Showing posts with label Amethi. Show all posts
Showing posts with label Amethi. Show all posts

Saturday, February 11, 2017

UP Assembly Election 2017 Dalits and Muslims یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز


یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز

عبد المعید ازہری

یہ موجودہ سیاست کی ناکامی ہے یا سیاست دانوں کی نا اہلی ہے کہ سیاست کا با ضابطہ تعمیر ترقی کا خاکہ تعصب اور بے ایمانی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے انتخابات کیلئے پیسہ، پاور اور ظلم و زیادتی لازم ہوتے جا رہے ہیں۔ دنگے اور فرقہ وارانہ فسادات کسی بھی انتخابی مہم کا اہم حصّہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اشتعال انگیز تقریریں، جذبات کو مجروح کرنے اور انھیں ابھارنے والے بیانات و تحریریں، نفرت و تشدد کا پروپیگنڈا، لالچ، مکر و فریب اور بلیک میلنگ جیسے فتنہ پرور افکار و نظریات موجودہ سیاست کے مینوفیسٹو میں شامل ہیں۔ ایسے میں شرافت، ایمانداری اور دیانت داری اپنے دامن کو بچاتے پھر رہے ہیں۔ تعمیر و ترقی کی مسدود راہیں مزید بے چینی کا شکار ہو رہی ہیں۔ سیاسی معیار اتنا گرتا جا رہا ہے کہ کوئی بھی اسے سنبھالنے میں جھجھک محسوس کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے استحصالی رویہ کا شکار مسلم قوم اب اپنے وطن میں بھی مظلوم ہوتی جا رہی ہے۔
یو پی اسمبلی انتخاب کا بگل بج چکا ہے۔ دام و فریب اپنے شباب پر ہے۔ شکاری اپنے نئے جال کے ساتھ تیار ہیں۔ برساتی مینڈک بھی میدان میں ہیں۔ کچھ پرانے تیر بھی آزمائے جا رہے ہیں۔ سب کا ہدف قوم مسلم ہے۔ سب کی توجہ کا مرکز صرف مسلمان ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کو بھی ان کی پرواہ نہیں ہے۔ کوئی حب علی میں ہے تو کوئی بغض معاویہ میں ۔کچھ یزید اور ابو جھل بھی ہیں۔ عین انتخاب کے دن تک سیاسی بازیگری چلتی رہے گی۔ کسی سے اتحاد تو کسی سے بغاوت کا وقتی اور فریبی کھیل کھیلا جائے گا۔ کچھ پتے ابھی بھی کھلنے باقی ہیں۔ کچھ اپنا کام چکے ہے اور کچھ کر رہے ہیں۔
بہن جی کی پارٹی اپنی داخلہ پریشانیوں سے ابھرتی نظر آ رہا ہے۔سائکل اور پنجے کا ڈرامائی اتحاد بھی اپنااثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس اتحاد میں کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ اب یہ بات اتحادیوں کو بھی پتہ ہے کہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتے۔کانگریس نے ایسا کیا کیا ہے جس کی بنیاد پر اس کی سیٹیں بڑھنے والی ہیں۔ کانگریس کو جو 100سیٹیں ملی ہیں ان میں اکثر مسلم اکثریت علاقہ ہیں اور وہ تقریبا محفوظ سیٹیں ہیں۔ اب ایسے میں کانگریس کس بنیاد پر اپنا اثر ثابت کر پائے گی۔ سماج وادی پارٹی کا بیس اور بنیادی ووٹ 10 فیصد سی زیادہ نہیں۔ 70 سے 80 فیصد مسلمانوں کے ساتھ اقتدار کی کرسی حاصل کرتی رہی ہے۔ ایسے میں اسے کیوں لگ رہا ہے کہ اس بار مسلمان اسے ووٹ نہیں دیگا۔ اسلئے وہ کانگریس کے راہل گاندھی کے ذریعہ دلت کو اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہیں کہ اس اتحاد کے باوجود سائکل کا محفوظ ووٹ کانگریس کی امیدوار کو جائے گا۔ اگر نہیں تو اس کا فائدہ کسے ملے گا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر سماجوادی پارٹی نے بڑے کام کئے ہیں اور سرکار بھی واضح اکثریت کی ہے تو ایسے میں کسی کے کندھے کی ضرورت کیوں پڑی۔ اس اتحاد سے سائکل اور بی جے پی کا فائدہ تو سمجھ یں آتا ہے لیکن کانگریس کی دلچسپی سمجھ سے پرے ہے۔
گھریلو مشکلوں سے ابھرتی ہوئی بہن کی ہاتھی نے اس بار نہایت ہی مستانی اور لبھاؤنی چال چلی ہے۔ اس بار بی ایس پی نے 103 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ جو باقی تمام پارٹیوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان ٹوٹا اور بکھرا تو تو وہی ہوگا جس سے جمہور سماج میں خوف ہے۔
یہ پروپیگنڈا سمجھ سے پرے ہے کہ یو پی میں بی جے پی کی سرکار بننے سے صرف راہل اور اکھلیش کا اتحاد ہی بچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے کی کوئی بھی لاجک یا وضاحت سمجھ میں نہیں آ رہی اور نہ ہی کوئی سمجھانے کو تیار ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں نے اپنے کالے کارناموں پر پردہ ڈالنے کیلئے اتحاد کا چولا پہن لیا ہے۔ سائکل کی ملایم مینیفیسٹو پر اب تک عمل نہیں اور آنے والا نیا فارمولا بھی واضح نہیں۔
اس بار کا انتخاب ایک ہی مدعی کے ارد گرد گھومتا نظر آ رہا ہے۔بی جے پی کے علاوہ سبھی کی نظر دلت مسلم کے اتحاد پر ہے۔ وہیں بی جے کی پالیسی انتشار کی ہے۔ جتنا بکھراؤ ہوگا کمل کی رہیں اتنی ہی ہموار ہوں گی۔ 92 کے بعد جب مسلم کانگریس سے ٹوٹا ہے۔ سماج وادی کے ساتھ اکثر رہا ہے۔ ابھی راہل کی ریلی سے لوگوں کو لگتا ہے کہ دلت کا رجحان اس شہزادے کی جانب بڑھا ہے کیونکہ کھیت میں پھاوڑا ڈالنے، چھپر کے نیچے ڈال روٹی خانے اور چارپائی پر چرچا کرنے سے لوگوں نے اندازہ لگا لیا ہے کہ اس وقت دلت کی مسیحائی کا تمغہ راہل بھیا کے پاس ہے ۔بس اسی بنیاد پر دلت مسلم اتحاد کے سپنے دن میں ہی دیکھے جا رہے ہیں۔
سچائی کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے۔ ان دونوں ہی پارٹیوں کے پاس نہ تو دلت کا ووٹ بینک ہے اور نہ ہی اب مسلمانوں کی اکثریتی حمایت ہے۔ پچھلی سرکار میں کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے کیا دوبارہ مسلمان غلطی دوہرائے گا۔ وہیں دوسری طرف 22 سے 23 فیصد کا دلت ووٹ بینک بہن جی کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے۔ 103 امیدواروں کی وجہ 18 سے 19 فیصد مسلمانوں کے ووٹ پر ان کی گہری نظر ہے۔ پچھلے انتخاب کے کچھ کاغذی ریکارڈز کے مطابق بی ایس پی کا سماج وادی سے ووٹ تناسب صرف 2 فیصد کم تھا۔ جب کہ مسلمانوں نے پوری اکثریت کے ساتھ سائکل کی سواری کی تھی۔ ایسے میں ہاتھی کی چال بری نہیں۔
