Showing posts with label #धर्म_रक्षा. Show all posts
Showing posts with label #धर्म_रक्षा. Show all posts

Monday, July 23, 2018

धर्म में पुनर्विचार की संभावनाएं Reconsideration possibilities on Religion understandingدین میں نظر ثانی کے امکانات


دین میں نظر ثانی کے امکانات
عبدالمعید ازہری

دینی روایتیں جب سماجی رکاوٹوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں تو سوال صرف ان روایتوں پر نہیں اٹھتے ہیں بلکہ انہیں فروغ دینے والی قوم، ان کو فکری مضبوطی دینے والے مذہب کو بھی سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔یہ معاملہ زمین پر رائج ہر مذہب و روایت کے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔مذہب پر سیدھے سوال کی اس روایت کو اس وقت مزید تقویت مل گئی جب مذہبی رہنمائی اور سماجی کارکنی کے راستے اورعمل درآمد کرنے والے اہل کار الگ ہونے لگے۔یہ علیحدگی آہستہ آہستہ ٹکراؤ کی صورت اختیار کرنے لگی۔ان کی بولیاں بدلیں۔ان کے لباس الگ ہو گئے۔اسٹیج اور ادارے الگ ہو گئے۔اپنے اپنے طور پر انسانی خدمت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے۔ پوری طاقت اسی ذاتی تصادم میں صرف کرنے لگے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اصلاح کی بجائے انتشار ہونے لگا۔آج کی صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں دس سے زائد گروہ ہو چکے ہیں۔اس کے بعد ہر گروہ کے اندر بھی دسیوں طرح کے نظریاتی اور ذاتی اختلاف پائے جانے لگے۔اس اختلاف نے مذہب و سماج کے ما بین ایسی دوری قائم کر دی اورنفرت و تحقیر کی اتنی روایتیں حائل کر دیں کہ ایسا لگتا ہے کہ سماج کے مخالف اگر کوئی ہے تو وہ مذہب ہے اور مذہب کے آگے سب سے بڑی دیوار سماج و معاشرہ ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کی بنیادی تعلیم ایک اچھے معاشرے کی تشکیل ، انسان کا احترام اور اخوت و رواداری کو فروغ دینا ہے۔
اتنا بڑا تصادم اور فرق امتیاز ایک دن میں نہیں آتا۔ کسی بھی اچھی بری تبدیلی میں ایک عرصہ لگتا ہے۔سماج کے اندر اسے پھیلانے میں سب کا ہاتھ ہوتا ہے۔کسی کا ہاتھ چھپا ہوتا ہے۔ تو کسی کا آستین کے اندر ہوتا ہے۔ کوئی کھل کر معاصیت کو فروغ دیتا ہے، تو کوئی اسے نظر انداز کر کے اور ظلم پر خاموش رہ کر اس میں شرکت کرتا ہے۔ ظلم کو فروغ پانے سے روکنے کے جتنے بھی راستے ہو سکتے ہیں ہر راستے کو بند کرنے کی کوشش نہ کرنا بھی برائی کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد وہ چلن اور فروغ تب پاتا ہے جب ہر کوئی صفائی دینے کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ خود کو بچاکر دوسرے کو اس کا ذمہ دار گردانتا ہے۔سماج میں یا مذہبی روایات میں غلط طریقے سے رائج پانے والی روایات یا غلط روایات کے داخل ہو کر رواج پانے کے لئے ہر فرد اجتماعی طور پر اور سماج و مذہب کا ذمہ دار طبقہ انفرادی طور پر ذمہ دار ہے۔برائیوں کے رائج ہو جانے کے بعد اس کی اصلاح کی کوشش کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو کوسنا اور اس کی توہین و تضحیک کرنا جرم عظیم اور گناہ کبیر ہے۔
مذہب اور سماج دوالگ چیزیں نہیں ہیں۔عدل و انصاف، اخوت و مروت اور ہمدردی و رواداری پر مبنی کسی بھی سماج کی تشکیل کے لئے مذہب کی ضرورت ہوتی ہے اور مذہب کے لاگو ہونے اور اس کی تعلیمات کا اطلاق ہونے کے لئے قوم او ر سماج کا ہونا ضروری ہے۔اکثر و بیشتر تاریخی روایات کا تعلق کسی حکمت و فلسفہ، تعلیم وتربیت یا پھر موقع و محل، سیاق و سباق اور ضرورت و تقاضے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ثقافتی، تہذیبی اور سماجی رسم ورواج اور کلچر و روایات کے پیچھے کچھ نہ کچھ حکمت و تعلیم ضرور ہوتی ہیں۔موجودہ دور کے کسی بھی رسم و رواج اور ثقافت وروایت کو دیکھ کر یکسر اس کی نہ تو پیروی ضروری ہے اور نہ ہی اس کا انکار واجب ہے۔اس کے پیچھے کے مقاصد جاننے کے بعد یہ فیصلہ لیا جانا چاہئے کہ موجودہ دور میں اس کی ضرورت و اہمیت کتنی ہے۔ آیا اب اس کی ضرورت و اہمیت ختم ہو گئی ہے یا پھر ضرورت تو ہے لیکن طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک مسئلے کی اصل اور اس کی جڑ تک رسائی نہیں ہوتی اس پر کسی بھی طرح کا مثبت و منفی رد عمل نقصان دہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ کرنا صحیح ہے کیونکہ اس کے پیچھے وجہ یہ اور کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے یہ نقصان ہوتا ہے۔جب حلت و حرم کے بیچھے مقاصد درست ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ مسئلہ در اصل طریقہ کار میں ہے۔
دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ کوئی بھی فرد آج اپنے قول سے پیچھے ہٹنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ جب کہ اس کا بھی اعتراف ہے کہ کل علم کسی کو نہیں ہے۔کسی فرد کا رد عمل یا موقف اس کے اپنے علم پر مبنی ہوتا ہے۔وہ درست تو ہو سکتا ہے لیکن صرف وہی درست ہو ضروری نہیں کیونکہ اس کے علم سے آگے بھی علم ہو سکتا ہے۔اگر خدائی کے اس دعوے کو ترک کر دیا جائے تب بھی کئی مسائل اپنے آپ حل ہو سکتے ہیں۔ اپنے موقف کو امکان خطا کے ساتھ درست سمجھے اور دوسرے کو موقف کو درست کے امکان کے ساتھ غلط سمجھے تو بھی مسئلے سلجھائے جا سکتے ہیں۔خدائی کا یہ دعوی بھی انہیں تباہ کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ ہر ایک کا زبانی دعوی ہے کہ وہ تو ناچیر، حقیر اور کم علم ہے۔
اصطلاحوں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اصلاح و تربیت میں الفاظ و انداز کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں قوم مسلم کی زبوں حالی کسی سے بھی چھپی ڈھکی نہیں ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا دعوی ہے کہ اسلام اور مسلمان پوری دنیا میں غلبہ کے لئے ہیں۔ تو ان کی خود یہ بدتر صورتحال کیوں ہے۔جب اس پر غور کیا جانے لگا تو کئی حقیقتیں سامنے آئیں اور اصلاح کی کئی صورتیں دکھائی دیں۔ ان میں سے جو آواز سب سے زیادہ اٹھائی گئی وہ یہ ہے کہ دین و مذہب میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔یہ جائزہ اور تجزیہ ملک کے کچھ سیکولر طبقوں نے کیا۔ کیونکہ اب تو محاسبہ بھی اس قوم کا عملی مقدر نہ رہا۔ لیکن جب کوئی اور ہمیں مشورہ دیتا ہے تو ہمارے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اور دین خطرے میں آ جاتا ہے۔ دین میں نظر ثانی کی اصطلاح اتنی بھاری پڑ جاتی ہے کہ مسائل کا حل خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔دین کے تین اہم پہلو ہیں۔ عقیدہ، عبادت اور معاملہ۔ عقیدہ و عبادت میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود معاملات و مسائل میں تو حالات زمانہ کی رعایت شامل ہوتی ہے۔اس کے بارے میں میں تو خود قرآن اور صاحب قرآن نے جگہ جگہ ارشاد فرمایا کہ غور و فکر کرو۔دوسرا پہلو ہے موقع و محل کی رعایت اور 
معاملات و مسائل کا محل استعمال۔ اس لحاظ سے بھی غور فکر درکار ہے۔
اس لحاظ سے دین میں نظرثانی کے دوپہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں ترمیم و تبدیل پر غور کیا جائے۔جس کے امکانات کا ہر ایک پہلو بند ہے۔
نظر ثانی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآنی آیات و نبوی ارشادات سے جو مسائل و معاملات اور ان کے محل وقوع ہم نے سمجھے ہیں، ان میں ایک بار پھر سے غور کر لیا جائے۔اور اس میں تو کوئی برائی بظاہر نظر نہیں آتی۔ جب قرآن کے بارے میں ہمارا یہ دعوی ہے کہ اس میں قیام قیامت تک کے واقعات کا علم ہے۔مسائل اور ان کا حل ہے۔ تو ان سے واقف ہونے کی کوشش کرنا بھی تو ہمارے لئے ضروری ہے۔دین میں نظر ثانی کا لفظ سن کا یکسر برہم ہونے کی بجائے اس کے امکانی پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے۔اگر اس سے مسائل حل ہو سکتے ہوں تو اس کے لئے کوشش واجب اور کوتاہی حرام ہے۔
یہی حال سماج و سیاست کا ہے۔اپنی تنگ نظری اور محدودذہنیت کی وجہ سے نظر ثانی اور مفید تبدیلیوں کے راستے بند کر رکھے ہیں۔کیونکہ نظر ثانی اور کارآمد تبدیلیوں سے مذہب، سماج اور سیاست کے نام کا کاروبار بند ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
Abdul Moid Azhari (Amethi) Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com








