Showing posts with label IndianMuslims. Show all posts
Showing posts with label IndianMuslims. Show all posts

Monday, July 23, 2018

धर्म में पुनर्विचार की संभावनाएं Reconsideration possibilities on Religion understandingدین میں نظر ثانی کے امکانات


دین میں نظر ثانی کے امکانات
عبدالمعید ازہری

دینی روایتیں جب سماجی رکاوٹوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں تو سوال صرف ان روایتوں پر نہیں اٹھتے ہیں بلکہ انہیں فروغ دینے والی قوم، ان کو فکری مضبوطی دینے والے مذہب کو بھی سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔یہ معاملہ زمین پر رائج ہر مذہب و روایت کے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔مذہب پر سیدھے سوال کی اس روایت کو اس وقت مزید تقویت مل گئی جب مذہبی رہنمائی اور سماجی کارکنی کے راستے اورعمل درآمد کرنے والے اہل کار الگ ہونے لگے۔یہ علیحدگی آہستہ آہستہ ٹکراؤ کی صورت اختیار کرنے لگی۔ان کی بولیاں بدلیں۔ان کے لباس الگ ہو گئے۔اسٹیج اور ادارے الگ ہو گئے۔اپنے اپنے طور پر انسانی خدمت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے۔ پوری طاقت اسی ذاتی تصادم میں صرف کرنے لگے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اصلاح کی بجائے انتشار ہونے لگا۔آج کی صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں دس سے زائد گروہ ہو چکے ہیں۔اس کے بعد ہر گروہ کے اندر بھی دسیوں طرح کے نظریاتی اور ذاتی اختلاف پائے جانے لگے۔اس اختلاف نے مذہب و سماج کے ما بین ایسی دوری قائم کر دی اورنفرت و تحقیر کی اتنی روایتیں حائل کر دیں کہ ایسا لگتا ہے کہ سماج کے مخالف اگر کوئی ہے تو وہ مذہب ہے اور مذہب کے آگے سب سے بڑی دیوار سماج و معاشرہ ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کی بنیادی تعلیم ایک اچھے معاشرے کی تشکیل ، انسان کا احترام اور اخوت و رواداری کو فروغ دینا ہے۔
اتنا بڑا تصادم اور فرق امتیاز ایک دن میں نہیں آتا۔ کسی بھی اچھی بری تبدیلی میں ایک عرصہ لگتا ہے۔سماج کے اندر اسے پھیلانے میں سب کا ہاتھ ہوتا ہے۔کسی کا ہاتھ چھپا ہوتا ہے۔ تو کسی کا آستین کے اندر ہوتا ہے۔ کوئی کھل کر معاصیت کو فروغ دیتا ہے، تو کوئی اسے نظر انداز کر کے اور ظلم پر خاموش رہ کر اس میں شرکت کرتا ہے۔ ظلم کو فروغ پانے سے روکنے کے جتنے بھی راستے ہو سکتے ہیں ہر راستے کو بند کرنے کی کوشش نہ کرنا بھی برائی کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد وہ چلن اور فروغ تب پاتا ہے جب ہر کوئی صفائی دینے کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ خود کو بچاکر دوسرے کو اس کا ذمہ دار گردانتا ہے۔سماج میں یا مذہبی روایات میں غلط طریقے سے رائج پانے والی روایات یا غلط روایات کے داخل ہو کر رواج پانے کے لئے ہر فرد اجتماعی طور پر اور سماج و مذہب کا ذمہ دار طبقہ انفرادی طور پر ذمہ دار ہے۔برائیوں کے رائج ہو جانے کے بعد اس کی اصلاح کی کوشش کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو کوسنا اور اس کی توہین و تضحیک کرنا جرم عظیم اور گناہ کبیر ہے۔
مذہب اور سماج دوالگ چیزیں نہیں ہیں۔عدل و انصاف، اخوت و مروت اور ہمدردی و رواداری پر مبنی کسی بھی سماج کی تشکیل کے لئے مذہب کی ضرورت ہوتی ہے اور مذہب کے لاگو ہونے اور اس کی تعلیمات کا اطلاق ہونے کے لئے قوم او ر سماج کا ہونا ضروری ہے۔اکثر و بیشتر تاریخی روایات کا تعلق کسی حکمت و فلسفہ، تعلیم وتربیت یا پھر موقع و محل، سیاق و سباق اور ضرورت و تقاضے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ثقافتی، تہذیبی اور سماجی رسم ورواج اور کلچر و روایات کے پیچھے کچھ نہ کچھ حکمت و تعلیم ضرور ہوتی ہیں۔موجودہ دور کے کسی بھی رسم و رواج اور ثقافت وروایت کو دیکھ کر یکسر اس کی نہ تو پیروی ضروری ہے اور نہ ہی اس کا انکار واجب ہے۔اس کے پیچھے کے مقاصد جاننے کے بعد یہ فیصلہ لیا جانا چاہئے کہ موجودہ دور میں اس کی ضرورت و اہمیت کتنی ہے۔ آیا اب اس کی ضرورت و اہمیت ختم ہو گئی ہے یا پھر ضرورت تو ہے لیکن طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک مسئلے کی اصل اور اس کی جڑ تک رسائی نہیں ہوتی اس پر کسی بھی طرح کا مثبت و منفی رد عمل نقصان دہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ کرنا صحیح ہے کیونکہ اس کے پیچھے وجہ یہ اور کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے یہ نقصان ہوتا ہے۔جب حلت و حرم کے بیچھے مقاصد درست ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ مسئلہ در اصل طریقہ کار میں ہے۔
دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ کوئی بھی فرد آج اپنے قول سے پیچھے ہٹنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ جب کہ اس کا بھی اعتراف ہے کہ کل علم کسی کو نہیں ہے۔کسی فرد کا رد عمل یا موقف اس کے اپنے علم پر مبنی ہوتا ہے۔وہ درست تو ہو سکتا ہے لیکن صرف وہی درست ہو ضروری نہیں کیونکہ اس کے علم سے آگے بھی علم ہو سکتا ہے۔اگر خدائی کے اس دعوے کو ترک کر دیا جائے تب بھی کئی مسائل اپنے آپ حل ہو سکتے ہیں۔ اپنے موقف کو امکان خطا کے ساتھ درست سمجھے اور دوسرے کو موقف کو درست کے امکان کے ساتھ غلط سمجھے تو بھی مسئلے سلجھائے جا سکتے ہیں۔خدائی کا یہ دعوی بھی انہیں تباہ کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ ہر ایک کا زبانی دعوی ہے کہ وہ تو ناچیر، حقیر اور کم علم ہے۔
اصطلاحوں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اصلاح و تربیت میں الفاظ و انداز کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں قوم مسلم کی زبوں حالی کسی سے بھی چھپی ڈھکی نہیں ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا دعوی ہے کہ اسلام اور مسلمان پوری دنیا میں غلبہ کے لئے ہیں۔ تو ان کی خود یہ بدتر صورتحال کیوں ہے۔جب اس پر غور کیا جانے لگا تو کئی حقیقتیں سامنے آئیں اور اصلاح کی کئی صورتیں دکھائی دیں۔ ان میں سے جو آواز سب سے زیادہ اٹھائی گئی وہ یہ ہے کہ دین و مذہب میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔یہ جائزہ اور تجزیہ ملک کے کچھ سیکولر طبقوں نے کیا۔ کیونکہ اب تو محاسبہ بھی اس قوم کا عملی مقدر نہ رہا۔ لیکن جب کوئی اور ہمیں مشورہ دیتا ہے تو ہمارے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اور دین خطرے میں آ جاتا ہے۔ دین میں نظر ثانی کی اصطلاح اتنی بھاری پڑ جاتی ہے کہ مسائل کا حل خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔دین کے تین اہم پہلو ہیں۔ عقیدہ، عبادت اور معاملہ۔ عقیدہ و عبادت میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود معاملات و مسائل میں تو حالات زمانہ کی رعایت شامل ہوتی ہے۔اس کے بارے میں میں تو خود قرآن اور صاحب قرآن نے جگہ جگہ ارشاد فرمایا کہ غور و فکر کرو۔دوسرا پہلو ہے موقع و محل کی رعایت اور 
معاملات و مسائل کا محل استعمال۔ اس لحاظ سے بھی غور فکر درکار ہے۔
اس لحاظ سے دین میں نظرثانی کے دوپہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں ترمیم و تبدیل پر غور کیا جائے۔جس کے امکانات کا ہر ایک پہلو بند ہے۔
نظر ثانی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآنی آیات و نبوی ارشادات سے جو مسائل و معاملات اور ان کے محل وقوع ہم نے سمجھے ہیں، ان میں ایک بار پھر سے غور کر لیا جائے۔اور اس میں تو کوئی برائی بظاہر نظر نہیں آتی۔ جب قرآن کے بارے میں ہمارا یہ دعوی ہے کہ اس میں قیام قیامت تک کے واقعات کا علم ہے۔مسائل اور ان کا حل ہے۔ تو ان سے واقف ہونے کی کوشش کرنا بھی تو ہمارے لئے ضروری ہے۔دین میں نظر ثانی کا لفظ سن کا یکسر برہم ہونے کی بجائے اس کے امکانی پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے۔اگر اس سے مسائل حل ہو سکتے ہوں تو اس کے لئے کوشش واجب اور کوتاہی حرام ہے۔
یہی حال سماج و سیاست کا ہے۔اپنی تنگ نظری اور محدودذہنیت کی وجہ سے نظر ثانی اور مفید تبدیلیوں کے راستے بند کر رکھے ہیں۔کیونکہ نظر ثانی اور کارآمد تبدیلیوں سے مذہب، سماج اور سیاست کے نام کا کاروبار بند ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
Abdul Moid Azhari (Amethi) Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com








