Showing posts with label EyesOnMuslims. Show all posts
Showing posts with label EyesOnMuslims. Show all posts

Sunday, April 29, 2018

فتووں کی سیاست Politics of Fatwasफतवों की राजनीती


مسلمانوں میں بیداری ہی فتووں کی سیاست کو دور کرے گی 
عبد المعید ازہری

’فتویٰ‘کا مطلب مذہب کی بنا پر دی جا نے والی رائے، ذاتی مشورہ اور خود کی دینی و شرعی معلومات کی بنیاد پر نجی خیال ہے ۔ یہ نہ تو فرض ،نہ لازمی اور نہ ہی حکم نامہ ہے ۔حالانکہ اس سے اس طرح اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ خلافت امامت کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد استفتاء ہی ایک ایسی صورت بچی جو شرعی احکام کے اظہار و فروغ کا ذریعہ ہے۔فرق اتنا ہے کہ قرآنی اور شرعی احکام کسی سوال کا محتاج نہیں ہوتے البتہ فتوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ پوچھے جانے کے بعد ہی صادر ہوتے ہیں۔ فتوے کی صورتیں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ موقعہ و مناسبت اور نیت و ارادہ کے اظہار پر مسائل میں رد و بدل ہوتے رہتے ہیں۔لیکن موجودہ دور میں فتووں کا استعمال شرعی احکام سے واقفیت سے زیادہ ذاتی موقف کی تائید و حمایت ہوتی جا رہی ہے۔یہاں تک کہ اب فتووں کی قیمت لگتی ہے اور ان کا سودا ہوتا ہے۔رنگ نسل، عہدہ منصب، رعب و دولت کے اعتبار سے فتوے بازار میں مل جاتے ہیں۔ جب سے ملک کے متعدددارالعلوم سے آن لائن فتووں کا سلسلہ شروع ہوا ہے، تب سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد فتوے جا ری ہو چکے ہیں۔ جن میں پولیو ڈراپ ، عرب میں عورتوں کے فٹبال میچ نہ دیکھنے یا ناول نہ پڑھنے ، ثانیہ مرزا کے لباس، مکمل باڈی کے اسکین جیسے موضوعات پر صادر کئے گئے فتوے شامل ہیں۔ ایک طرف ہم ڈیجیٹل ہو رہے ہیں،ترقی کا نظام تکنیکی اور ٹیکنالوجی والا ہوتا جا رہا ہے اور دوسری طرف ذاتی دلچسپی، نجی مخاصمت اور مسلکی تعصب پر تھوپے جانے والے فتووں کی وجہ سے گمرہی بھی جھیل رہے ہیں ۔
