱۴ اور۱۵ ویں میں طالق اور نستعلیق ۱۶ ویں اور۱۷ ویں صدی عیسوی میں دیوانی لہجہ وجود میں آیا. اس کے علاوہ ان کی الگ الگ اور قسمیں بھی ایجاد میں آئیں. جیسے سینی، محقق، رقعہ وغیرہ۔
خطاطی کے موجد عرب ہیں۔ اسلامی خطاطی مسلمانوں کی ایجاد ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے مسلم خطاط مولا علی علیہ السلام ہیں۔
جہاں ایک طرف خطاطی کی اسلامی شکل و شبیہ اس کی ترویج و اشاعت کی تاریخ آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس میں مسلمانوں کی دلچسپی بھی واضح ہے۔ وہیں دوسری طرف یہ بھی ایک نا قابل فراموش حقیقت ہے کہ آج یہ فن زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے۔ جس فن کو عبادت اورثواب کی نیت سے عروج بخشا گیا ہو آج وہ زبوں حالی کا شکار نظر آ رہا ہے۔ آج خود مسلمان اس فن سے مانوس ہوناتو در کنار اس کی تاریخ سے بھی واقف معلوم نہیں ہوتا ہے۔ مسلمانوں نے اس فن کو غیر ضروری بلکہ مکروہ و ناپسندیدہ کی حد تک ترک کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج خطاط کی جو حیثیت ہے وہ بڑی ہی قابل رحم ہے۔ غربت و مفلسی کے شکار ہیں۔ اس کے علاوہ تعظیم و توقیر کی نگاہوں سے محروم ہیں۔ ایک گمنام سی زندگی جی رہے ہیں۔ کس مپرسی کا عالم ہے۔ فن اور فنکار دونوں ہی اس امت مسلمہ کی خاطر خواہ توجہ کے طلبگار ہیں۔ دوسری جانب اس فن کا حال یہ ہے کہ اس فن کو بڑے اور متمول فنون میں گنا جاتا ہے۔ فنکاروں کو بڑی قدر اور توقیر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ دل و تخت دونوں پر ایک ساتھ راج کرتے ہیں۔
ہندوستان میں اس فن کی ڈوبتی ہوئی امیدوں کو ایک مضبوط سہارا ملنے کی جھلک نظر آئی ہے۔ آثار و روایت کی حفاظت میں نمایاں کردار رکھنے والے درگاہ آثار شریف کے ذمہ دار اس فن اور فنکاروں کو زوال پذیری سے نکال کر کامیاب و سرخرو زندگی سے آشنا کرانے کی بڑی کوشش کرنے جا رہے ہیں۔
فروری مہینے میں ایک انٹرنیشنل میلاد النبی کے موقعہ پر خطاطی کا مقابلہ کرانے کا ارادہ کیا ہے۔ ملک و بیرون ملک سے خطاط کو دعوت دی جارہی ہے۔ متعینہ تاریخ سے ایک ماہ قبل تمام خطاطوں نے اپنا نمونہ پیش کیا۔ منتخب فنکاروں کو مدعو کیا جارہا ہے۔ ان کے جملہ اخراجات کو برداشت کیا جائے گا۔ ۲۰منتخب خطاط مقابلہ میں شرکت کریں گے۔ سبھی کو شرکت کا اعزاز دیا جائے گا۔ ان میں سے چھہ لوگوں کو خصوصی انعامات کے علاوہ ڈھائی سال کیلئے فن خطاطی میں خوبصورتی اور مہارت پیدا کرنے کیلئے ملیشیا بھیجا جائے گا۔ پورے اخراجات ادارہ اٹھائے گا۔ دو سال تک اسکالر شپ بھی ملے گی۔ اس پروگرام میں ملیشیا سے بڑی تعداد میں علماء مشائخ اور خطاط شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ کئی بڑی بین الاقوامی شخصیت کی شرکت ہوگی۔درگاہ آثار شریف کا یہ اقدام اس فن کی تعمیر و تشکیل نو میں میل کا پتھر ثابت ہوگی۔
اس کے علاوہ ہندوستان میں درگاہ آثار شریف خطاطی کا ایک بین الاقوامی ادارہ بھی کھولنے جا رہا ہے۔ جس میں خطاطی سکھائی جائے گی۔ قیام طعام کا بندوبست ہوگا۔اعلی اور معیاری قسم کا ادارہ ہوگا. فن کے اعتبار سے اور عمارت کے حساب سے بھی یہ ادارہ منفرد اور دیدہ زیب ہوگا۔
*****
Abdul Moid Azhari Amethi) E-Mail: abudulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385