Sunday, April 15, 2018

धर्म स्थल की पवित्रता और देश का गौरव दांव पर holiness of sacred places and pride of the nation are on risk

धर्म स्थल की पवित्रता और देश का गौरव दांव पर
[अब्दुल मोईद अज़हरी]

आसिफा मैं भूल जाना चाहता हूँ कि तुम्हारा मज़हब क्या है, और मुझे यह भी जानने की ज़रूरत नहीं है कि तुम्हारी बिरादरी क्या है. या इलाक़ा कौन सा है. पर यह कैसे भूल जाऊं कि तुम इस देश की बेटी हो. हमारा गौरव, मान, मर्यादा और सम्मान हो. मैं यह भी भूलना चाहता हूँ कि बलात्कारियों का धर्म, समुदाय, या ठिकाना क्या है लेकिन यह कैसे भूल जाऊं कि उन्होंने दुनिया का सब से घिनौना पाप करने के लिए धार्मिक स्थल को अपवित्र किया है. आसिफ़ा तुम अकेली नहीं हो, निर्भया का परिवार हर रोज़ बढ़ता जा रहा है. परिवार से जुड़ता हर सदस्य धर्म के ढोंगी ठेकेदारों, देश और धरती का सौदा करने वाले कुकर्मी राजनैतिक नेताओं, लम्बी लम्बी बातें और भाषण झाड़ने वाले समाज सुधारकों और जज़्बात, दर्द, मुरव्वत और रिश्तों के एहसास से ख़ाली हज़ारों सादे पन्नों पर प्रदर्शनी की काली स्याही पोत कर दुनिया को झूटी तसल्ली देने वाले आराम पसंद लेखकों के मुंह और ज़मीर पर रोज़ तमाचा मारता है. लेकिन दिल पत्थर और आँखों में बेशर्मी के परदे पड़े होने की वजह से कोई असर नहीं हो रहा है. उन्हें इंतज़ार है उस घड़ी का जब घर के कोने की आग दूसरे कोने तक पहुँच कर हजारों घरों को जलाने के बाद उस आग की लपटें जब उन के घर की तरफ बढ़ने लगेंगी तो उन्हें क़ानून, समाज और इंसाफ नज़र आयेगा. उन्नाव की पीड़ित एक और निर्भया हो या बिहार की मज़लूम बेटी हो, सभी का जुर्म यह है कि वह इस देश की बेटियां हैं.
आज जिस तरह से कानून व्यवस्था जुर्म और ताक़त के बाज़ार में नाचने का काम कर रही है निंदनीय और अफ़सोस नाक है. कठुवा में जिस तरह से क़ानून के काले सफ़ेद मिटटी (ख़ाकी) के हाथों ने शर्मनाक प्रदर्शन किया है वह ख़ुद के क़ानून परिवार के सदस्यों के ज़मीर और आत्मा पर ज़ोरदार दहशत का तमाचा है. उन्नाव और कठुआ में दर अस्ल सिर्फ देश की उस बेटी का बलात्कार नहीं हुआ है बल्कि क़ानून व्यवस्था, शासन, प्रशासन के साथ अब तक चुप रह कर तमाशा देखने वाले पूरे समाज के साथ रेप हुआ है. कठुआ के खाना बदोश की आठ साला बेटी के साथ जानवरों से भी बुरा बर्ताव होता है वह भी इस लिए कि उन खाना बदोशों को वहां से डरा धमका कर भगा दिया जाये. किसी को भगाने का यह अद्भुत और मानवहीन तरीका बड़ा निर्दयी है. हमें यह सवाल बुरी तरह परेशान करता है कि यह भगाने की सियासत के चक्कर में हैवानों वाला प्रदर्शन कब तक चलेगा. उस के बाद जब मुजरिमों पर कानूनी कार्रवाई की कोई प्रतिक्रिया शुरू होना चाहती है तो उन के बचाव में उतरने वाले लोगों को देख तो देश का सिर झुक गया.