حال ہی میں تازہ فتویٰ جاری کیا گیا ہے کہ بینکر سے شادی نہ کریں کیونکہ اسلام میں سود خوری حرام ہے ۔ اکثر مسلمان اس فتوے کولے کر کسمکش میں ہیں کیونکہ آج کے دور میں کس سماج کے اکاؤنٹ بینک میں نہیں ہے ۔انسٹال منٹ میں خریداری، پیشگی رقم لینے، اور رقم جمع کرنے کے لئے طے شدہ رقم کی لین دین عام ہے۔ بدلتے وقت میں بیداری کی روشنی اونچے،درمیانی اور نچلے طبقے تک پہنچ رہی ہے۔ اس لیے ’’تین طلاق‘‘ کا معاملہ گاؤں ،قصبوں سے آ رہا ہے ۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ طلاق اور بینکنگ جیسے اہم موضوعات پر عوامی فتوے صادر کرنے سے پہلے ان موعوضات کے مختلف پہلووں پر خاطر خواہ گیرائی اور گہرائی سے نظر ڈال حالات اور ضروریات کے پیش نظر شرعی نقطہ نظر کی جملہ گنجائشوں اور مصلحتوں پر نظر ڈال لی جائے۔
یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں یہ سوچ بڑھتی جا رہی ہے کہ فتوں کی سیا ست ان کی روز مرہ کی زندگی اور پوری جماعت کی ترقی کے آڑے آ رہی ہے ۔لوگوں کا یقین ان وجوہات کی بنا پر فتوں سے ہٹتا جا رہا ہے۔ شاید اسی کے مد نظر سعودی عرب کی حکومت نے اعتدال پسند نظریہ اپنا کر عورتوں کو گاڑی چلانے اور اسٹیڈیم میں میچ کھیلنے کی اجازت دی۔ اکیسویں صدی کے اس دور میں قدیم روایتوں کی پاسداری کے ساتھ دور حاضر کے جدید مسائل اور تقاضوں کے ساتھ حالات و ضروریات کے پیش نظرتطبیقی صورتیں نکالنا نہایت ہی ضروری ہے۔
ہندوستان میں قائم ہزاروں دارالافتاء اور کئی ہزار مفتیان کرام کی علمی صلاحیت اور زمانہ کی واقفیت کے ساتھ انسانی زندگی کے زندہ تجربوں کے میزان پر اگر ان کی اہلیت رکھی جائے تو آنکھیں کھل جائیں گی۔ ساری دکانیں یکسر بند کرنی پڑیں گی۔ کیا ضروری ہے کہ مفتی اور دارالافتاء کے بعد ہی مسائل بتائے جائیں۔ایک اور ڈگری کی دھونس جمانے، عوام کو اور مرعوب کرنے اور نظرانے میں مزید سودے کے امکانات بڑھانے اور ادارہ کو منفرد بنانے کے لئے افتاکورس کی تعلیم شروع کرنے کی ریا کاریوں نے فتوے کی اصل شرعی حیثیت کو ختم کرنے کا گناہ عظیم کیا ہے۔اس کا جواب کون دے گا۔جب خواص کے پاس مسائل کا حل نہیں ہوتا تو عوام کی اپنی مصلحت ہی واحد حل بن جاتی ہے۔ پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ جائز کو نا جائز اور حرام کو حلال کیا جائے۔اہل علم و دانش کی خاموشی ایسا جرم عظیم ہے کہ اس کا کفارہ آج قوم ذلت و رسوائی اور پستی و پسپائی کو مقدر بنا کر چکا رہی ہے۔آنے ولی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔


Abdul Moid Azhari

(Journalist, Translator, Motivational Speaker/Writer)
                          +919582859385

@@---Save Water, Tree and Girl Child Save the World---@@

Saturday, February 11, 2017

UP Assembly Election 2017 Dalits and Muslims یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز


یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز

عبد المعید ازہری

یہ موجودہ سیاست کی ناکامی ہے یا سیاست دانوں کی نا اہلی ہے کہ سیاست کا با ضابطہ تعمیر ترقی کا خاکہ تعصب اور بے ایمانی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے انتخابات کیلئے پیسہ، پاور اور ظلم و زیادتی لازم ہوتے جا رہے ہیں۔ دنگے اور فرقہ وارانہ فسادات کسی بھی انتخابی مہم کا اہم حصّہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اشتعال انگیز تقریریں، جذبات کو مجروح کرنے اور انھیں ابھارنے والے بیانات و تحریریں، نفرت و تشدد کا پروپیگنڈا، لالچ، مکر و فریب اور بلیک میلنگ جیسے فتنہ پرور افکار و نظریات موجودہ سیاست کے مینوفیسٹو میں شامل ہیں۔ ایسے میں شرافت، ایمانداری اور دیانت داری اپنے دامن کو بچاتے پھر رہے ہیں۔ تعمیر و ترقی کی مسدود راہیں مزید بے چینی کا شکار ہو رہی ہیں۔ سیاسی معیار اتنا گرتا جا رہا ہے کہ کوئی بھی اسے سنبھالنے میں جھجھک محسوس کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے استحصالی رویہ کا شکار مسلم قوم اب اپنے وطن میں بھی مظلوم ہوتی جا رہی ہے۔
یو پی اسمبلی انتخاب کا بگل بج چکا ہے۔ دام و فریب اپنے شباب پر ہے۔ شکاری اپنے نئے جال کے ساتھ تیار ہیں۔ برساتی مینڈک بھی میدان میں ہیں۔ کچھ پرانے تیر بھی آزمائے جا رہے ہیں۔ سب کا ہدف قوم مسلم ہے۔ سب کی توجہ کا مرکز صرف مسلمان ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کو بھی ان کی پرواہ نہیں ہے۔ کوئی حب علی میں ہے تو کوئی بغض معاویہ میں ۔کچھ یزید اور ابو جھل بھی ہیں۔ عین انتخاب کے دن تک سیاسی بازیگری چلتی رہے گی۔ کسی سے اتحاد تو کسی سے بغاوت کا وقتی اور فریبی کھیل کھیلا جائے گا۔ کچھ پتے ابھی بھی کھلنے باقی ہیں۔ کچھ اپنا کام چکے ہے اور کچھ کر رہے ہیں۔
بہن جی کی پارٹی اپنی داخلہ پریشانیوں سے ابھرتی نظر آ رہا ہے۔سائکل اور پنجے کا ڈرامائی اتحاد بھی اپنااثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس اتحاد میں کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ اب یہ بات اتحادیوں کو بھی پتہ ہے کہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتے۔کانگریس نے ایسا کیا کیا ہے جس کی بنیاد پر اس کی سیٹیں بڑھنے والی ہیں۔ کانگریس کو جو 100سیٹیں ملی ہیں ان میں اکثر مسلم اکثریت علاقہ ہیں اور وہ تقریبا محفوظ سیٹیں ہیں۔ اب ایسے میں کانگریس کس بنیاد پر اپنا اثر ثابت کر پائے گی۔ سماج وادی پارٹی کا بیس اور بنیادی ووٹ 10 فیصد سی زیادہ نہیں۔ 70 سے 80 فیصد مسلمانوں کے ساتھ اقتدار کی کرسی حاصل کرتی رہی ہے۔ ایسے میں اسے کیوں لگ رہا ہے کہ اس بار مسلمان اسے ووٹ نہیں دیگا۔ اسلئے وہ کانگریس کے راہل گاندھی کے ذریعہ دلت کو اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہیں کہ اس اتحاد کے باوجود سائکل کا محفوظ ووٹ کانگریس کی امیدوار کو جائے گا۔ اگر نہیں تو اس کا فائدہ کسے ملے گا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر سماجوادی پارٹی نے بڑے کام کئے ہیں اور سرکار بھی واضح اکثریت کی ہے تو ایسے میں کسی کے کندھے کی ضرورت کیوں پڑی۔ اس اتحاد سے سائکل اور بی جے پی کا فائدہ تو سمجھ یں آتا ہے لیکن کانگریس کی دلچسپی سمجھ سے پرے ہے۔
گھریلو مشکلوں سے ابھرتی ہوئی بہن کی ہاتھی نے اس بار نہایت ہی مستانی اور لبھاؤنی چال چلی ہے۔ اس بار بی ایس پی نے 103 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ جو باقی تمام پارٹیوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان ٹوٹا اور بکھرا تو تو وہی ہوگا جس سے جمہور سماج میں خوف ہے۔