بی ایس پی کے پاس ایک اور مثبت پلس پوائنٹ ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی اکثریتی صوفی سنی مسلمانوں کی تنظیم آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ نے بھی بی ایس پی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے ہر مسلم علاقہ سے ووٹوں پر فرق پڑنا یقینی ہے۔ اس کا واضح ثبوت پچھلے دو ہفتوں سے بورڈ کے بانی و صدر سید محمد اشرف کچھوچھوی کے میدان میں کودتے ہی نظر آ گیا۔ سیاسی گلیاروں میں مچی کھلبلی نے اشارہ کر دیا کہ اس بار مسلمان ہاتھی پر سوار ہونے کو تیار ہیں۔ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بھی اپنی مضبوط دعوی داری سے ہاتھی کی چال میں رفتار بھر دی ہے۔ یو پی کے بیسوں ضلعوں میں بورڈ کی شاخ سرگرم ہو گئی ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر پورا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
ان کے مطابق اس بار مسلمانوں کے پاس ایک اختیار بچا ہے وہ یہ کہ ہاتھی پر سوار ہو جائیں۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن کی غلطی دوہرانے کی غلطی نہ کریں۔ کسی کو ہرانے کے چکر میں اتنا غافل نہ ہو جائیں کہ بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ سائکل پر بیٹھے راہل کی وجہ سے اگر کچھ ہونے والا ہوتا تو اس اتحاد کی نوبت ہی نہیں آتی۔
آنے والے دن اور تصویر کا رخ کچھ اور صاف کر دیں گے۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے اچانک میدان میں آنے سے فریب کاری اور دھوکہ دھڑی کی جھوٹی عمارت تو گری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی چھوٹی چھوٹی مسلم پارٹیوں کے درمیان آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ اور سید محمد اشرف کچھوچھوی مسلمانوں کو حکمت عملی اور دور اندیشی سے کتنا اگاہ کر سکتے ہیں۔ البتہ بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا یہ اقدام اب تک سب سے زوردار سیاسی پنچ ہے۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) E-Mail: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385

Monday, January 30, 2017

امیٹھی کے گنہ گار کون ؟ अमेठी के गुनाह गार कौन ?


امیٹھی کے گنہ گار کون ؟
عبد المعید ازہری

دہلی کے بعدیو پی، ہندوستانی سیاست کا دل کہا جاتا ہے۔ اس کا اندازہ موجودہ سماجوادی پارٹی کے گھریلو دنگل اور بی جے پی کے ایڑی چوٹی کے زور سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ یو پی کسی کے بھی سیاسی اقتدار کا فیصلہ کرتا رہا ہے۔ یو پی کا سکندر پورے ملک پر راج کرتا ہے۔ یوں ہی، یو پی کی سیاست امیٹھی سے طے ہوتی ہے۔ بالخصوص کانگریس کی سیاست کا مخرج و مرجع دونوں ہی امیٹھی ہے۔ کانگریس کی بڑی لیڈر شپ اسی زمین کی سیاسی تربیت یافتہ ہے۔ امیٹھی کانگریس کی سیاست کا اٹوٹ حصّہ تھا ہے اور رہے گا. بلکہ پچھلے اسمبلی انتخابات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ امیٹھی کانگریس کی یو پی سیاست کا دل ہے اور وہیں سے اسے ہمت بھروسہ اور طاقت ملتی ہے. یہی وجہ ہے کہ ہر بڑی سیاسی گفتگو امیٹھی کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوتی. یو پی کی سیاست بالخصوص امیٹھی اور رائے بریلی کی سیاست لوہے کے چنے چبانے کی مانند ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب امیٹھی اور رائے بریلی کو بھی لگنے لگا ہے کہ ان کی سیاسی قسمت کا فیصلہ دہلی سے ہوتا ہے۔