जिस देश की धरती को माँ कहा जाता हो, वहां की बेटियों को देवी का रूप समझा जाता हो. मात्र भूमि की जय कार होती है. वहीँ पर माँ और बेटी दोनों का अपमान, उन का शोषण और उन का बलात्कार क्या देश के साथ दुर्व्यवहार नहीं है. बलात्कारियों और दंगाइयों के समर्थन में भारत माता की जय और जय श्री राम के नारों का प्रयोग कर के ना सिर्फ भारत माँ के पावन चरित्र पर कीचड़ उछाला है बल्कि मर्यादा पुरषोत्तम श्री राम का भी अपमान किया है. जिस की मर्यादा और पुरुष की उत्तमता की गाथाएं पुराणों और धार्मिक संवादों में बड़ी आस्था के साथ बयान की जाती हो उस के नाम का इस्तेमाल उसी के विचारों और शिक्षा के विरुद्ध होना उस का अपमान है.
जहाँ एक गिरोह नारा ए तकबीर की आवाज़ लगा कर ख़ुद को बम से उड़ा कर निर्दोषों की हत्या का बड़ा गुनाह करता हैं वहीँ यह गिरोह भी श्री राम और भारत माता के नारे लगा कर ज़ुल्म और पाप करते हैं. दोनों में कोई फर्क नहीं है. आज नारों का राजनैतिक दुरूपयोग दुर्भाग्य पूर्ण है. कठुआ के बलात्कारी हों, उन्नाव के ज़ालिम या बिहार का वहशी दरिंदा जिस ने 6 साल की मासूम पर अपनी नामर्दी और नपुंसकता दिखाने का दुस्साहस किया.
यह इस कायर पुरुष प्रधान की मानसिकता है कि अपनी नाकामी छुपाने के लिए हर शहर और गाँव में एक निर्भया का उदाहरण दे कर उन्हें अपने पाँव की जूतियाँ बनाना चाहते हैं. लेकिन यह भारतीय बेटियों का साहस है कि इन्हीं जंगलों से निकल कर वह देश का गौरव बन कर स्वर्ण पदक का कीर्तिमान रच का भारत माँ का शीश गर्व से ऊँचा कर रही हैं.
ऐ भारत की बेटियों तुम रुकना नहीं. यह तुम्हारे हौसले की जीत है. निर्भया और आसिफा जैसी देश की धरोहरों का बलिदान है. यह मुट्ठी भर कायरों और बीमारों का समाज तुम्हारे हौसलों को पस्त नहीं कर सकता.
आज बलात्कार की बढती घटनाओं से क़ानून और समाज दोनों ही हारा है. यह इतिहास रहा है कि जब कभी भी पूंजीपतियों ने क़ानून को अपनी जेब का ग़ुलाम बनाने की कोशिश की है. जनता की अदालत ने इस देश और न्याय व्यवस्था की रक्षा की है.
अभी भी देश का बहु संख्यक समाज इस हीन भावना का विरोधी है. वह उठेगा एक दिन और फिर हर बेटी को इंसाफ मिलेगा. यह बेटियां ही उठाएंगी उन्हें. जब अपने बलात्कारी बाप, भाई और बेटे का बहिष्कार करेंगी. अपने सारे रिश्ते ख़त्म कर देंगी. और हर पुरुष को महिलाओं के सम्मान के लिए मजबूर कर देंगी. क़ानून व्यवस्था को भी एक दिन आज़ादी मिलेगी. यह सब कुछ होगा. जब लोगों का धर्म उनकी निजी आस्था और देश, समाज और मानवता उन की सामूहिक पहचान होगी.
रावण और शैतान कहीं अलग नहीं है. वह हमारे बीच और अपने अन्दर ही है. वरना रावण के चंगुल में क़ैद सीता जी की अस्मिता सुरक्षित रही लेकिन आज भक्तों और जिहादियों के हाथों में कुछ भी सुरक्षित नहीं है.
किसी भी नाकामी को बलात्कार से नहीं छुपाया जा सकता. क्युकी कभी कभी रोष में की गई प्रतिक्रिया प्रतिशोध बन कर बहुत कुछ जला देती है जिस की चिंगारियां सदियों तक दर्द हाँ एहसास दिलाती रहती हैं. खुद भी बचो और देश को भी किसी ऐसी आग में जलने से बचा लो.
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385