Sunday, April 15, 2018

धर्म स्थल की पवित्रता और देश का गौरव दांव पर holiness of sacred places and pride of the nation are on risk

धर्म स्थल की पवित्रता और देश का गौरव दांव पर
[अब्दुल मोईद अज़हरी]

आसिफा मैं भूल जाना चाहता हूँ कि तुम्हारा मज़हब क्या है, और मुझे यह भी जानने की ज़रूरत नहीं है कि तुम्हारी बिरादरी क्या है. या इलाक़ा कौन सा है. पर यह कैसे भूल जाऊं कि तुम इस देश की बेटी हो. हमारा गौरव, मान, मर्यादा और सम्मान हो. मैं यह भी भूलना चाहता हूँ कि बलात्कारियों का धर्म, समुदाय, या ठिकाना क्या है लेकिन यह कैसे भूल जाऊं कि उन्होंने दुनिया का सब से घिनौना पाप करने के लिए धार्मिक स्थल को अपवित्र किया है. आसिफ़ा तुम अकेली नहीं हो, निर्भया का परिवार हर रोज़ बढ़ता जा रहा है. परिवार से जुड़ता हर सदस्य धर्म के ढोंगी ठेकेदारों, देश और धरती का सौदा करने वाले कुकर्मी राजनैतिक नेताओं, लम्बी लम्बी बातें और भाषण झाड़ने वाले समाज सुधारकों और जज़्बात, दर्द, मुरव्वत और रिश्तों के एहसास से ख़ाली हज़ारों सादे पन्नों पर प्रदर्शनी की काली स्याही पोत कर दुनिया को झूटी तसल्ली देने वाले आराम पसंद लेखकों के मुंह और ज़मीर पर रोज़ तमाचा मारता है. लेकिन दिल पत्थर और आँखों में बेशर्मी के परदे पड़े होने की वजह से कोई असर नहीं हो रहा है. उन्हें इंतज़ार है उस घड़ी का जब घर के कोने की आग दूसरे कोने तक पहुँच कर हजारों घरों को जलाने के बाद उस आग की लपटें जब उन के घर की तरफ बढ़ने लगेंगी तो उन्हें क़ानून, समाज और इंसाफ नज़र आयेगा. उन्नाव की पीड़ित एक और निर्भया हो या बिहार की मज़लूम बेटी हो, सभी का जुर्म यह है कि वह इस देश की बेटियां हैं.
आज जिस तरह से कानून व्यवस्था जुर्म और ताक़त के बाज़ार में नाचने का काम कर रही है निंदनीय और अफ़सोस नाक है. कठुवा में जिस तरह से क़ानून के काले सफ़ेद मिटटी (ख़ाकी) के हाथों ने शर्मनाक प्रदर्शन किया है वह ख़ुद के क़ानून परिवार के सदस्यों के ज़मीर और आत्मा पर ज़ोरदार दहशत का तमाचा है. उन्नाव और कठुआ में दर अस्ल सिर्फ देश की उस बेटी का बलात्कार नहीं हुआ है बल्कि क़ानून व्यवस्था, शासन, प्रशासन के साथ अब तक चुप रह कर तमाशा देखने वाले पूरे समाज के साथ रेप हुआ है. कठुआ के खाना बदोश की आठ साला बेटी के साथ जानवरों से भी बुरा बर्ताव होता है वह भी इस लिए कि उन खाना बदोशों को वहां से डरा धमका कर भगा दिया जाये. किसी को भगाने का यह अद्भुत और मानवहीन तरीका बड़ा निर्दयी है. हमें यह सवाल बुरी तरह परेशान करता है कि यह भगाने की सियासत के चक्कर में हैवानों वाला प्रदर्शन कब तक चलेगा. उस के बाद जब मुजरिमों पर कानूनी कार्रवाई की कोई प्रतिक्रिया शुरू होना चाहती है तो उन के बचाव में उतरने वाले लोगों को देख तो देश का सिर झुक गया.
जिस देश की धरती को माँ कहा जाता हो, वहां की बेटियों को देवी का रूप समझा जाता हो. मात्र भूमि की जय कार होती है. वहीँ पर माँ और बेटी दोनों का अपमान, उन का शोषण और उन का बलात्कार क्या देश के साथ दुर्व्यवहार नहीं है. बलात्कारियों और दंगाइयों के समर्थन में भारत माता की जय और जय श्री राम के नारों का प्रयोग कर के ना सिर्फ भारत माँ के पावन चरित्र पर कीचड़ उछाला है बल्कि मर्यादा पुरषोत्तम श्री राम का भी अपमान किया है. जिस की मर्यादा और पुरुष की उत्तमता की गाथाएं पुराणों और धार्मिक संवादों में बड़ी आस्था के साथ बयान की जाती हो उस के नाम का इस्तेमाल उसी के विचारों और शिक्षा के विरुद्ध होना उस का अपमान है.
जहाँ एक गिरोह नारा ए तकबीर की आवाज़ लगा कर ख़ुद को बम से उड़ा कर निर्दोषों की हत्या का बड़ा गुनाह करता हैं वहीँ यह गिरोह भी श्री राम और भारत माता के नारे लगा कर ज़ुल्म और पाप करते हैं. दोनों में कोई फर्क नहीं है. आज नारों का राजनैतिक दुरूपयोग दुर्भाग्य पूर्ण है. कठुआ के बलात्कारी हों, उन्नाव के ज़ालिम या बिहार का वहशी दरिंदा जिस ने 6 साल की मासूम पर अपनी नामर्दी और नपुंसकता दिखाने का दुस्साहस किया.
यह इस कायर पुरुष प्रधान की मानसिकता है कि अपनी नाकामी छुपाने के लिए हर शहर और गाँव में एक निर्भया का उदाहरण दे कर उन्हें अपने पाँव की जूतियाँ बनाना चाहते हैं. लेकिन यह भारतीय बेटियों का साहस है कि इन्हीं जंगलों से निकल कर वह देश का गौरव बन कर स्वर्ण पदक का कीर्तिमान रच का भारत माँ का शीश गर्व से ऊँचा कर रही हैं.
ऐ भारत की बेटियों तुम रुकना नहीं. यह तुम्हारे हौसले की जीत है. निर्भया और आसिफा जैसी देश की धरोहरों का बलिदान है. यह मुट्ठी भर कायरों और बीमारों का समाज तुम्हारे हौसलों को पस्त नहीं कर सकता.
आज बलात्कार की बढती घटनाओं से क़ानून और समाज दोनों ही हारा है. यह इतिहास रहा है कि जब कभी भी पूंजीपतियों ने क़ानून को अपनी जेब का ग़ुलाम बनाने की कोशिश की है. जनता की अदालत ने इस देश और न्याय व्यवस्था की रक्षा की है.
अभी भी देश का बहु संख्यक समाज इस हीन भावना का विरोधी है. वह उठेगा एक दिन और फिर हर बेटी को इंसाफ मिलेगा. यह बेटियां ही उठाएंगी उन्हें. जब अपने बलात्कारी बाप, भाई और बेटे का बहिष्कार करेंगी. अपने सारे रिश्ते ख़त्म कर देंगी. और हर पुरुष को महिलाओं के सम्मान के लिए मजबूर कर देंगी. क़ानून व्यवस्था को भी एक दिन आज़ादी मिलेगी. यह सब कुछ होगा. जब लोगों का धर्म उनकी निजी आस्था और देश, समाज और मानवता उन की सामूहिक पहचान होगी.
रावण और शैतान कहीं अलग नहीं है. वह हमारे बीच और अपने अन्दर ही है. वरना रावण के चंगुल में क़ैद सीता जी की अस्मिता सुरक्षित रही लेकिन आज भक्तों और जिहादियों के हाथों में कुछ भी सुरक्षित नहीं है.
किसी भी नाकामी को बलात्कार से नहीं छुपाया जा सकता. क्युकी कभी कभी रोष में की गई प्रतिक्रिया प्रतिशोध बन कर बहुत कुछ जला देती है जिस की चिंगारियां सदियों तक दर्द हाँ एहसास दिलाती रहती हैं. खुद भी बचो और देश को भी किसी ऐसी आग में जलने से बचा लो.
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385