یہ پروپیگنڈا سمجھ سے پرے ہے کہ یو پی میں بی جے پی کی سرکار بننے سے صرف راہل اور اکھلیش کا اتحاد ہی بچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے کی کوئی بھی لاجک یا وضاحت سمجھ میں نہیں آ رہی اور نہ ہی کوئی سمجھانے کو تیار ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں نے اپنے کالے کارناموں پر پردہ ڈالنے کیلئے اتحاد کا چولا پہن لیا ہے۔ سائکل کی ملایم مینیفیسٹو پر اب تک عمل نہیں اور آنے والا نیا فارمولا بھی واضح نہیں۔
اس بار کا انتخاب ایک ہی مدعی کے ارد گرد گھومتا نظر آ رہا ہے۔بی جے پی کے علاوہ سبھی کی نظر دلت مسلم کے اتحاد پر ہے۔ وہیں بی جے کی پالیسی انتشار کی ہے۔ جتنا بکھراؤ ہوگا کمل کی رہیں اتنی ہی ہموار ہوں گی۔ 92 کے بعد جب مسلم کانگریس سے ٹوٹا ہے۔ سماج وادی کے ساتھ اکثر رہا ہے۔ ابھی راہل کی ریلی سے لوگوں کو لگتا ہے کہ دلت کا رجحان اس شہزادے کی جانب بڑھا ہے کیونکہ کھیت میں پھاوڑا ڈالنے، چھپر کے نیچے ڈال روٹی خانے اور چارپائی پر چرچا کرنے سے لوگوں نے اندازہ لگا لیا ہے کہ اس وقت دلت کی مسیحائی کا تمغہ راہل بھیا کے پاس ہے ۔بس اسی بنیاد پر دلت مسلم اتحاد کے سپنے دن میں ہی دیکھے جا رہے ہیں۔
سچائی کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے۔ ان دونوں ہی پارٹیوں کے پاس نہ تو دلت کا ووٹ بینک ہے اور نہ ہی اب مسلمانوں کی اکثریتی حمایت ہے۔ پچھلی سرکار میں کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے کیا دوبارہ مسلمان غلطی دوہرائے گا۔ وہیں دوسری طرف 22 سے 23 فیصد کا دلت ووٹ بینک بہن جی کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے۔ 103 امیدواروں کی وجہ 18 سے 19 فیصد مسلمانوں کے ووٹ پر ان کی گہری نظر ہے۔ پچھلے انتخاب کے کچھ کاغذی ریکارڈز کے مطابق بی ایس پی کا سماج وادی سے ووٹ تناسب صرف 2 فیصد کم تھا۔ جب کہ مسلمانوں نے پوری اکثریت کے ساتھ سائکل کی سواری کی تھی۔ ایسے میں ہاتھی کی چال بری نہیں۔
بی ایس پی کے پاس ایک اور مثبت پلس پوائنٹ ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی اکثریتی صوفی سنی مسلمانوں کی تنظیم آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ نے بھی بی ایس پی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے ہر مسلم علاقہ سے ووٹوں پر فرق پڑنا یقینی ہے۔ اس کا واضح ثبوت پچھلے دو ہفتوں سے بورڈ کے بانی و صدر سید محمد اشرف کچھوچھوی کے میدان میں کودتے ہی نظر آ گیا۔ سیاسی گلیاروں میں مچی کھلبلی نے اشارہ کر دیا کہ اس بار مسلمان ہاتھی پر سوار ہونے کو تیار ہیں۔ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بھی اپنی مضبوط دعوی داری سے ہاتھی کی چال میں رفتار بھر دی ہے۔ یو پی کے بیسوں ضلعوں میں بورڈ کی شاخ سرگرم ہو گئی ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر پورا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
ان کے مطابق اس بار مسلمانوں کے پاس ایک اختیار بچا ہے وہ یہ کہ ہاتھی پر سوار ہو جائیں۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن کی غلطی دوہرانے کی غلطی نہ کریں۔ کسی کو ہرانے کے چکر میں اتنا غافل نہ ہو جائیں کہ بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ سائکل پر بیٹھے راہل کی وجہ سے اگر کچھ ہونے والا ہوتا تو اس اتحاد کی نوبت ہی نہیں آتی۔
آنے والے دن اور تصویر کا رخ کچھ اور صاف کر دیں گے۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے اچانک میدان میں آنے سے فریب کاری اور دھوکہ دھڑی کی جھوٹی عمارت تو گری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی چھوٹی چھوٹی مسلم پارٹیوں کے درمیان آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ اور سید محمد اشرف کچھوچھوی مسلمانوں کو حکمت عملی اور دور اندیشی سے کتنا اگاہ کر سکتے ہیں۔ البتہ بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا یہ اقدام اب تک سب سے زوردار سیاسی پنچ ہے۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) E-Mail: abdulmoid07@gmail.com, Contact: 9582859385