Friday, January 26, 2018

Spreading Hates in the name of Faith Protection धर्मं रक्षा के नाम पर फैलती नफरतेंجہاد اور دھرم رکشا کے نام پر بڑھتا ظلم


جہاد اور دھرم رکشا کے نام پر بڑھتا ظلم
عبد المعید ازہری


جہاد اور ظالمانہ قتل و غارت گری دو الگ فکر اور عمل کے نتیجے ہیں۔ اگر چہ دونوں لفظوں کا تعلق اسلام سے ہے لیکن الگ پس منظر میں ہے۔ ظالمانہ قتل و غارت گری کے خلاف جہاد کرنا اسلامی تعلیمات و ترغیبات کا حصہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنی انانیت اور بد عنوانی کے لئے جہاد کا استعمال کرنا نہ تو اسلام کا حصہ ہے اور نہ اس کی تعلیمات و ترغیبات کسی امن پسند مذہب و فرد سے ملتی ہیں۔ جہاد دو طرح کے ہیں۔ ایک جنگ میں جہاد دوسرا نفس سے جہاد۔پیغمبر اسلام نے بارہا نفس کو پاس کرنے، اس میں اٹھ رہی غلط خواہشات کو مٹانے، پنپ رہی برائیوں سے خود کو دور رکھنے اور اپنے آپ کو کسی پر ظلم کرنے سے بچانے کا نام جہاد ہے۔ یہی بڑا جہاد ہے۔ اس کے بارے بے شمار قرآنی آیات اور نبوی ارشادات کا ورود ہوا ہے۔ایک انسان کے دل میں دوسرے انسان کے خلاف پیدا ہونے والے جذبات کا تعلق نفس سے ہے۔ اسی بنیاد پر وہ دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ زمین پر فساد برپا کرتا ہے۔ خدا کے بندوں پر ناحق ظلم کرتا ہے۔ ان کے حقوق کو غصب کرتا ہے۔ یا یوں کہیں کہ جانے انجانے میں خدائی کا دعوا کر بیٹھتا ہے۔ اسی لئے اس طرح کے برے افکار و خیالات سے نفس اور نیت کو پاک کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔اس جہاد پر عمل کرنے والوں کی تاریخیں آج تک زندہ ہیں اور لوگوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ایسا جہاد کرنے والوں کو خدا کریم بھی پسند کرتا ہے اور انہیں اپنے اسرار رموز سے بھی واقف کراتا ہے۔ انہیں کے بارے قرآن کا ارشاد ہے کہ جب انسان خدا کی نگہبانی کا اقرار کر لیتا ہے۔ اس کے احکام پر عمل پیرا ہو کر تقوی کے راستے ولایت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے تو پھر رب کی قدرت و کرشمائی کا عالم اس بندے پر یہ ہوتا ہے کہ چلتا تو بندہ ہے لیکن اقدام خدا کا ہوتا ہے۔ دیکھتا بندہ ہے لیکن بصارت رب کی ہوتی ہے۔ پکڑتا اور ہاتھ بندہ بڑھاتا ہے لیکن قدرت رب کریم کی ہوتی۔ ایسے صفت کو مومن کی فراست بھی کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ مومن کی فراست کے مقابلے میں آنے سے بچو کہ بولتا تو وہ لیکن گویائی خدا کی ہوتی ہے۔کیونکہ اب وہ خدا کا دوست ہو جا تا ہے۔ تقوی اور صفائی کا عمل جہاد کے ذریعے جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے دوستی اتنی مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اسی اعتبار سے اس کی قدرت اور اختیارات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
جہاد کا دوسرا معنی جنگ اور آلات حرب و ضرب سے لڑائی بھی ہے۔ یہ بھی اسلام میں موجود ہے۔ لیکن قرآن کی جتنی آیتیں اس لفظ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں ہر جگہ اس کا ایک پس منظر ہے۔ بغیر کسی سیاق و سباق، غرض و غایت اور مقاصد کے نہیں ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت لازمی ہے کہ جہاں اس بات میں کو ئی پس پیش نہیں اور من و عن درست ہے کہ اسلام تلوار کی زور پر نہیں بلکہ کردار کی فطرت سے پھیلا ہے۔ وہیں اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اسلام میں تلوار کا تصور بھی ہے۔ جنگیں اور غزوات ہوئی ہیں۔ خود پیغمبر اسلام بھی شامل ہوئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی نظام میں ایسا نہیں ہے کہ برائی کو ختم کرنے کے لئے آلات و حرب و ضرب کا استعمال غیر مناسب تصور کیا گیا ہو۔ سناتن دھرم اور فکر جس کی تاریخ کافی قدیم ہے۔ وہاں بھی جب دھرم کو ادھرم سے خطرہ لاحق ہوتا ہے تو جنگ کے اپدیش، تعلیمات و ترغیبات ملتی ہیں۔ لیکن کسی بھی جنگ کے لئے ضروری ہے کہ اس کے سامنے بھی لو گ ہتھیار سے لیث ہوں۔ جنگ پر آمادہ ہوں۔ آپ نہیں ماروگے تو وہ مار دیں گے۔ یا خدا کی مخلوق پر ان کاظلم جاری و ساری رہے گا۔ ایسے میں لازم ہو جاتا ہے کہ انسان کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے اگر تلوار اٹھانی پڑے تو بے جھجھک اٹھائی جائے ۔ لیکن کسی نہتے پر وار کرنا غیر اسلامی اور غیر مذہبی عمل ہے۔بے گناہوں کا خون بہانا جرم اور ظلم ہے۔ خواہ اس کا مرتکب کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے حکومتیں اپنی انتظامیہ کو ہتھیار سے لیث کرتی ہیں تاکہ اگر کوئی ظالم کسی بے گناہ کو ظلم کا شکار بنائے تو اس کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کسی مجرم کو سزا دینا یا کسی ظالم کے خلاف آلات کا استعمال کرنا بے جا و نامناسب نہیں ہے۔
تاریخی واقعات شواہت بکثرت موجود ہیں کہ اسلام کو کسی بھی ملک کی سرحد میں تلوار کی زور پر داخل نہیں کیا گیا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ اسلام پہنچ گیا اس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو تلوار داخل ہوئی ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ اسلام پہنچ گیا لیکن کبھی بھی اسلام کے نام پر تلوار اٹھی ہی نہیں۔ جہاد تو مسلمانوں نے صرف اپنی قوم کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے نہیں اٹھایا بلکہ دوسری قوموں کو بھی محفوظ رکھنے کے لئے انسان دوستی اور فطرت کی حفاظت کے لئے جہاد کیا ہے۔ہاں کچھ سرفروں نے اپنے مفاد اور سیاسی ہتھکنڈوں کی وجہ سے اس پاک و پاکیزہ نام کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ دہشت گردی کو جہاد کے لباس میں پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ اسیے میں ہر ایک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کو سمجھیں۔آج کے دہشت گرد تو خود مسلمانوں کو کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ وہ کو ن ساجہاد کر
رہے ہیں۔ کسی غیر مسلم کو یوں ہی بے قصور قتل کرنا کون سا جہاد ہے۔جبکہ خود پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کسی بے گناہ کو قتل کر دیا میں میں اس کے لئے دعا کروں گا۔ جنگ کی شرطوں میں یہ شامل ہے کہ جب تک مد مقابل حملہ کے لئے تیار نہ ہو اس سے جنگ یا اس پر وار کرنا جائز نہیں۔
جنگ وقتل کا یہ تصور صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ تقریبا ہر نظرئیے میں ملتا ہے۔ کسی بے گناہ کے قتل کی اجازت کوئی بھی مذہب نہیں دیتا۔ ایسا کرنے والے سب سے پہلے اپنے ہی مذہب کے دشمن ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر امن پسند انسان اپنے مذہب کے نام ہو رہی دہشت گردی، تشدد ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف خود کھڑا ہو تاکہ دوسری قوموں سے یہ کہا جا سکے کہ ہمارے گھر سے منسوب شخص کی غلط 
کار کے خلاف ہم کھڑے ہیں ۔ آپ اپنے گھر کی صفائی کے لئے کب کھڑے ہوں گے۔


Abdul Moid Azhari

(Journalist, Translator, Motivational Speaker/Writer)
                          +919582859385

@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@