Sunday, February 19, 2017

न्याय के लिए तड़पती यूपी! क्या इस बार मिलेगा इंसाफ ?

न्याय के लिए तड़पती यूपी! क्या इस बार मिलेगा इंसाफ ?

अब्दुल मोइद अज़हरी

यू पी विधान सभा चुनाव में अब हुए दो चरणों के मतदान ने अपना रुख स्पष्ट कर दिया है। सारेझूटे वादों और नाटकीय गठबन्धनों को क़रारी परास्त होने वाली है। दलित मुस्लिम के साथ इस बार उत्तर प्रदेश की जनता ने अपना मन बना लिया है।पिछली सरकार की नाकामियों को सबक़ सिखाने की ठान लिया है। झूटे वादों और साम्प्रदायिकता के विरुद्ध भी शशक्त रुझान देखने को मिले हैं। अब तक के आंकड़ों ने यह तो तय कर दिया है कि पिछली सरकार पूर्ण बहुमत से दोहराई नहीं जाएगी। इस बार की पूरी चुनावी रणनीतियों में सभी राजनैतिक छोटी बड़ी पार्टिओं एवं अराजनैतिक छोटे बड़े दलों, समूहों और संगठनों ने सामूहिक तौर बहुजन समाज पार्टी को अनदेखा किया लेकिन दोनों चरणों के अनुभवों ने यह प्रतीत कर दिया कि बसपा को अनदेखा करना सब की बड़ी भूल थी।
झूटी अफवाहें, आपत्ति जनक टिप्पड़ियां, भावुक भाषण, कटाक्ष और सांप्रदायिक माहौल बनाने जैसे काम आज की राजनैतिक रणनीतियां हैं। अपनीबातों को सही से रखने की बजाए दूसरों के निजी मामलों की खोज ज्यादा होती है। जितनी ज्यादा बुराइयाँ गिनाई जाएँ उतना ही सफ़ल मिशन समझा जाता है। किसी को हराने की इतनी ज्यादा जिद हो जाती है कि अपनी जीत भूल जाते हैं।अंत में वही होता है जिसे रोकने का प्रयास किया गया था। जितने भी गड़े मुर्दे हैं सब चुनावी दिनों में उखाड़े जाते हैं।विपक्ष के बाद एक ही मुद्दा होता है कि सत्ताधारी पार्टी ने कितना घोटाला किया है,इस सरकार में कितने दंगे हुए हैं,कितनोंको बगैर गुनाह किये सजा मिली है, कितने मुजरिमों के हौसले बुलंद हुए हैं इत्यादि।
खुलकर चुनावी मैदान में आई आल इंडिया उलमा व मशाईख़ बोर्ड ने भी शानदार शुरुआत की है। कईयों के खेल बिगाड़ दिए हैं। मायावती का समर्थन दे कर सब से पहले लोगों को चौंकाने वाला काम किया। उस के बाद “अबकी बार बसपा सरकार”का ऐसा अभियान चलाया कि बड़े बड़े राजनैतिक महारथियों को पीछे छोड़ दिया। पश्चिमी उत्तर प्रदेश में उन के तेज़ अभियान के असर ने इतना काम किया कि सभी को बाक़ी चुनावी मतदान चरणों के लिए सब को चौकन्ना कर दिया है। इस वक़्त आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड की सभी शाखाएं, और लाखों की तादाद में बोर्ड के समर्थक पूरी तरह से सय्यद मुहम्मद अशरफ किछोछवी के पिछले चलने का मन बना चुके हैं। आखिर हर बार किसी न किसी को वोट देते ही हैं और इस बार भी देना है तो क्यूँ न इस बार इन्हीं की अगुवाई में चला जाये जैसे विचारों ने सौदे बाजों की नींदें उड़ा दी हैं।
सय्यद मुहम्मद अशरफ किछोछ्वी से निजी बात चीत के दौरान उन्हों ने कहा कि ने हमेशा ही लोगों के हित की बात ही है। उन्हें इंसाफ और उनका हक दिलाने की लड़ाई लड़ी है। मेरा सीधे सियासत से न कल सम्बन्ध था और न ही कल होगा लेकिन आज राजनीति की बदलती परिभाषा के परिपेक्ष में यह ज़रूरी हो गया था कि निस्वार्थ सर्व जन हिताय और बहुजन सुखाय की कर्म रूपी परिभाषा दिखाई जाये उस के साथ तमाम राजनैतिक दलों को इस बात से भी अवगत कराया जाये कि राजनैतिक स्वार्थ के लिए अपने धर्म और कर्म का सौदा करने वालों की संख्या भले से बढती जा रही हो लेकिन त्याग, तपस्या और बलिदान वाले लोग भी इस धरती पर बसते हैं। जो खुद का पेट भरने से पहले पड़ोस में देख लेते हैं कि कोई भूका तो नहीं या कम से कम इतना तो ज़रूर देखते हैं कि खुद के और परिवार के मुख से उतरने वाले निवाले किसी का हक छीन कर तो नहीं आये हैं।