بی جے پی کی اسمرتی ایرانی کو جب امیٹھی میں لانچ کیا گیا تھا اور انھیں کانگریس کے شہزادے راہل گاندھی کے مقابلے اسمبلی انتخاب لڑانے کا فیصلہ لیا گیا تو امیٹھی کی تاریخ کو خوب کھودا گیا تھا۔ اس تاریخی کارنامے میں عام آدمی پارٹی سے امیٹھی میں پہلی بار اسمبلی انتخاب کے امیدوار کمار وشواس کا بھی بڑا اہم کردار رہا ہے۔ دونوں ہی نے مل امیٹھی کے لوگوں میں ایک ایسے خوابیدہ امیدیں جگا دی تھیں کہ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ امیٹھی کا ہر بندہ اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ کبھی کمار وشواس تو کبھی اسمرتی ایرانی میں اپنا نیا رہنما دیکھنے لگے تھے۔ ان کی تقریریں سننے کیلئے بڑا ہجوم اکٹھا ہوتا تھا۔ اسی اثناء میں سماج وادی نے بھی ایک نئے شہزادے کو عوام کے سپرد کر دیا۔ اس شہزادے کی محنت اور جذبے نے باقی کو پھیکا ثابت کر دیا۔ جس کی بدولت یو پی کی وزارت اعلی کی گدی ملی۔ حالیہ گھریلو دنگل سے پرے اگر انکی پانچ سال کی کارکردگی کا غیر متعصبانہ جائزہ لیا جائے تو اکثر کا یہی کہنا ہے کہ عین ممکن تھا کہ اکھلیش حکومت پھر سے یو پی میں اقتدار حاصل کرتی۔
اس سیاسی رہنمائی اور وعدہ گوئی کے پس منظر میں ایک دردناک، ہیبت ناک اور نہایت ہی ڈراؤنا اور گھناؤنا حادثہ ابھی حال ہی میں امیٹھی کے مہونا علاقے میں ہوا۔ ایک ہی خاندان کے11 افرادکونہایت ہی بیدردی، بیرحمی اور حیوانی و شیطانی طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ مقتولین میں عورتیں بچے اور جوان سبھی شامل ہیں۔ سب کا گلا تیز اوزار سے کاٹا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کو مار کر گلے میں پھندا لگا کر چھت سے لٹکا دیا گیا تھا۔ اس گھر کی ایک اکیلی عورت اور ایک لڑکی جو اس رات اسی گھر میں سوئی تھی، بچی ہوئی ہے جو زخمی ہے اور اسپتال میں داخل علاج ہے۔پورے علاقے میں وحشت و دہشت کا ماحول ہے۔ کوئی بھی یقینی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی چہ می گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ عجیب طرح کی اٹکل بازیوں کا بازار گرم ہے۔ ڈر کے ساتھ حیرت و استجاب میں روزانہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غم و غصہ کا اظہار بھی کہیں کہیں ہو رہا۔ کچھ اندازہ بازیوں سے جذبات مجروح ہونے کی بنا پر تشدد بھی ہو رہا ہے۔
یہ واقعہ مہونا گاؤں کے جمال الدین اور اس کے خاندان کا ہے۔جمال الدین (جمالو)مہونا کے ایک چھوٹے سے گاؤں پورے بہول کا باشندہ تھا۔ مہونا خاص میں اس کی بیٹری اور رسوئی گیس کی دوکان تھی۔ جسے وہ خود اور اس کے دو لڑکے چلاتے تھے۔گھر میں عورتیں مقامی بچوں کو پڑھاتی بھی تھیں۔ یہ ایک عام بات ہے۔ اکثر جو عورتیں عربی پڑھے ہوئے ہوتی ہیں وہ مقامی بچوں کو خاص طور پر بچیوں کو مفت تعلیم دیتی ہیں۔ جس رات قتل ہوا اس کی صبح گاؤں کے کچھ بچے جب جمالو کے گھر پر پڑھنے کیلئے آئے تو پتہ چلا کہ پورا گھر موت کی نیند سو رہا ہے۔گھر کے 11افراد کی رات آخری رات ہوگئی تھی۔ وہ بھی نہایت ہی دردناک اور ہیبت ناک رات۔