दोनों चरणों के मतदानों से बसपा के साथ आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड और उस के समर्थकों के हौसले बुलंद हैं। चुनावी दौरा पर पहुंचे आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड यूथ के राष्ट्रीय अध्यक्ष मौलाना सय्यद आलमगीर अशरफ किछोछ्वी ने अपने एक बयान में कहा कि इस वक़्त यू पी बड़ी विषम परिस्थितिओं से गुज़र रही है। इन पांच वर्षों में यू पी की जनता ने ने लूट, बलात्कार, हत्या और साम्प्रदायिक दंगो में अपने आप को घिरा पाया। कानून के रखवालों ने दिल खोल कर कानून का मजाक उड़ाया। महिलाओं का शोषण होता रहा और बयान आते रहे कि बच्चों से गलतियाँ हो जाती हैं। हाशिमपुरा के मजलूमों को 16 वर्षों बाद भी न्याय नहीं मिला। दादरी और मुज़फ्फर नगर ने भी कानून और न्याय व्यवस्था को कटघरे में ला कर खड़ा कर दिया। ज़ुल्म और तांडव का नंगा नाच होता रहा और इंसाफ दूर कोने में कड़ी सिसकती रही। रोटी कपडा और मकान न देकर रक्षा और सुरक्षा भी छीन ली।
सय्यद आलमगीर अशरफ ने निजी बात चीत के दौरान कहा कि इस वक़्त उत्तर प्रदेश को सब से ज्यादा ज़रूरत न्याय व्यवस्था को दुरुस्त करने की है। किस ने ज्यादा मारा और किस ने कम मारा के आंकड़ों को गिनाते गिनाते सरकारों की अदला बदली हो जाती है। बस न्याय खुद कटघरे में खड़ा बेबस और मजबूर आँखों से रिहाई की अपील करता है। यू पी को ऐसे शासन और प्रशासन की आवश्यकता है जो प्रदेश में कानून बिगड़ी हुई कानून व्यवस्था को सुधर सके. तत्कालीन और कड़े निर्णय लेने में सक्षम हो। सब के विकास की सिर्फ बात न करे बल्कि उसे कर के दिखाए। यह यू पी का राजनैतिक इतिहास बताता है कि जब कभी भी गुंडा गर्दी और राजनैतिक शरण में साम्प्रदायिकता को बढ़ावा मिला और एक शसक्त शासन कल की आवश्यकता हुई है तो बहुजन समाज की सरकार ने यह ज़िम्मेदारी उठाई है। यह मेरा ही नहीं बल्कि यू पी की बहुमत जनता और सभी विरोधी दलों का भी मानना है कि बसपा सरकार आते ही गुंडा गर्दी और लूटमार बंद हो जाती है। कानून और न्याय व्यवस्था मजबूत होती है। लोगों में न्याय मिलने की उम्मीदें जाग जाती हैं। भय से मुक्ति मिल जाती है।
इसी लिए इस बार यू पी में बसपा की सरकार आना अति आवश्यक है। गुंडा राज, लूटमार, हत्याएं, बलात्कार और सांप्रदायिक दंगों से मुक्ति मिलते ही विकास के रस्ते अपने आप खुल जायेंगे। उस के लिए अपील करने और उस के बाद जताने की ज़रूरत नहीं पड़ेगी और न ही नाकामियों को छुपाने के लिए नाटक करने की आवश्यकता होगी।
अंत में उन्हों ने कहा कि बोर्ड न तो पहले कभी व्यक्तिगत हुआ है और ही आज है। सवाल इंसाफ और लोगों के हक का है। कौन अच्छा और कौन बुरा है यह तय करना हमारा काम नहीं। क्या अच्छा और क्या बुरा है हम इस बारे में बात करते हैं।