مقامی پولیس کے مطابق اس پورے قتل کا ذمہ دار خاندان کا مکھیا خود جمال الدین ہے۔ پولس کی طرف سے دئے گئے بیان کے مطابق جمال الدین نے غریبی سے تنگ آ کر خود ہی اپنے پورے خاندان کو قتل کرنے کی بڑی سازش رچی تھی۔ پہلے اس نے گھر کی تمام عورتوں کو نشہ آور دوا پلایا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے خاندان کے جملہ افراد کو قتل کیا۔پھر خود کو پھانسی لگا لی۔ مقتولین میں اس کی تین بیٹیاں، بھائی کی بیوہ، اس کی تین بیٹیاں، انکے ایک گمشدہ بھائی کی بیوی، اور اس کی دو بیٹیاں شامل ہیں۔ جمال الدین اور اس کی ایک بیٹی بچ گئی تھی کیونکہ وہ کمرہ بند کر کے سوئی تھیں۔ اس کے دہ بیٹے بھی بچ گئے ہیں۔ کیوں کہ وہ دوکان میں سوئے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق اس بات کی جانکاری خود جمال الدین کی پچیس سال کے بیٹی نے ہوش میں آنے کے بعد دی ہے۔
پولیس کے اس بیان پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اس بڑے پیمانے پر بہیمانہ قتل کی چھوٹی یا بڑی تفتیش کے بغیر پولیس اور میڈیا کا یہ بیان نہایت ہی تکلف دہ ہے۔
ویسے جمال الدین کے گھر دیر رات آئی ایک کار، بجلی ہونے کے باوجود جنریٹر چلانے کی ضرورت، خود جمال الدین اگر قاتل ہے تو اس کے جسم پر ایک بھی خون کے دھبے نہ ہونا، گھر کے پیچھے خون میں سنے ہوئے جوتوں کا ملنا، چھٹ سے لٹکنے کیلئے نیچے کسی بھی ٹیبل یا اونچی چیز کا نہ ہونا، پھندے پر لٹکے ہوئے جمال الدین کے پیر سے چپل تک نہ گرنا جیسی کیفیات کچھ اور ہی بیان کر رہی ہیں۔
گاؤں کے پردھان اور دیگر لوگن کے مطابق جمال الدین نہایت ہی سلجھا ہوا، سیدھا اور خاندان کا خیال رکھنے والا شخص تھا۔ وو اتنا غریب بھی نہیں تھا کہ فاقہ کشی اور مفلسی کے چلتے اتنے لوگوں کی جان لے لے۔ کچھ اور بھی بڑے سوال ہیں جن کا جواب اب تک لوگوں کو نہیں ملا ہے۔ جیسے اگر جمال الدین کی گھر کے سبھی افراد کو مارنا ہی تھا اور اس نے نشے کی دوا بھی پلائی تھی تو اس نے زہر کا استمعال کیوں نہیں کیا؟ اس کے علاوہ گھر سے کسی بھی طرح کی دوا ،شیشی،ٹیبلٹ یا اس کے کچھ نشان ملنے کی کوئی خبر نہیں۔ اتنے لوگوں کا قتل ہوا اور اس کی اتنی بڑی سازش رچی گئی لیکن گاؤں کیا پڑوسی کو بھی کانوں کا خبر نہیں ہوئی۔ گھر کے کسی بھی فرد نے نوٹس نہیں دیا۔ جمال الدین نے اکیلے اتنے بڑے حادثے کو انجام دیاتو اس کی تیاری بھی کی ہوگی۔ لیکن کسی کہ ذرا سا بھی شک نہیں ہوا۔ اگر فاقہ کشی سے یہ واقعہ انجام دیا گیا ہے تو جمالو پر اس کے اثرات اس سے پہلے بھی آئے ہوں گے۔ لیکن کسی نے اس بات شکایت نہیں کی۔ کوئی چیکھنے چلانے کی بھی آواز نہیں آئی۔ جمال الدین کے اوپر بھائی کی بیوہ کو بھی قتل کا الزام ہے۔ جمالو کی جسمانی حالات دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ وہ ایسا کر پائے گا۔ مقامی لو گوں کے مطابق گھر سے کچھ کاغذات ملے ہیں جس کے بارے میں پولیس چھپا رہی ہے۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب سبھی کو چاہئے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اتنے لوگوں کا قتل ہوا لیکن کسی نے بھی مزاحمت نہیں کی۔ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ سب ایک ہی جگہ بالکل ایک دوسرے سے ملے ہوئے سو رہے تھے۔ لاشیں بھی بالکل ویسے ہی ملی ہیں۔