Abdul Moid Azhari (Amethi) E-mail: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385

Saturday, January 21, 2017

मुसलमानों का आपसी बिखराव: धार्मिक या व्यक्तिगत?

मुसलमानों का आपसी बिखराव: धार्मिक या व्यक्तिगत?
अब्दुल मोइद अज़हरी

जहां इस बात से इनकार संभव नहीं कि इस्लाम, मानवता के आधार पर संगठित, संयोग और सहयता का धर्म है, वहीं यह बात भी अफसोस के साथ सबक आमोज़ है कि पूरी दुनिया को एकता की दावत देने वाले मुसलमान खुद कई समुदायों और दलों में बट गए हैं।
सुन्नी, शिया और वहाबी में बंटा हुआ कलमा पढ़ने वाला मुसलमान इस कदर एक दूसरे का विरोधी हो गया है कि तीनों ही एक दूसरे को काफिर कहने और करने पर तुले हुए हैं। इसी उथल-पुथल ने मुसलमानों के शान व सम्मान को बिखेर कर रख दिया है।

आज मुसलमानों की जो हालत है वह किसी से ढकी छुपी नहीं। पूरी मानवता/इंसानियत के प्रति प्रार्थना, सेवा करने वाले शुभचिंतक मुसलमानफ़िरक़ा परस्ती का शिकार होते हा रहे है। इस्लामी शिक्षा ,परंपरा और नैतिकता (morality) एक पुराने इतिहास बनकर रह गए हैं। जिन नियमों के पालन ने मुसलमानों को दुनिया में नाम दिया, शोहरत दी, इज्ज़त का उरूज बख्शा था आज वही नियम खुद मुसलमानों के यहाँ अस्वीकार्य हो गए हैं। आज का हर संजीदा मुसलमान एक इस गंभीर समस्या का सम्पूर्ण समाधान चाहता है ।

ईमान व कुफ्र के दरमियान  स्पष्ट अर्थ, आसान परिभाषा की मांग करता है। या तो आदमी मुसलमान है या नहीं है। मुसलमान है तो अच्छाई और बुराई अपनाने के अख्तियार पर उस कि इस्लाह जाए। अगर मुसलमान नहीं तो इससे इस्लामी मामलों में बहस करने, मुनाज़रा और किताबों के ज़रिए जिहाद करने की क्या जरूरत है। पिछले कुछ दशकों से एक ही कलमा पढ़ने वालों के बीच गठबंधन, इत्तेहाद की कोशिशें की जा रही हैं। लेकिन संभावनाएं कम से कम होती जा रही हैं। जब कि कुरान भी कहता है ऐसी बात पर एकजुट हो जाओ जो (common) सामान्य साधारण हों।