پولیس اور میڈیا کا قبل از وقت اور بنا تفتیش کے خود مقتول جمال الدین کو ہی مورد الزام ٹھہرانا خود میں ایک سوال ہے۔ پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ کا ماحول ہے۔ امیٹھی کو اپنا گھر کہنے والے ، پورے ملک میں گھوم گھوم کر چارپائی پر چرچہ کرنے والے امیٹھی سے موجودہ ممبر پارلیامنٹ اور کانگریس کی جنرل سیکرٹری راہول گاندھی سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اتنا بڑا حادثہ ہو گیا اور ابھی تک اس کی کوئی حال خبر نہیں لی گئی۔ نہ ہی دیکھنے آئے، نہ کسی کو بھیجا نہ ہی کوئی بیان دیا۔ امیٹھی گاؤں میں کسی کے گھر پر ڈال چاول کھانے کی سیاست کرنے والے کو آج اپنے علاقے کی خبر گیری کی فرصت نہیں ہے۔ امیٹھی میں اپنے خاندان کی خدمات کی یاد دہانی کرا کر امیٹھی کی عوام کو جذبانی بنانے والی پرینکا گاندھی بھی خاموش ہیں۔ انتخاب کے دوران امیٹھی کی تاریخ بدلنے کا دعوی کرنے والی اسمرتی ایرانی کی بھی زبان نہیں کھل رہی۔ کمار وشواس کا طنز اور ان کی تنقیدی شاعری بھی سو رہی ہے۔ اپنے آپ کو دلتوں کا مسیحا کہنے والی مایا اور مسلم کے ہمدرد ملایم سبھی خواب استراحت میں ہیں۔ کیونکہ یہ معاملہ ایک عام آدمی ہے۔ اپنے وزیر کی بھینس کو بھی کھوجنے کیلئے پولیس تعینات کرنے والی یو پی حکومت نے بھی کان بند کر رکھے ہیں۔ لمبی ٹوپی، سعودی رومال اور سفید کرتا پہن کر مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے والے یو پی کے مکھیا اکھلیش بھی آج چپ ہیں۔ اتنے بڑے حادثے کو کوئی اہمیت نہیں۔ اس کے بر عکس پولیس اور میڈیا اپنے اپنے اندازے سے فیصلہ سنانے کی روایت پر عمل کر رہے ہیں۔
ابھی کچھ ہی مہینہ قبل یو پی ہی کے بدایوں کا ایک نجیب JNUسے دین دہاڑے غایب کر دیا جاتا ہے۔ پولیس کو اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ ایک ہی گھر کے 11لوگوں کا قتل ہو گیا پولیس کو ابھی بھی کچھ معلوم نہیں۔ دونوں ہی کیسوں میں خود مظلوموں ہی کو مورد الزام ٹھہرانے کی بے شرمی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
یہ ہمارے موجودہ دور کی سیاست ہے اور یہی ہمارے ملک کی ترقی کی راہ بھی ہے۔ یہ سوال ہر ہندوستانی سے ہے۔ کیا یہی خواب تھا ملک کیلئے جان دینے والے مجاہدوں کا؟ کیا یسی لئے ماؤں نے اپنی کوھیوں سونی کرلی تھیں؟ عورتوں نے چوڑیاں پھوڑی تھیں؟ بزرگوں نے اپنے سہارے لٹا دئے تھے؟ تاکہ آنے والا وقت انصاف کا ہو آزادی کا ہو۔کیا اب بھی ہم نہیں جاگیں گے؟ ایک ذمہ دار شہری ہم کب بنیں گے؟ آنے والے انتخابات میں یا عام آدمی کی موتوں کا کوئی اثر ہوگا؟یہ سوال امیٹھی کے ہر انسان کا ہے ۔ امیٹھی کا گنہ گار کون ہے؟
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) E-Mail: abdulmoid07@gmail.com, Contact:9582859385