यूं तो सामाजिक और घरेलू गठबंधन में हम जी रहे हैं। लेकिन आपसी मतभेद कम होने का नाम नहीं ले रहे हैं। मुसलमानो के आपसी गठबंधन के बारे में सबसे बड़ी मुश्किल यह है कि सभी इस मतभेद को शरीयत और आस्था के आधार पर समझते हैं। लेकिन कोई भी इस मुद्दे को गंभीरता से समझने को तैयार नहीं। सभी का अपना अहंकार सामने आ जाता है। गठबंधन के सभी प्रयास मात्र ख़ाकों और मनसुबों में ही बंद हो जाते हैं। मुसलमानो के साथ पहले दिन से ही यह समस्या रही है कि कुछ, मुनाफिक, बहरूपियों और धूर्त लोगों ने धर्म के नाम पर धोखा देने की कोशिश की है। आज तक वो प्रक्रिया चल रही है। इसी वजह से इतने मतभेद जीवन में आ रहे हैं। मतभेद को बढ़ावा देने में ज़्यादा पात्र अहंकार का रहा है। हाँ इस बात से इनकार नहीं है कि एक बहरूप मुस्लिम (नाम का) ने दुसरे मुस्लिम के धार्मिक जज़्बात को ठेस पहुंचाई है। एक साज़िश में फँस कर ऐसी बातें कही, लिखी और बोली हैं कि जिस से भेद होना स्वाभाविक है। इन लोगों ने हमेशा राजनैतिक उद्देश्यों से ऐसी वारदात को अंजाम देते रहे हैं जिस से समुदाय में बिखराव हो, आपसी बटवारा हो। दूसरों को इस का फायदा हो।

लेकिन सूफीवाद शिक्षा, तालीम और उदारवादी तरबियत ने हमेशा इस पाखंड, मुनाफिकत को टखनों के बल गिराया और शिकश्त दी है। कट्टरवादी सोंच और कट्टरपंथी विचार धारा के विरुद्ध सूफीवाद का सहारा लिया गया। एक सोंच ही दुसरी सोंच को मार सकती है। सूफीवाद के विरुद्ध ही यह उग्र विचार पैदा किये गए थे। लेकिन बाद में दवाओं में मिलावट ने कट्टर सोंच के विरुद्ध भी कट्टरता का प्रदर्शन करना शुरू कर दिया। दोनों ही अपने मार्ग से हट गए। हद तो यह है कि जो भी मुद्दे को सुलझाने की कोशिश की वह खुद भी ऊँच नीच के जाल में आ गया।

यानी “मर्ज़ बढ़ता गया जो-जो दवा की है”। ' इसकी एक वजह यह भी है कि जिस घाव को सुई से सिलना था उसमे चाकू और खंजर का इस्तेमाल किया गया और जहां मज़बूती और स्थिरता से खड़े होने की जरूरत थी वहां जुमलों ,बयानबाजी और इलज़ाम से काम लिया गया। आपसी मतभेद को अपनी निजी और व्यक्तिगत असामनता में खूब हवा दी गई। इस्लाम की जो शिक्षा हमारे बड़े बुजुर्गों और सूफियों ने दी है, उस पर अमल होता नजर नहीं आ रहा है। निजी जाती झगड़ो को धार्मिक रंग देकर जनता अवाम को कई भागों में बांट दिया गया।

अपनी कम इल्मी और अक्षमता को छिपाने के लिए भी इस नीति का इस्तेमाल किया गया। किसी के साथ बैठ कर सुलह समझौता की बजाय राजनीतिक बयानबाजी और एक दूसरे पर आरोप प्रत्यारोप से काम लिया गया। नतीजा यह निकला कि इस्लाम की सही तस्वीर उनके निजी झगड़ो की धूल में छिपकर रह गई। मूल मतभेद लोग भूल गए। अब तो मतभेद की लड़ाई उफान पर है। प्रतीत होता है मानों सत्ता की लड़ाई है। किसी भी कीमत पर अपने मत सही साबित करना है। इसके लिए कुरान और हदीस के जाइज़ और नाजाइज़ इस्तेमाल करना पड़े तो कोई बात नहीं।

क़ुरान व हदीस की निजी और निराधार व्याख्या ने इन परिस्थितियों को को आग लगाने का कम किया। कई ऐसे मतभेद हैं जिनमें केवल गलतफहमी ही दूरियां बढ़ा रही हैं। कोई भी ज़िम्मेदार इस बात को समझ कर उसका समाधान करने को तैयार नहीं। शायद उन्हें लगता है कि ऐसा करने पर मार्किट में उनकी महत्वता में कमी आ जाएगी। इसलिए इस तरह की दूरियों को वह खुद बनाए रखना चाहते हैं।

एक विडंबना यह भी है कि विभिन्न समुदायों में बंटे हुए यह लोग भारत में अपने आप चाहे जिस पंथ और फिरका से जोड़ लें बाहर देशों में जाकर अक्सर बोली और मत बदल जाता है। सऊदी और उनके हितैषी देशों में सभी केवल मुसलमान होते हैं। या जो लोग सऊदी विचार धारा को मानते हैं वहां अपनी इस फ़िक्र पर फख्र करते हैं जिस के चलते उन्हें इनाम से नवाज़ा जाता है।

लेकिन इसके अलावा सूफी देशों में सभी सूफी होते हैं। भारत के सऊदी वफादार वहाबी भी जब सऊदी के अलावा तुर्की और चेचन्या जैसे सूफी देशों में जाते हैं तो वह अपने आप को पक्का सूफी हैं। एक से अधिक उदाहरण ऐसे हैं जहां सूफी और सूफीवाद से इनकार करने वाले अपने आपको सूफी बताकर लोकप्रियता और प्रतिष्ठा हासिल किए हुए हैं। जब स्थिति इस तरह की हों कैसे विश्वास किया जाए जो भी आपसी मतभेद हैं इनकी वजह दीन और अक़ाएद हैं।

अहले सुन्नत से संबंध रखने वालों का भी यही हाल है। वह खुद भी एक बात पर सहमत नहीं हैं। एक दूसरे को कुफ्र व गुमराही के अंधेरे घर में कैद करने की होड़ में लगे हुए हैं जो जितना बड़ा ठेकेदार है, वह उतना ही बड़ा कारखाना कुफ्र और गुस्ताख़ी का लेकर बैठा है। उसकी हैबत इतनी है कि किसी को भी इस के खिलाफ सच और हक बोलने की हिम्मत नहीं होती। ऐसा नहीं कि बोलने से उसे जान-माल का खतरा है। वैसे माल का ही खतरा है। प्रोग्राम नहीं मिलेंगे। चंदा नहीं होगा। चंदा, पैसा, दावत ,तबलीग, इमामत व खिताबत पर ज़िन्दगी जीवन बसर करने वालों की रोज़ी रोटी का मसला जुड़ा होता है। हालाँकि यही लोग अपनी तकरीरों में कहते हैं कि रिज्क तो सब का तै है।

निजी फायदा के लिए दीन में समझौता किया जा सकता है,,, हाँ जिस ग्रुप से रिज़्क़ को मंसूब कर रखा है अगर इस के विरुद्ध कोई मामला है तो इस में ईमान दांव पर लगा देंगे। इसके लिए कुरान हदीस में जबरन दखल अंदाज़ी तक कर ली जाएगी। ताकि आका और ठेकेदार खुश हो जाएं, विशेष नज़दीकी मिल जाये और कारोबार में भी बढ़ोतरी हो जाये। ऐसे लोगों का एक बाजार है। कुछ ठेकेदार हैं जो अपना अपना ग्रुप तैयार कर रहे हैं ।

कोई खुश करके तो कोई डरा धमकाकर। अलग तरीके और अलग शैली है। हां धर्म से किसी को कोई दिलचस्पी नहीं। जिसे धर्म से लगाव हो जाए, शरीअत की खातिर उसकी गैरत जाग जाए तो सब ठेकेदार इसके खिलाफ एकजुट हो जाते हैं। जिसके नज़दीक किसी वहाबी से हाथ मिलाना, साथ उठना बैठना, खाना-पीना, इसके पीछे नमाज़ पढ़ना, यहां तक ​​कि किसी भी तरह के मामलात रखना सही नहीं है। लेकिन खुद उनके साथ ग़ुस्ल ए खाना ए काबा में भागीदारी भी करें। उनकी तरफ से हज और उमरा भी करें। उनकी दावत को स्वीकार भी करें।

आज के इस दौर में कोई भी व्यक्ति किसी व्यक्ति से बिना किसी उद्देश्य के न मिलता है और न ही इससे एकता और मतभेद रखता है। यह मनुष्य की अपनी भावना तो हो सकती है लेकिन इसे धर्म दीन का नाम देना शैतानियत के सिवा कुछ भी नहींदिखावा, कपट और पाखंड में , सच्चाई, ईमानदारी का हनन हो रहा है। ऐसे में हम क्या करें? काम करने वालों को किसी भी ठेकेदार से अलग होकर काम करना होगा। जनता को समझना होगा कि जिसे भी कार्य से मतभेद हो वह धर्म के दुश्मन है।

उसे क़ौम मुस्लिम और इस्लाम से कोई प्रतिबद्धता नहीं। वह व्यापारी है जो धर्म के व्यापार पर आमादा है। इस का संबंध चाहे जिस मसलक या फिरके से हो। ऐसे किसी भी एकाधिकार को ताक पर रखकर तामीर और तरक्की की राहें हमवार करनी होंगी किसी ऐसी लकीर के फकीर होने से बचें हर उस लकीर से अपने आप को अलग करना होगा जिसे व्यक्तिगत स्वार्थ के लिए खींचा गया हो
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, contact:9582859385
@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@